جہانگیر پوری معاملہ| بلڈوزر کارروائی پر 2 ہفتے کی بریک

 نئی دہلی//  دہلی کے جہانگیر پوری، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، گجرات اور اتراکھنڈ ریاستوں میں مسلمانوں کی املاک پر چلنے والے غیر قانونی بلڈوزر پر سپریم کورٹ نے کل سخت نوٹس لیتے ہوئے مرکزی حکومت سمیت ایسے تمام صوبوں سے جواب طلب کیا ہے جہاں حالیہ دنوں میں مسلمانوں کی املاک پر بلڈوزر چلایا گیا تھا۔ عدالت عظمی نے گزشتہ روز دہلی کی جہانگیر پوری میں کی گئی انہدامی کارروائی پر اسٹے برقرار رکھتے ہوئے عدالت کے اسٹے کے باوجود ڈیڑھ گھنٹے تک چلنے والی انہدامی کارروائی پر ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ مئیر اور میونسپل کمیشنر سے جواب طلب کریں گے۔سپریم کورٹ آف انڈیا کی دو رکنی بنچ کے جسٹس ناگیشور راؤ اور جسٹس گوَئی کے روبرو معاملے کی سماعت عمل میں آئی جس کے دوران جمعیت علماء  ہند کی جانب سے داخل پٹیشن پر بحث کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل اور دشینت دوے نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ روز عدالت کے حکم کے باوجود مسلمانوں کی املاک پر یک طرفہ کارروائی کی گئی۔سپریم کورٹ نے بدھ کو شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن کی طرف سے فساد زدہ جہانگیر پوری علاقے میں مبینہ تجاوزات کے خلاف شروع کی گئی انہدامی کارروائی پر روک لگانے اور اسے بحالت اصلی برقرار رکھنے کا کل صبح حکم جاری کیا ہے، چیف جسٹس آف انڈیا کے زیرقیادت بنچ نے جمعیت علماء ہند کی طرف سے مقرر کردہ سینئر وکیل دشینت داوے کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے یہ تاریخی فیصلہ سنایا۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ کے کل کے حکم پر فوری طورپر عمل درآمد نہ ہونے پر ناراضگی کا اظہار کیا۔درخواست گزاروں کا الزام ہے کہ عدالتی اسٹے کے باوجود تجاوزات ہٹانے کا کام گھنٹوں جاری رہا۔