جی بی پنتھ ہسپتال میں نوزائیدہ بچی کی موت

تحقیقاتی ٹیم کو48گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت 

 
سرینگر //جی پی پنتھ سرینگر میں اسپتال زیر علاج نوزائیدہ بچی کی مبینہ طور غفلت شعاری کی وجہ سے لقمہ اجل بن گئی۔ ادھر ہسپتال انتظامیہ نے معاملہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ کریری بارہمولہ سے تعلق رکھنے والے افراد خانہ کاالزام ہے کہ جی بی پنتھ میں موجود عملہ نے بلوئور(بجلی پر چلنے والاہیٹر) کو بچی کے بہت قریب رکھا تھا جس اس کی ٹانگ اور بازو بری طرح جھلس گئے جو بعد میں موت کا سبب بن گیا۔بچی کے گھر والوں کے مطابق وہ محض 5دن کی تھی اور اُس نے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں جنم لیاتھا اور علاج کیلئے ڈاکٹروںنے اسے جی بی پنتھ منتقل کیا تھا۔بچی کو جب یکم فروری کو ہسپتال میں داخل کیا گیاتو اُسے علاج ومعالجہ کیلئے انتہائی نگہداشت وارلے وارڈ میں علاج و معالجہ کے لئے داخل کیا گیا ۔افراد خانہ کے مطابق جب انہوں نے اتوار کو آئی سی یو میں اپنی بچی کو دیکھا تو اُس کا سارا جسم سرخ ہوچکا تھا ۔ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے بچی پہلے سے ہی شدید بیمار تھی ۔ادھر انتظامیہ نے اس حوالے سے ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی اور اُن سے کہا گیا ہے کہ وہ 48گھنٹوں میں اپنی رپورٹ حکام کو پیش کریں ۔انتظامیہ نے تحقیقات کیلئے جو 5رکنی تحقیقاتی ٹیم مقرر کی ہے اُس کی سربراہی ایسو سی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر پرویز احمد کر رہے ہیں جبکہ ڈاکٹرشفاعت احمد ٹاک ،ڈاکٹر روندر کمار ، ڈپٹی میڈیکل سپرڈنڈنٹ محمد مظفر اور ڈاکٹر بسمہ خان شامل ہیں ۔