جیسا کروگے ویسا ہی بھروگے!

یوں تو ہر انسان کے کچھ نہ کچھ ارمان ہوا کرتے ہیں ،ایسے ہی ایک باپ کا بھی ارمان ہوا کرتا ہے کہ میرے بیٹے کا آسماں کی بلندی پر نام ہو اور چاند کی زمیں پر اس کا مقام ہو، یہ بھی حقیقت ہے کہ باپ فقیر ہو کر بھی بیٹے کے لئے بادشاہت کا خواب دیکھتا ہے، باپ گھر کی چہار دیواری کا سب سے مضبوط ستون ہوتا ہے ، ایک بیٹے کے لئے باپ ہی سب سے بڑا مشیر ہوتا ہے اور سرپرست بھی ہوتا ہے ،یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک باپ کو اپنے بیٹے سے بڑی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں، اسے امید بھی ہوتی ہے کہ میرا بیٹا بڑا ہو کر جہاں ایک طرف ڈاکٹر، انجینئر آفیسر بنے گا، عالم دین اور خطیب بنے گا تو خاندان کا نام روشن ہوگا ، سماج کا نام روشن ہوگا ، علاقے کا نام روشن ہوگا وہیں ماں کے گلے کا ہار بنے گا اور باپ کی لاٹھی بنے گا، جب باپ چلنے پھرنے سے مجبور ہوگا تو بیٹا سہارا دے گا، جب ضعیفی کے عالم میں دماغ کمزور ہوگا تو بیٹا بہترین مشورہ دے گا، ایک باپ اپنے آنکھوں میں یہ سارے خوابوں کو سجاکر اپنے بیٹے کے ہمسفر کی تلاش میں نکلتا ہے۔ آخر کار ایک خاندان میں رشتہ طے ہوجاتاہے اور باپ خوشی خوشی اپنے گھر آتا ہے، ماں باپ دونوں خوش ہیں کہ اب ہمارے بیٹے کے سر پر سہرا سجے گا اور ہمارے گھر میں ایک حسین و جمیل دلہن آئے گی، بالآخر وہ گھڑی آہی جاتی ہے۔ باپ نے اپنے بیٹے کے سر پر سہرا سجایا، بارات لے کر گیا نکاح ہوا اور بیٹے کی دلہن آگئی ۔باپ بیٹے دونوں کے دوست احباب آئے ہوئے ہیں، عزیز و اقارب آئے ہوئے ہیں، دور و نزدیک کے سارے رشتہ دار آئے ہوئے ہیں، سارے لوگ باپ اور بیٹے دونوں سے ملاقات کررہے ہیں، دعاؤں سے نواز رہے ہیں، مبارکباد پیش کررہے ہیں، ولیمے کا عالیشان اہتمام کیا گیا ہے باپ اور بیٹے دونوں سارے مہمانوں سے ولیمے میں شریک ہونے کی گزارش کررہے ہیں اور سبھی لوگوں نے شرکت بھی کی سارے مہمانوں کی شام کو واپسی کا سلسلہ شروع ہوگیا ،باپ اور بیٹے دونوں نے مہمانوں کی تشریف آوری کا شکریہ ادا کیا ۔
آگے کا سفر: باپ نے بیٹے کو سمجھایا کہ بیٹا دیکھ اپنی بیوی کا خیال رکھنا، اسے سمجھانا کہ گھر میں سب سے مل جل کر رہے، تیری بہنیں اس کی نند ہیں ،ان سے بھی مل کر اسی طرح رہے جیسے گل کانٹوں میں کھل کر رہا کرتے ہیں۔ بہو اس گھر کو جگمگائے ،اس گھر کو خوشیوں سے سجائے، پورے گھر کی در و دیوار مسکرائے، یہ تیری ذمے داری ہے۔ کچھ دنوں تک تو سب کچھ ٹھیک ٹھاک چلتا رہا لیکن دھیرے دھیرے بیوی کا رنگ بدلنے لگا، گھر میں سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوگیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ بیٹا چکی کے دو پاٹوں کے درمیان پسنے لگا، کبھی ماں کی آنکھوں میں آنسو تو کبھی باپ کے چہرے پر اداسی تو کبھی بہنوں کے ماتھے پر پسینہ۔ آخر وہ کرے تو کیا کرے ۔ایک دن صبح کا وقت تھا بیٹا روزانہ کی طرح آفس جانے سے پہلے اچھے لباس میں ملبوس ہو کر اس کمرے میں آتا ہے، جہاں اس کی بیوی کپ میں چائے لیکر اس کا انتظار کر رہی تھی، بیٹا جب اس گھر میں داخل ہوا تو اس کی بیوی نے چائے کا کپ اس کے ہاتھوں میں تھمایا اور وہ ابھی دو چار گھونٹ ہی چائے پی تھی کہ باپ گھر میں داخل ہوتا ہے، چہرے پر اداسی چھائی ہوئی ہے ،بیوی کہتی ہے لو جی بوڑھے میاں ٹپک پڑے، مگر بیٹے نے پوچھا ابو جان آپ اس قدر پریشان کیوں ہیں؟ باپ بولتا ہے کہ میرا چشمہ ٹوٹ گیا ہے ،بیٹے میرے لئے نیا چشمہ بنوادے، اخبار و رسائل ، کتب و دیگر کاغذات کو دیکھنے و پڑ ھنے میں بڑی پریشانی ہوتی ہے۔ بیٹے نے کہا کہ ابو جان پریشان نہ ہوں، میں آپ کا چشمہ بنوادوں گا، ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ بیوی کے چہرے کا رنگ سرخ ہوگیا اور بول پڑی کہ کیا ضرورت ہے نئے چشمے کی۔ آخر جب پورا دن چارپائی پر بیٹھ کر گذارنا ہے، ویسے ہی تنخواہیں کٹ کر ملتی ہیں۔ کیا آپ کچھ عرصہ کے لئے اخبار و رسائل و جرائد کا مطالعہ بند نہیں کرسکتے، کہاں آپ کو ملک چلانا ہے یا کہیں جواب دینا ہے، آخر ٹائم پاس ہی تو کرنا ہے، چشمہ ابھی نہیں بنے گا۔ بیٹے نے باپ کا چہرہ دیکھا اور بیوی کے چہرے پر نظر دوڑائی اور سوٹ کیس اٹھایا، آفس کے لئے روانہ ہوگیا ۔
 ایک دوست کا مشورہ: بیٹا آفس پہنچے کے بعد اداس ہے، افس کے کاموں میں دل نہیں لگ رہا ہے ،دوری پر بیٹھا ہوا اس کا ایک دوست اس کی پریشانیوں کو محسوس کیا اور قریب آکر حال دریافت کیا تو اس نے سارا ماجرا بیان کیا۔ اب وہ دوست کہتا ہے کہ دیکھ باپ کا اعتماد بھی تجھے حاصل کرنا ہے اور بیوی کا بھی۔ تو ایک کام کر کہ اپنے ابو جان کے لئے نیا چشمہ لےکر شام کو گھر جا اور ابو سے کہنا کہ جب تنہا رہیں تو نیا چشمہ استعمال کریں اور باقی وقت میں ٹوٹے ہوئے چشمے سے کسی طرح کام چلائیں ،کچھ دنوں تک ایسا ہی کریں بیٹے کو یہ مشورہ پسند آیا اور اپنے دوست کے مشورے پر عمل کیا ۔لیکن افسوس کہ شام کو گھر پہنچتے ہی ہنگامے کا سامنا کرنا پڑا، باپ کے ہاتھوں میں چشمہ دیا اور دوست کی بتائی ہوئی بات بھی کہی ،اتنے میں بیوی بھی اس کمرے میں داخل ہوگئی اور اس نے چشمہ دیکھ لیا اور دیکھتے ہی آگ بگولہ ہوگئی، شوہر اور سسر دونوں پر برس پڑی۔ آخر کار بیٹے سے برداشت نہیں ہوا ،اس نے بیوی کے چہرے پر ایک تھپڑ ماردیا، جیسے ہی بیٹے نے بیوی کے چہرے پر تھپڑ مارا تو باپ نے بھی بیٹے کے چہرے پر ایک تھپڑ جڑتے ہوئے کہا کہ تو ایک عورت پر ہاتھ اٹھاتا ہے، میں نے تو تجھے کبھی ایسی تعلیم نہیں دی، ایسی تہذیب نہیں سکھائی، باپ کی زبان سے نکلے ہوئے یہ جملے نے جہاں بیٹے کو کچھ سوچنے پر مجبور کیا، وہیں بیوی کی آنکھوں سے پردہ اُٹھ گیا، اسے اپنی غلطی کا احساس ہوگیا اور وہ سسر سے معافی مانگ بیٹھی اور یہ عہد کرلیا کہ اس گھر کو سجانا ہے اور سنوارنا ہے۔ بیوی اپنے شوہر سے بولی کہ آج مجھے احساس ہوگیا کہ یہ گھر میرا گھر ہے، میری ڈولی کہیں سے آئی لیکن جنازہ یہیں سے اٹھے گا، کوئی جنم کا ساتھی ہے تو کوئی کرم کا ساتھی ہے۔ قارئین کرام اسے صرف بے حقیقت افسانہ نہ سمجھیں، اسے ناول نما کہانی نہ سمجھیں بلکہ بروز قیامت جب جہنم اللہ تبارک و تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوگی تو کہے گی کہ میں تین قسم کے لوگوں کی بھوکی ہوں، بیشک اللہ ربّ العالمین جانتا ہے کہ وہ تینوں قسم کے لوگ کون ہیں۔ اس کے باوجود بھی جہنم سے پوچھے گا تو جہنم کہے گی کہ وہ لوگ جو دنیا میں اپنے ماں باپ کو ستایا کرتے تھے اور ان کی نافرمانیاں کیا کرتے تھے ،ان لوگوں کو میرے حوالے کیا جائے، میں ان کی بھوکی ہوں ،وہ میری خوراک ہیں ۔معلوم ہوا کہ ماں باپ کا نافرمان جہنم کی خوراک ہے ،اسی قرآن کا اعلان ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ احسان کرو ۔ احسان سے مراد نیکی ہے۔ اپنے ماں باپ کی ضروریات کو پورا کرو، ان کی خدمت کرو ،، قرآن نے تو یہاں تک کہا ہے کہ تمہارے ماں باپ کسی کام کے لئے کہیں تو تم اُف تک نہ کرو، یہ مقام ومرتبہ ہے والدین کا۔ والدین کو بھی چاہئیے کہ وہ بچوں کی اسلامی طور طریقوں کے مطابق تربیت و پرورش کریں اور یہ سب کو یاد رکھنا چاہیے کہ ’’کما تدین تدان۔جیسا کروگے ویسا بھروگے۔‘‘