جی ایم سی اننت ناگ میں پیچیدہ جراحی ۔ 29سالہ مریض کے گلے سے ٹیومر نکالاگیا

 پرویز احمد

سرینگر //جی ایم سی اننت ناگ میں ڈاکٹروں نے ایک 29سالہ خاتون کے سراورگردن کے درمیان موجود نلی سے ٹیومر باہر نکال کر انوکھی جراحی انجام دی ہے۔بدھ کوکی گئی اس جراحی کے دوران سر اور گرد ن کے درمیان موجود خالی نلی میں موجود ٹیومر کو 2گھنٹوں کی سخت مشقت کے بعد باہر نکالا گیا ۔جراحی انجام دینے والے ڈاکٹروں نے بتایا کہ جراحی کافی مشکل تھی کیونکہ کسی نجی کلنک کے ڈاکٹروں نے غلط جراحی کرکے معاملے کو الجھا دیا تھا اور مریضہ کے گلے سے غددد نکالنے تھے۔ جراحی کرنے والی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر عامر یوسف نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’3 ہفتہ قبل ہمارے پاس 29سالہ خاتون آئی جس کے گلے میں ورم تھا اور اس ورم کو ایک نجی کلنک کے ڈاکٹروں نے گلے میں موجود ٹانسل کا ورم قرار دیکر جراحی کرکے ٹانسل کو باہر نکالنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن مریضہ کے گلے کا ورم نہیں گیا ۔ڈاکٹر عامرکا کہنا تھا کہ مریض 3ہفتہ قبل جی ایم سی اننت ناگ میں داخل کیا کیا گیا اورمعائنہ کے بعد ڈاکٹروں کو اندازہ ہوگیا کہ مریضہ کے گلے میں ٹانسل نہیں بلکہ ٹیومر ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ ٹیومر کا پتہ لگانے کیلئے سی ٹی کرایا گیاجس میں انتہائی پیچیدہ جگہ یعنی گلے اور سرکے درمیان خالی پڑی نالی میں ٹیومر کی تصدیق ہوئی۔ ڈاکٹر عامر کا کہنا تھا کہ پہلی جراحی کے زخم ابھی تازہ تھے، ایسی صورتحال میں کم چیرہ دینا اور خون کے زیاں کو روکنا ترجیحات میں تھا۔ ڈاکٹر عمر نے بتایا کہ بدھ کو جراحی کر کے 5سینٹی میٹر ٹیومر کو باہر نکالاگیا اور اب مریضہ صحتیاب ہورہی ہے۔ڈاکٹر عامر یوسف نے بتایا کہ سراور گردن کے ٹیومر صرف 0.5فیصد لوگوں کو ہوتا ہے۔جراحی کرنے والی ٹیم میں سینئر ریڈولوجسٹ ڈاکٹر اویس حمید ڈار، ڈاکٹر سائقہ شفیع، ڈاکٹر مبشر اور ڈاکٹر انجم شمیم جبکہ شعبہ ای این ٹی میں پروفیسر سجاد محمد قاضی کی قیادت میں اب متواتر طور پر جدید اور سخت ترین جراحیاں انجام دی جارہی ہیں۔