جہانگیر چوک رام باغ فلائی اوورکی تعمیر میں تاخیر

 
سرینگر//جہانگیر چوک رام باغ فلائی اوور کی تعمیرمیں تاخیری حربوں کی پاداش میں ٹھیکیدار پرسوا کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے اور اسے 31دسمبر تک کی ڈیڈ لائین دی گئی ہے۔جہانگیر چوک سے رام باغ تک نہ صرف سرینگر بلکہ وادی کے سب سے بڑے فلائی اوور جسے’ایکسپریس وے کاریڈور ‘کا نام دیا گیا ہے، کی تعمیر کا کام 2013میں شروع کیا گیا تھااور اس کی تکمیل کیلئے پہلے ستمبر2016، پھر مارچ2017اور پھرگزشتہ برس ہی اگست کا وقت مقرر کیا گیا۔بعد میں ستمبر2017میں فلائی اوور کے پہلے مرحلے کا افتتاح کرنے کی حکام کی پیشگوئی بھی سراب ثابت ہوئی۔ ڈیڈ لائن میں اضافے کا عمل کئی بار دہرانے کے باوجود قریب اڑھائی کلومیٹر لمبے اس فلائی اوور کی مکمل تکمیل ہونا باقی ہے ۔اگرچہ امسال اس پروجیکٹ کے ایک حصے کو عوام کے نام وقف کیا گیا تاہم اسکی مکمل تعمیر نہ ہونے سے شہر میں ٹریفک کا حلیہ بگڑ گیا ہے ۔فلائی اوور کی تعمیر انتہائی سست رفتاری اور اس میں تاخیری حربوں سے کام لینے کی پاداش میں اکنامک ریکنسٹرکشن ایجنسی (ERA) نے ٹھیکہ دار پرایک کروڑ 25لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے ۔ایجنسی نے مذکورہ ٹھیکہ دار کو یہ ہدایت دی کہ وہ فلائی اورر کے دوسرے مرحلے رام باغ سے آلوچی باغ تک 31دسمبر تک مکمل کرے جبکہ تیسرے مرحلے یعنی آلوچی باغ سے جہانگیر چوک تک 15مئی 2019کی ڈیڈ لائین دی گئی ہے ۔اسی طرح ERAنے ٹی آر سی گریڈ سپریٹر کی تعمیر میں تاخیری حربوں کی پاداش میں اس پروجیکٹ کے ٹھیکہ دار پر 12لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے ۔ERAکے سی ای او ڈاکٹر راگو لنگرنے کہا کہ ان پروجیکٹوں کی تعمیر میںاب کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی اور اب تعمیری ایجنسیوں کے کام کاج پر روزانہ کی بنیاد پر نظر رکھی جائے گی ۔