جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک

 سرینگر//حریت (گ) کے لیڈران اور کارکنان نے حیدرپورہ میں تہاڑ جیل میں مقید حریت قائدین بالخصوص پیر سیف اللہ کی بگڑتی صحت اور ان کی غیری قانونی قید کو طویل دینے کی کارروائیوں کے خلاف پُرامن احتجاج کیا۔ انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ ریاست اور بیرون ریاست خاص کر تہاڑ جیل میں بند جموں وکشمیر کے قیدیوں کی حالتِ زار کا نوٹس لیںاور انہیں رہا کرانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ بیان میں کہا گیا کہ حریت (گ) کے عبدالاحد پرہ، بلال صدیقی، مولوی بشیر عرفانی، سید امتیاز حیدر، محمد یٰسین عطائی، سید محمد شفیع، خواجہ فردوس وانی، محمد مقبول ماگامی، رمیز راجہ، ارشد عزیز، مبشر اقبال، شوکت احمد خان، امتیاز احمد شاہ، عبدالحمید اِلٰہی اور عبدالرشید لون سمیت متعدد کارکنون نے حیدرپورہ میں ریاست اور ریاست کی باہری جیلوںبالخصوص تہاڑ جیل میں قیدیوں کے تئیں روا رکھے جارہے غیر انسانی سلوک کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا۔ اس موقعہ پر انہوں نے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ان قیدیوں کی زندگی کو کوئی گزند پہنچی تو اس کے خلاف شدید ردّعمل سامنے آجائے گا جس کی تمام تر ذمہ داری بھارتی حکمرانوں اور یہاں کی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ انہوں ریاست اور ریاست سے باہر کی جیلوں خاص کر تہاڑ جیل میں بند قائدین کی مسلسل نظربندی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت اور خیالات کی آزادانہ ترویج سے متعلق بھارت کے دعاوی نہ صرف ڈھونگ ثابت ہورہے ہیں بلکہ حق و انصاف پر مبنی ہر آواز کو دبانے کے لئے ہزاروں افراد کو بنا مقدمہ چلائے قید خانوں میں پابند سلاسل کرکے یہاں سیاسی غیریقینیت اور عدمِ استحکام کے ماحول کو قائم کیا جارہا ہے۔ انہوںنے تہاڑ جیل میں قید شبیر احمد شاہ، ڈاکٹر غلام محمد بٹ، الطاف احمد شاہ، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، نعیم احمد خان، شاہد الاسلام، فاروق احمد ڈار، ظہور احمد وٹالی، سید شکیل احمد، سید شاہد یوسف، آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مہذب سماج میں قیدیوں کے تئیں انتقام گیرانہ رویہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے، یہ لوگ بھی انسان ہیں اور ان کو بھی آزادی کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔