جی ایس ٹی کا شاخسانہ۔۔۔ریاستی سرکار کیلئے 15دن کا وقت

سرینگر //کشمیر کی گھریلو دستکاریوں پر جی ایس ٹی کے نفاذ کے خلاف انوکھا احتجاج کرتے ہوئے دستکاروں نے ’’چرکھے‘‘ کوکندوں پر اٹھاکر جنازہ اٹھانے کی علامت ظاہر کی ہے۔ گھریلو دستکاریوں سے جڑے افرادنے حکومت کو 15دنوں کاالٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت نے 15دنوں کے اندر جی ایس ٹی واپس نہیں لیا تو  3لاکھ 50ہزار دستکار سڑکوں پر آکر احتجاج کریں گے۔ سرینگر کے پرتاب پارک میں ایک احتجاجی دھرنے کے دوران مختلف دستکاریوں سے جڑے افراد نے بتایا کہ جی ایس ٹی کشمیر کی گھریلو دستکاریوں کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گا۔ احتجاجی دھرنے پر بیٹھے دستکار وں نے ہاتھوں میں پیلے کارڈ اٹھارکھے تھے جن پر جی ایس ٹی مخالف نعرے درج تھے۔ احتجاجی ہنر مند دستکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر آرٹیزنز ری  ہیبلیٹیشن فورم  پرویز احمد بٹ نے بتایا کہ  3لاکھ 50 ہزار کنبے کشمیر کی مختلف گھریلو دستکاریوں سے جڑے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر پہلے سے ہی مندی کا مار جھیل رہی کشمیری دستکاریوں پر حکومت نے جی ایس ٹی عائد کرکے لاکھوں افراد کو فاقہ کشی کی صورتحال پر لاکھڑا کیا ہے۔  پرویز احمد نے بتایا کہ پچھلے ایک ماہ کے زائد عرصے سے کشمیری دستکاروں کی طرف سے بنائی گئی چیزوں کی خرید وفروخت بند ہے ۔ پرویز احمد نے بتایا کہ شال بافی، قالین بافی اور پیپر ماشی کے علاوہ دیگر دستکاریوں  پر 12سے 18فیصد تک جی ایس ٹی نافذ کیا گیا ہے جو کشمیر کی گھریلو دستکاریوں کیلئے آخری کیل ثابت ہوسکتا ہے۔ سی پی سی کے ریجنل ممبر اور کشمیری گھریلو دستکاریوں کے معروف تاجر عاشق شیخ نے بتایا ’’ جونہی ہم نے احتجاج پر جاننے کا اعلان کیا تو حکومت نے ہمیں بات چیت کیلئے بلایا ۔‘‘ شیخ عاشق نے بتایا کہ وزیر خزانہ نے ہم سے پہلے وعدہ کیا تھا کہ کشمیر کی گھریلو دستکاریوں کو جی ایس ٹی سے مشتثنیٰ رکھا گیا ہے تاہم  یہ بات سامنے آئی کہ دستکاریوں پر 12سے 18فیصد تک جی ایس ٹی لاگو ہوگا جو کسی بھی دستکار کو قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی سلسلے میں وزیرخزانہ نے دستکاریوں کو بات چیت کیلئے بلایا تھا۔‘‘ شیخ عاشق نے بتایا ’’ وزیر خزانہ نے ہماری تمام باتیں سنیں اور اس بات کا اعلان کیا تھا کہ اگر ہم دستکاریوں کو جی ایس ٹی سے مشتثنیٰ نہیں رکھ سکتے تو کم از کم 5فیصد جی ایس ٹی کراسکتاہوں۔ شیخ عاشق نے کہا کہ ہم نے وزیر خزانہ پر یہ صاف کردی ہے کہ اگر بہت جلد کشمیر کی گھریلو دستکاریوں کو جی ایس ٹی سے مشتثنیٰ رکھنے کا اعلان نہیں کیا گیا تو تمام کاریگر اپنے اہل خانہ سمیت سڑکوں پر آنے کیلئے مجبور ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات صاف ہوگئی ہے کہ حکومت نے مالی خود مختاری کا سودا کیا ہے ورنہ آج حکومت کو جی ایس ٹی کم کرنے کیلئے مرکزی سرکار کے دروازے پر دستک نہیں دینی پڑتی۔ احتجاجی دستکاروں نے چرکھے کو کندوں پر اٹھا کر پریس کالونی پہنچا دیا ۔ کشمیری دستکاریوں سے جڑے افراد کا کہنا ہے کہ جی ایس ٹی کشمیر کی گھریلو دستکاریوں کی تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔