جیلوں میں قیدیوں زندگی اجیرن

 سرینگر//حریت (گ) چیئر مین سید علی گیلانی نے ریاست کے قیدیوں کی حالت زار پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مہذب انسانی تاریخ میں قیدیوں کے حقوق کو اولین اہمیت دی گئی ہے، لیکن بھارت کے حکمرانوں نے ریاست جموں کشمیر میں تحریک حقِ خودارادیت سے تعلق رکھنے والے اسیرانِ زندان کی زندگیوں کو اجیرن بنادیا ہے۔حریت رہنما نے بھارت کے حکمرانوں کی شقاوت قلبی اور تنگ نظری پر عبرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے قیدیوں کو ترجیحی بنیادوں پر اپنے لوگوں سے دُور ترین جیلوں میں پابند سلاسل کیا جاتا ہے، تاکہ ان کے نزدیکی رشتہ داروں کو ان کے ساتھ ملاقات کرنے کو مشکل سے مشکل تر بنایا جاسکے۔بے بنیاد اور من گھڑت الزامات کی لمبی فہرستیں مرتب کرکے ان قیدیوں کے مقدموں کی عدالتی کارروائیوں کو سست رفتاری کے ساتھ چلایا جاتا ہے اور پندرہ پندرہ سال گزارنے کے بعد انہیں تمام الزامات سے بری کیا جاتا ہے۔ حریت رہنما نے زیرِ حراست قیدیوں کو قتل کرنے کی بہیمانہ کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک قیدی کو اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو کِسی غیر جانبدار عدالت میں چلینج کرنے کا قانون اور اخلاقی حق حاصل ہے، لیکن انتظامیہ نے ریاست کے اطراف واکناف میں لاقانونیت اور سرکاری غنڈہ گردی کا ایک ماحول طاری کردیا ہے، جس میںترال کے نذیر احمد چوپان کو پولیس اسٹیشن کے اندر ہتھکڑیاں بہتے ہوئے گرینیڈ کا شکار بنادیا جاتا ہے۔حریت رہنما نے اسلام آباد مٹن کے جیل خانہ میں جیل انتظامیہ کی طرف سے مسلسل دوران شب قیدیوں کی بلاوجہ مارپیٹ اور ذہنی تشدد کا شکار بنائے جانے کی ظالمانہ کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔حریت رہنما نے  شبیر احمد، مسرت عالم بٹ، الطاف احمد شاہ، ایاز اکبر، راجہ معراج الدین، پیر سیف اللہ، نعیم احمد خان، شاہد الاسلام، فاروق احمد ڈار، کامران یوسف، شاہد یوسف، جاوید احمد بٹ، ظہور احمد وٹالی، محمد اسلم وانی، ڈاکٹر غلام محمد بٹ، ڈاکٹر شفیع شریعتی، ڈاکٹر محمد قاسم، غلام قادر بٹ، منظور احمد، طارق احمد، مظفر احمد ڈار، محمد یوسف میر، محمد یوسف فلاحی، غلام محمد خان سوپوری، امیرِ حمزہ شاہ، میر حفیظ اللہ، محمد رفیق گنائی، عبدالاحد پرہ، شکیل احمد، رئیس احمد میر، عبدالصمد انقلابی، محمد اسداللہ پرے، حکیم شوکت، سرجان برکاتی، محمد رمضان خان وغیرہ جیسے ضمیر کے قیدیوں کو عقیدت واحترام کا سلام پیش ہو۔