جیلوں میں قید پڑے اسیران کی حالت زار پر یاسین ملک سیخ پا

 
سرینگر// لبریشن فرنٹ کے محبوس چیئرمین محمد یاسین ملک نے اننت ناگ سے تعلق رکھنے والے جواں سال عاطف حسن ولد غلام حسن شیخ کو عدالت کے احا طے سے گرفتار کرنے کے بعد پی ایس اے کے تحت کھٹوعہ جیل منتقل کئے جانے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے پرامن جوانوں کو پشت بہ دیوار کرنے کے عمل سے تعبیر کیا ہے۔ علاوہ ازیں فرنٹ چیئرمین نے 13سال تک عمر قید کی سزا کاٹنے والے محمد اسحاق پال شوپیان کو 6ماہ قبل ہونے والے قتل کے ایک واقعے میںملوث ٹھہراکر اسکے ایام اسیری کو طول دینے کی پولیس کاروائی کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ جیل سے بھیجے گئے اپنے پیغام میں فرنٹ چیئرمین نے کہا کہ معصوم نوجوانوں کو کالے قوانین کے تحت گرفتار کرنے کا لامتناہی سلسلہ جموںکشمیرمیں برسر اقتدار آرایس اریس حکومت کی کشمیر و مسلم دشمن پالیسی کا نتیجہ ہے اور یہ مذموم سلسلہ یہاں کے خرمن امن کو تباہ و برباد کردینے کا باعث بن رہاہے۔اننت ناگ سے تعلق رکھنے والے جوان سال عاطف حسن کی عدالت کے احاطے سے گرفتاری ، انہیں دوران حراست پولیس کی جانب سے سخت اذیتوں کا نشانہ بنائے جانے اور بعد ازاں کالے قانون پی ایس اے کے تحت کھٹوعہ جیل منتقل کرکے اُن کے کمسن اہل و عیال کو اذیتوں میں مبتلاکرنے کی مذمت کرتے ہوئے یاسین ملکنے کہاکہ عاطف حسن ایک پرامن سیاسی شخص ہونے کے ساتھ ساتھ ایک پڑھا لکھا ذی ہوش و ہواس اور مہذب انسان ہے جس کا مسئلہ جموں کشمیر کے پرامن حل کے تئیں ایک واضح موقف ہے لیکن اس پرامن سیاسی رکن کو جس انداز میں گرفتار کرکے مارا پیٹا گیا اور پھر PSAکے تحت کٹھوعہ جیل بھیج دیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ عاطف اپنے اہل و عیال کا واحد کفیل ہے اور ایک عرصے سے اپنے خاندان کیلئے روزی روٹی کما رہا ہے لیکن اچانک پولیس نے اُسے گرفتار کرکے کئی ماہ قبل دستخط شدہ پی ایس اے کا نفاذ کرکے اُسے قید میں ڈال دیا ہے۔ یاسین ملک نے کہا کہ ٹھیک اسی طرح جے کے ایل ایف کے ضلع صدر گاندربل بشیر احمد راتھر(بویا ) کے ساتھ بھی کیا گیا جن کے پرامن اور بالغ النظر ہونے کا پورا علاقہ گواہی دیتا ہے لیکن پولیس نے اُس کا پہلا پی ایس اے کواش ہوجانے کے بعد اُسے دوبارہ اسی کالے قانون کے تحت کورٹ بلوال جیل میں مقید کررکھا ہے۔ یاسین ملکنے کہا کہ پولیس حکام کی بدترین ذہنیت کا اندازہ اس بات سے بھی بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے ۱۳ برس تک جیل کاٹنے والے محمد اسحاق پال شوپیان کی گرفتاری کو طول دینے کیلئے اُس پر ۶ ماہ قبل ہونے والے ایک قتل کا الزام تھونپ دیا ہے حالانکہ محمد اسحاق پال ۱۳ برس سے جیل میں ہے اور اس قتل کے وقت بھی وہ جیل میں ہی تھا اور حال ہی میں عدالت نے اس پر عائد سزا کو کالعدم قرار دے کر اسکی باعزت رہائی کا حکم دے رکھا ہے۔ کشمیری جوانوں کے خلاف جاری اس جبر و تشدد کو PDPسرکار اور انتظامہ کی کشمیرو مسلم دشمن پالیسی سے تعبیر کرتے ہوئے یاسین ملک نے کہا کہ پرامن جدوجہد میں یقین رکھنے عالے لوگوں پر شکنجہ کس کردر اصل حکمران کشمیر میں تشدد کو فروغ دے رہے ہیںجو بہر صورت ایک مذموم صورت حال ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہزاروں معصومین جیلوں میں اذیتیں جھیلنے پر مجبور ہیں لیکن حکمرانوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ انہیں مکافات عمل کے ازلی قانون کے تحت بہرحال اپنے گناہوں کا حساب چکانا پڑے گا اور یہ بھی کہ اس جبر و ظلم سے انہیں سوائے رسوائی کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔