جیتندر سنگھ کا بیان مضحکہ خیز

 سرینگر//نیشنل کانفرنس نے وزیر مملکت برائے وزیرا عظم دفتر جیتندر سنگھ کے اُس بیان ، جس میں موصوف نے کہا ہے کہ ’مسئلہ کشمیر کوئی بھی مسئلہ نہیں ہے‘، کو مضحکہ خیر اور طفلانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر موصوف کا یہ بیان مرکزی حکومت ، وزیر اعظم ہند اور وزیر داخلہ کے اُن بیانات سے متضاد ہے جو یہ لوگ مسئلہ کشمیر سے متعلق دیتے آئے ہیں اور دے رہے ہیں۔ پارٹی کے ریاستی ترجمان جنید عظیم متو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مسئلہ کشمیر نہ صرف عالمی سطح پر تسلیم شدہ حل طلب معاملہ ہے بلکہ نئی دلی اور اسلام آباد کے درمیان دوطرفہ سفارتی تعلقات میں بنیادی مسئلہ رہا ہے۔ کشمیر مسئلہ دہائیوں سے سُلگ رہا ہے اور ناقابل بیان انسانی المیوں کی وجہ رہا ہے۔ اس سیاسی مسئلے کے حل نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں لوگ اپنی زندگیاں کھو بیٹھے، ہزاروں دیگر سیاسی، سماجی اور اقتصادی طور متاثر ہوئے۔ ایک مرکزی وزیر ہونے کے ناطے جیتندر سنگھ کا یہ بیان کشمیر کی تاریخ اور زمینی صورتحال کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی ایک ناکام اور مذموم کوشش ہے۔ موصوف کا بیان نہ صرف ملک کے عوام کو گمراہ کن اور غلط تاثر دینے کی مضحکہ خیز لاحاصل کوشش ہے بلکہ غیر سنجیدہ بھی ہے کیونکہ مسئلہ کشمیر کے لٹکے رہنے سے کشمیری قوم نے دہائیوں سے صبر کے پہاڑ جھیلے ہیں۔ نیشنل کانفرنس کے ترجمان نے جیتندر سنگھ کو مشورہ دیا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے مسئلہ کشمیر سے متعلق دیئے گئے بیانات کا مشاہدہ کریں اور ساتھ ہی سابق این ڈی اے حکومت کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان اور دیگر متعلقین کیلئے بات چیت کے ادوار کے بارے میں بھی معلولات حاصل کریں۔غیر حقیقت پسندانہ بیان بازی سے تاریخ اور حقیقت کو مسخ نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا سیاسی حل نہ ہونے کی وجہ سے وادی یتیموں، بیوائوں، نیم بیوائوں، اپاہجوں، لاچاروں اور محرومین کی زمین بن کر رہ گئی ہے، اور ایک ذمہ دار عہدے پرفائز وزیر کی طرف سے ایسے مسئلہ کی حقیقت کو مسخ کرنے کی کوشش کرنا انتہائی افسوسناک امر ہے۔ ترجمان نے کہا کہ جہاں کہ مسئلہ کشمیر کا تعلق ہے، یہ ایک نہ مٹنے والی حقیقت ہے کہ مسئلہ کشمیر سیاسی جذبات پر مشتمل معاملہ ہے ، ناانصافی اور وعدہ خلافی کشمیر میں پائے جارہے بحرانوں کی بنیادی وجہ ہے، جس کا اعتراف اور تدارک کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کشمیر کی زمینی حقیقت کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا مرکزی سرکار کو زیب نہیں دیتا ہے۔ جیتندر سنگھ کو یہ بات بھی ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ پی ڈی پی کیساتھ ساجھیداری کرنے کے وقت اُن کی جماعت بھاجپا نے ایجنڈا آف الائنس میں مسئلہ کشمیر کی حقیقت کو نہ صرف تسلیم کیا ہے بلکہ تمام متعلقین کیساتھ بات چیت کرنے وعدہ بھی کیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ پی ڈی پی والے آپ سے اس معاہدے کے مطابق کام نہ کرواسکی۔