جی ایس ٹی کو لیکرریاستی سرکار مخمصے میں، معاملہ گلے کی ہڈی بن گیا

سرینگر//جی ایس ٹی لاگو کرنے کے خلاف تجارتی و صنعتی انجمنوں نے17جون کو کشمیر بند اور اسمبلی گھیرائو کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کی مالی اور سیاسی خود مختاری کو کسی بھی صورت میں دائو پر نہیں لگایا جائے گا۔کشمیر اکنامک الائنس،کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن اور کشمیر چیمبر آف کامرس ایند انڈسٹریز نے سخت خدشات کا اظہار کرتے ہوئے سرکار سے اپنی پالیسی صاف کرنے کا مطالبہ کیا۔جی ایس ٹی پرتاجر اور کاروباری طبقہ سیخ پا ہوگیا ہے اور خصوصی اسمبلی اجلاس کے روز ہی ہڑتال کا اعلان کرکے اسمبلی کے گھیرائو کی کال  دی گئی ہے۔کشمیر اکنامک الائنس نے’’جی ایس ٹی‘‘ کو خصوصی اسمبلی سیشن کے دوران منظوری دینے کے خلاف17جون کو اسمبلی گھیرائو کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی سیاسی اور مالی خود مختاری پر ضرب لگانے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنا دیا جائے گا۔  الائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمد ڈار نے بتایا کہ ایک منصوبے کے تحت مخلوط سرکار کشمیر میں’’جی ایس ٹی‘‘ کولاگو کر رہی ہے تاکہ ریاستی عام بالخصوص وادی کے لوگوں کو دہلی کے سامنے کشکول اٹھانے پر مجبور کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ ہیت میں جی ایس ٹی کو لاگو کرنا زہر ناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ریاستی مخلوط سرکار  اب تک وہ خد شات دور کرنے میں بھی ناکام ہوگئی جو تاجروں اور کشمیری عوام نے اس سلسلے میں ظاہرکئے ہیں۔انہوں نے تاجروں اور صنعت کاروں کے علاوہ عام لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے کو سر سری نہ لیں،بلکہ حکومت کے اس فیصلے کے خلاف مزاحمت کریںجس سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو زک پہنچانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ۔ کشمیر اکنامک الائنس نے تمام تاجروں سے اپیل کی کہ وہ17جون کو پریس کالونی میں جمع ہوجائے جہاں سے اسمبلی کے مجوزہ اجلاس کے دوران گھیرائو کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس احتجاج میں دکاندار،شکارہ بان و مالکاں،سیاحت سے جڑے تاجر،ٹرانسپورٹر،ٹھکیداراں،دوا فروش اور مٹن ڈیلرس شامل ہونگے۔کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن دھڑے کے صدر بشیر احمد راتھر نے کہا ہے کہ ’’جی ایس ٹی‘‘ کو ریاست میں نافذ کرنے سے جموں کشمیر کی آئینی اور مالی حیثیت کو زخ پہنچنے کا احتمال ہیں۔ہنگامی اجلاس کے دوران یہ محسوس کیا گیا کہ دفعہ370کو کسی بھی صورت میں کمزور نہیں ہونے دیا جائیگا۔انہوںنے بتایا کہ تاجروں کے تحفظات اور خدشات کو مد نظر رکھتے ہوئے17جون کو مکمل ہڑتال کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔اس دوران کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز  نے کہا ہے کہ جی ایس ٹی کو لاگر کرنے سے ریاست میں مالی خود اختیاری سے محروم کریں گی اور ریاست کے مالی معاملات میں ریاست کا اختیار بھی محدود ہوگا۔ چیمبر کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ اور وزیر خزانہ کے ساتھ میٹنگ کے دوران چیمبر کے صدر مشتاق احمد وانی نے  جموں کشمیر میں’’ جی ایس ٹی‘‘ کو لاگو کرنے کے خلاف مزاحمتی کا اظہار کیا۔انہوں نے بتایا کہ اس قسم کے قانون جموں کشمیر میں لاگو کرنے سے خصوصی حیثیٹ اور دفعہ370کو بھی زک پہنچے کا احتمال ہے۔مشتاق احمد وانی نے میٹنگوں میں واضح کیا کہ موجودہ صورت میں جی ایس ٹی کسی بھی طرح منظور نہیں اور اس کے خلاف آواز بلند کی جائے گی۔