جیلوں میں محبوسین کا جسمانی تشدد

 
سرینگر // مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے بزرگ حریت پسند رہنماوں کو جیلوں میں الف ننگا کرنے اور انہیں بڑی بے دردی کے ساتھ جسمانی تشدد کا شکار بنانے کی اخلاق سوز حرکتوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔مزاحمتی قیادت نے کہا کہ پچھلے دو برسوں سے زائد عرصے سے نظر بند حاجی عبدالغنی بٹ (عمر 65) سال کو سرینگر سینٹرل جیل میں الف ننگا کرکے جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے خلاف غلیظ زبان استعما ل کرکے ان کی تذلیل کی گئی جو ایک بد ترین سانحہ ہے جس کی مہذب دنیا میں کوئی مثال ملنی محال ہے ۔مزاحمتی قیادت نے اس امر پر اظہار افسوس کرتے ہوے کہا کہ یہی حال دہلی کے بدنام زمانہ تہاڑ جیل کے علاوہ کٹھوعہ، ادھمپور ریاسی اور دیگر جیلوں کا ہے۔مزاحمتی قیادت نے ریاست اور ریاست سے باہر جیل خانوں میں مقید محبوسین کی جانوں کو شدید خطرہ لاحق ہونے کے خلاف رائے عامہ کو منظم کیے جانے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوے کہا کہ ایک زندہ اور غیور قوم کی حیثیت سے  اس سنگین مسلے پر اب زیادہ دیر تک خا موش نہیں رہا جاسکتا۔مزاحمتی قیادت نے حزب المجاہدین کے سر براہ سید صلاح الد ین کے دونوں فرزندوں کو بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے کی طرف سے فرضی اور من گھڑت الزامات کے تحت آہنی سلاخوں کے پیچھے مقید کئے جانے کی بزدلانہ کار روائی کی شدید مذمت کرتے ہوے کہا کہ مہذب انسانی دنیا میں سیاسی ا ختلاف کی بنیاد پر باپ کے بدلے بیٹے اور بیٹے کے بدلے باپ کو سزا دینا لا قانونیت ،بربریت اور سفاکیت کی آخری حد ہے ۔