جیل میں بند ہالینڈ کا شہری جموں کشمیر سرکارعلاج کو یقینی بنائیں:سپریم کورٹ

نیوز ڈیسک

نئی دہلی//سپریم کورٹ نے پیر کو جموں و کشمیر انتظامیہ کو ہدایت دی کہ ایک ہالینڈ کے شہری کو، جو جموں کی ایک جیل میں بند ہے اور پیرانائیڈ (شیزوفرینیا )میں مبتلا ہے، کو قومی دارالحکومت کے ایک خصوصی اسپتال میں منتقل کرے۔جسٹس وی راما سبرامنیم اور پنکج میتھل پر مشتمل بنچ نے جیل میں بند رچرڈ ڈی وٹ کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل روہن گرگ کی عرضیوں کا نوٹس لیا اور ہدایت دی کہ قیدی کا علاج نئی دہلی کے خصوصی طبی مرکز میں کیا جائے۔عدالت عظمی نے کہا کہ علاج کے بعداس کو مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے واپس جموں جیل منتقل کیا جائے اور اس کے اہل خانہ کو یہاں اسپتال میں قیام کے دوران ان سے ملنے کی اجازت دی جائے۔

 

عدالت نے ان ہدایات کے ساتھ درخواست نمٹا دی۔بنچ نے 21 اپریل کو جموں و کشمیر انتظامیہ سے اس درخواست پر جواب طلب کیا تھا جس میں حکام کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اس کی بیماری، ’پیرانائیڈ شیزوفرینیا‘ کے لیے ایک خصوصی اسپتال میں مناسب طبی علاج فراہم کرے۔درخواست گزار، 53 سالہ رچرڈ ڈی وٹ، جسے اپریل 2013 میں سرینگر میں قتل کے ایک مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ اس وقت جموں ڈسٹرکٹ جیل میں بند ہے، نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ وہ تقریبا ً10 سال سے جیل میں ہے۔ اور اس کی طبی حالت خراب ہو رہی ہے کیونکہ جیل میں اس بیماری کا کوئی مناسب علاج دستیاب نہیں ہے۔عرضی گزار نے اپنی ڈسٹرکٹ جیل جموں سے مناسب علاج کے لیے نئی دہلی یا نیدرلینڈ کے خصوصی طبی مرکز میں منتقل کرنے کی مانگ کی تھی۔ اپریل 2013 میں سرینگر کی ڈل جھیل پر ایک ہاس بوٹ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جب ایک برطانوی خاتون اپنے کمرے میں مردہ پائی گئی۔ درخواست گزار، جو اسی ہاس بوٹ پر ایک الگ کمرے میں رہ رہا تھا، اس پر مجرم ہونے کا الزام لگایا گیا تھا اور اس کیس میں گرفتار کیا گیا