جی ایس ٹی ،این آئی اے اور ہلاکتیں ناقابل قبول

 سرینگر//مزاحمتی انجمنوں سے وابستہ لیڈران اور کارکنوں کی جانب سے جمعہ 16؍جون کو نماز کے بعد پُرامن احتجاجی مظاہرے کرنے کی کال پر پوری وادی میں احتجاج کیا گیا جس میں این آئی اے (NIA)اور جی ایس ٹی (GST)کو غیر قانونی طور واردِ کشمیر کرنے اور شوپیان کے دیہات میں عام شہریوں اور ان کی املاک پر فوج کے قہر ڈھانے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی جبکہ عید سے قبل تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ تمام قیدیوں کو عید سے قبل رہا کیا جانا چاہئے۔اس سلسلے محمد شفیع ریشی، محمد یوسف نقاش، نثار حسین راتھر، سید محمد شفیع، بشیر احمد قریشی،  شیخ ضمیر احمد، عبدالرشید لون اور محمد امین بٹ نے حیدرپورہ ، جبکہ عمر عادل ڈار نے سوئٹینگ میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔اس موقع پرمقررین نے کہا کہ این آئی اے (NIA)کو یہاں کی مسلمہ آزادی پسند قیادت کو خوف زدہ کرنے اور جی ایس ٹی (GST) کو کشمیر کی اقتصادیات برباد کرنے کے لیے جنگی حربے کے طور استعمال کیاجارہا ہے اور عام کشمیریوں کے خلاف ایک باضابطہ جنگ کا آغاز کیا گیا ہے۔ جی ایس ٹی (GST)کے حوالے سے ریاستی حکومت کے روئیے کو انتہائی افسوسناک اور قابل تشویش قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کشمیریوں کی اقتصادیات کو تباہ وبرباد کرنے کی ایک سازش ہے اور اس کے ذریعے سے یہاں کی تجارت اور کاروبار کو نقصان پہنچانا مقصود ہے۔دریں اثناء پیپلز فریڈم لیگ کے جنرل سکریٹری محمد رمضان خان سمیت پارٹی کے دیگر کارکنان جن میں امتیاز احمد شاہ، ارشد حسین وغیرہ شامل تھے نے حیدرپورہ میں جملہ مزاحمتی قیادت کے زیر قیادت بھارت کی جانب سے GST اور بھارتی فورسز کے ہاتھوں رہائشی مکانوں کی توڑ پھوڑ کے خلاف ایک احتجاجی پروگرام میں حصہ لیا ۔