جی ایس ٹی قرار داد دونوں ایوانوں میں پیش

 

 سرینگر/ / جی ایس ٹی نفاذ کیلئے طلب کردہ چار روزہ خصوصی اجلاس کے پہلے روز مرکزی قانون کے اطلاق سے متعلق قرارداد قانون سازیہ کے دونوں ایوانوں میں پیش کی گئی۔وزیرخزانہ حسیب درابو نے اسمبلی اوروزیرتعمیرات نعیم اخترنے کونسل میں قراردادپیش کرتے ہوئے کہاکہ جی ایس ٹی لاگوہونے سے ریاست کی خصوصی پوزیشن اورمالی خودمختاری کوکوئی زک نہیں پہنچے گا۔تاہم علی محمدساگر،محمدشفیع اوڑی ،نوانگ ریگزن جورا،دیویندرسنگھ رانا،محمدیوسف تاریگامی اورحکیم محمدیاسین سمیت جملہ اپوزیشن ممبران اسمبلی نے الزام لگایاکہ مخلوط سرکار نے عوام کوگمراہ کرنے کیلئے اسمبلی کایہ اجلاس بلایاہے ۔ ایوان کی کارروائی باضابطہ طورشروع ہونے کے بعدوزیرخزانہ ڈاکٹرحسیب درابونے جی ایس ٹی کے اطلاق سے متعلق مخلوط سرکارکی مرتب کردہ قراردادایوان میں پیش کی ۔انہوں نے کہاکہ نئی ٹیکس اصلاحات سماج کے ہرطبقے کیلئے فائدہ مندہے جبکہ بقول موصوف جی ایس ٹی لاگوہونے کے بعدریاستی سرکارکی ٹیکس آمد میں بھی کافی اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہاکہ آئین ہندمیں کی گئی 101ویں ترمیم کے تحت منظورشدہ جی ایس ٹی میں کچھ تبدیلیاں لاکرریاستی سرکارنے ریاست کی خصوصی پوزیشن اورمالی خودمختاری کے تحفظ کویقینی بنایاہے ۔ڈاکٹردرابوکاکہناتھاکہ انڈین یونین میں ریاست کوجوخصوصی پوزیشن حاصل ہے ،اُسکے تحفظ کویقینی بنایاجائیگا۔انہوں نے مزیدکہاکہ جموں وکشمیرکی اسمبلی پورے بھارت میں سب سے طاقتوراوربااختیاراسمبلی ہے ۔وزیرخزانہ کاکہناتھاکہ ریاست کااپناآئین اوراپنی خصوصی پوزیشن ہے اوریہی وجہ ہے کہ جموں وکشمیرکے بغیر پورے ملک میں یکم جولائی سے جی ایس ٹی لاگو ہوچکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے مفادات ، خصوصی پوزیشن اور مالی خود مختاری کا خیال رکھتے ہوئے ریاستی سرکار نے آج ایوان میں جی ایس ٹی سے متعلق قرار داد پیش کی ہے اور اب ایوان کے معزز ممبران کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ قرار داد کے بارے میں کیا فیصلہ لیتے ہیں ۔ ڈاکٹر حسیب درابو نے کہا کہ ایوان کے سبھی ممبران کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جی ایس ٹی اور پیش کردہ قرارداد سے متعلق اپنا نقطہ نظر اور اپنی اپنی تجاویز سامنے رکھیں تاکہ اس حساس معاملے پر اسی ایوان میں وسیع تر اتفاق رائے کے تحت فیصلہ لیا جاسکے ۔ اس دوران انجینئر رشید کو ایوان بدر کیا گیا ۔اُدھر وزیر تعمیرات نعیم اختر اندرابی نے قانون ساز اسمبلی میں جی ایس ٹی سے متعلق قرار داد پیش کی اور یہاں ممبر قانون ساز کونسل فردوس ٹاک نے قرارداد پر بحث کی شروعات کی ۔ اس دوران ایوان کی کارروائی دن کو تقریباً اڑھائی بجے اسپیکر کی ہدایت پر کچھ وقت کیلئے روک دی گئی جبکہ کارروائی شروع ہونے کے بعد ایوان میں موجود حزب اقتدار اور حزب اختلاف سے وابستہ ممبران کے درمیان تلخ کلامی اور بحث و تکرار کی صورتحال جاری رہی ۔ علی محمدساگر ، محمد شفیع اوڑی ، مبارک گل ، دویندر رانا ، میاں الطاف ، نوانگ ریگزن جورا ، حکیم محمد یاسین ، محمد یوسف تاریگامی اور دیگر ممبران نے جی ایس ٹی اور اس سے متعلق ایوان میں پیش کردہ قرارداد کے بارے میں اپنا اپنا موقف سامنے رکھا ۔ اپوزیشن ممبران نے یک زبان ہوکر کہا کہ سرکار کا یہ خصوصی اجلاس طلب کرنا ایک ڈرامہ ہے کیونکہ بقول مذکورہ ممبران کے مخلوط سرکار نے جی ایس ٹی کو لاگو کرنے کا فیصلہ لیا ہے اور اب اپوزیشن کے کاندھوں پر بندوق رکھ کر چلانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔