جی ایس ٹی اور این آئی اے جنگی حربے کے بطور استعمال

 سرینگر// حریت (گ) نے پارلیمنٹ میں دئے گئے بھارتی وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے بیان جس میں انہوں نے کہا ریاست جموں کشمیر کا ہندوستان کے ساتھ اقتصادی انضمام (Economic Intigration) مکمل ہوا، پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر کا بھارت کے ساتھ کسی بھی طرح کا انضمام یا وابستگی کسی بھی طور ممکن نہیں ہے اور ایسے اقدامات کے خلاف ہر ممکن مزاحمت کی جائے گی۔ بیان میں کہا گیا کہ بھارتی حکومت ریاست جموں کشمیر میں چومکھی لڑائی لڑرہی ہے۔ بیان میں کہاگیا کہ ایک طرف جموں کشمیر کے عوام کو GSTکے نام پر دہشت کا سامنا ہے اور دوسری طرف ریاست کی خصوصی پوزیشن کو نقصان پہنچاکر یہاں کی اکثریت کا اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ بیان کے مطابق ایک طرف فوج نے لاتعداد کشمیریوں کی لاشوں کو پانی بُرد کرکے یہاں کا پانی خون آلودہ بنادیا ہے اور دوسری طرف جنگی ہتھیار NIAکے ذریعے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والوں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ بیان میںمزید کہاگیا کہ GSTاور NIAکو غیر قانونی طور واردِ کشمیر کیا جاتا ہے اور یہ سب بندوق کی نوک پر کیا جاتا ہے۔ بیان کے مطابق اس قانون کو کشمیر کی اقتصادیات برباد کرنے کے لیے جنگی حربے کے طور استعمال کیا جارہا ہے اور عام کشمیریوں کے خلاف ایک باضابطہ جنگ کا آغاز ہوچکا ہے۔ بیان کے مطابق حریت کانفرنس نے تمام انجمنوں کو اگرچہ پہلے ہی راستہ ڈھونڈنے کی تلقین کی تھی، تاہم حریت کانفرنس ہمیشہ ان کے ساتھ شانہ بشانہ اس جنگ میں شریک رہے گی۔ حریت کانفرنس نے ارون جیٹلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ GST، NIA، PSAاور AFSPAوغیرہ جیسے جنگی قوانین کو نافذ کرنے سے اور 7 لاکھ بندوقوں کے سائیے میں کشمیریوں کو یرغمال بناکر اور کشمیر کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کرنے سے جموں کشمیر کی متنازعہ حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ حریت نے کہا جموں کشمیر کا مسئلہ تعمیر وترقی کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ مسئلہ ایک کروڑ تیس لاکھ کشمیریوں کے سیاسی مستقبل کے تعین کا مسئلہ ہے اور اس مسئلے کو تعمیر وترقی، مفادات یا مراعات کے عینک سے دیکھنے کے بجائے صرف اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل آوری یا مسئلہ سے جُڑتے تینوں فریقوں کے درمیان بامعنیٰ مذاکراتی عمل سے حل کیا جاسکتا ہے۔ حریت کانفرنس نے اپنے بیان میں کہا کہ جموں کشمیر میں RSSکی ساجے دار پارٹی PDPان کو ہر ممکن طریقے سے تعاون فراہم کررہی ہے۔ حریت کانفرنس نے اپنے بیان میں کہا کہ جموں کشمیر کے عوام نے حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو کامیابی کے ساتھ اپنی نئی نسل کو منتقل کیا ہے اور اب کشمیر ی ذی ہوش نوجوانوں نے تحریک حقِ خودارادیت میں نیا جوش وجذبہ شامل کردیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ کشمیری قیادت بھارتی ایجنڈے کو کسی بھی صورت میں کامیاب نہ ہونے دے گی اور بالآخر بھارت کو کشمیریوں کو ان کے حق، حقِ خودارادیت دینا ہی پڑے گا اور عوامی فیصلے کو قبول کرنا پڑے گا۔