’’جگر چیر کر رکھدوں ‘‘

رشید پروین
   یونیورسٹی کیمپس میرے تصور سے بڑا تھا،،  علم و دانش کے بڑے بڑے محل ، میں مرعوب بھی تھا ۔ میں نے کار پارک کی ، میم صاحب کے لئے دروازہ کھولا ، وہ باہر آئیں ، جیب میں ہاتھ ڈالا اور پانچ سو کے دو نوٹ میری ہتھیلی پر رکھ دئے اور مسکرا کر کہا ’’فنکشن دو گھنٹوں تک چلے گا، آرام سے کھانا پینا ، سامنے ہی کنٹین ہے ‘‘یہ کہتے ہوئے وہ چلی گئی۔ یہاں بڑے بڑے چناروں کے تناور درخت بھی تھے ، آج دھوپ میں تمازت بھی کچھ زیادہ ہی تھی یا میں کسی انجانی آنچ سے تپ رہا تھا ، میں نے اپنی کاپی اور پین گاڑی کے ڈیش بورڈ سے نکالا اور ایک چنار کی چھاؤں میں آرام سے بیٹھا ۔ کوئی ایسا افسانہ جس میں اپنا جگرچیر کر رکھدوں ، میں نے سوچا لیکن ذہن کے پردوں پر پتہ نہیں کیوں آج میرے ماضی کے ریلے مسلسل فلم کی طرح منعکس ہورہے تھے اور جانے کیوں ایک انجانہ سا کرب دل و دماغ پر محیط ہورہا تھا کہیں نہ کہیں شاید میرے وجود کے اندر سے ٹیسیں اُٹھ رہی تھیں ۔ میں نے کاپی پر قلم رکھا اور افسانے کا عنوان لکھا ، ’’ دل چیر کر رکھ دوں ‘‘۔ عنوا ن لکھ  تو دیا لیکن ابھی موضوع ذہن میں نہیں تھا۔ پھر ایک دم خیال آیا ،کیوں نہ اپنا ہی فسانہ لکھوںبس قلم کا غذ پر چلنے لگا ۔ ’’ جب میں دوسری بار بھی میٹرک میں فیل ہوا تو گھر سے بھاگ کھڑا ہوا کیونکہ مجھے پہلی بار فیل ہونے پر والد صاحب کے ڈنڈے یاد آئے جن کی وجہ سے میں کئی دنوں تک ’’صاحب فراش ‘‘ ہوا تھا لیکن ماں کی محبت اور شفقت نے مجھے ڈھونڈ ہی نکالا اور گھر پہنچا دیا ۔ اس بار میری حیرت کی کوئی انتہا ہی نہ رہی جب والد صاحب نے نہ تو کوئی ڈنڈا اٹھایا اور نہ ہی لاتوں سے میری آو بھگت کی بلکہ عجیب سے لہجے میں کہا تھا کہ ’’ اب تمہیں پڑھنے کا خیال ترک کرکے محنت مزدور ی کے لئے تیار ہونا چاہئے کیونکہ میں اکیلے گھر کا بوجھ نہیں اٹھا پاتاہوں۔ ‘‘ یہ بات درست بات بھی تھی۔

 ہم تین بھائی اور ہماری تین بہنیں ہیں اور ان سب میں میں ہی بڑا ہوں، اس لئے یہ بوجھ اصولی طور پر مجھے ہی ڈھونا ہوگا۔والد صاحب نے چاہا تھا کہ میں میٹرک کرلوں تو کسی چھوٹی موٹی نوکری کی بات بن جائے لیکن ایسا نہیں ہوا ۔ مجھے خود پتہ نہیں میں فیل کیوں ہوتا تھا  ، اس کے باوجود کہ پانچویں جماعت سے ہی پتہ نہیں کیوں مجھے محسوس  ہوتا تھا کہ یہ ٹیکسٹ جو ہم پڑھتے ہیں مجھے پڑھنے کی ضرورت ہی نہیں ۔ کیونکہ میں ان کتابی جملوں سے زیادہ خوبصور ت ، دلکش جملوں ،  پیراگرافوں اور کہانیوں کی تخلیق کر سکتا تھا۔ میرے مطالعے کا یہ عالم تھا کہ نویں جماعت تک مجھے بر صغیر کے تمام معروف و مشہور ادبا ء، شعرا اور قلم کاروں کے فن پاروں سے نہ صرف واقفیت ہوچکی تھی  بلکہ ان کے فن کو سمجھنے کی سوجھ بوجھ بھی تھی اور میں نے نویں  جماعت میں کئی افسانے بھی لکھے تھے ۔انگریزی بھی کچھ اچھی ہی تھی کیونکہ میں کتابوں سے کریمنگ یا رٹے رٹائے جملے دہرانے کے بجائے خود ہی مضامین لکھنے کی کوشش کرتا تھا لیکن اس کے باوجود میں پاس نہیں ہوا ، اس لئے دوسری بار  فیل ہونے پر میرے لئے سکول کے دروازے بند ہو گئے  تھے ۔اگلی صبح والد صاحب نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے ساتھ لیا اورسیدھا ڈاکٹر اسلم کے ہاں پہنچادیا۔

 یہاں مجھے تین بجے سے  رجسٹر میں بیماروں کا اندراج کرنا پڑتا تھا اور ڈاکٹر صاحب کے آنے پر ایک ایک کرکے بیماروں کو اندر چھوڑنے کے فرائض انجام دینے پڑتے تھے لیکن میری ڈیوٹی اس گھر کے اندر نو بجے سے ہی لگتی تھی کیونکہ یہاں باقی گھریلو کام جیسے ، جھاڑو پونچھا، برتن دھونا ، بستر وغیرہ قرینے سے اور سلیقے سے ٹھیک ٹھاک رکھنا بھی میرے ہی فرائض میں تھا ۔ گاڈی دھوتے دھوتے میں ایک روز خود ہی گاڑی چلانے کے قابل بھی ہوا ۔میرا کھانا پینا بھی اسی گھر میں تھا  اور اکثر بچا کھچا کھانا بھی جاتے ہوئے بڑی میم صاحب  لفافے میں ڈال کر میرے حوالے کرتیں۔مجھے لگ رہا تھا کہ میرے گھر کو اچھا خاصا ریلیف مل رہا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے بیٹے بھی کہیں باہر ایم بی بی ایس کر رہے تھے اور ان کی صاحب زادی مس ذائقہ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کر رہی تھیں۔ بہرحال میرے پاس ان کے گھر میںتین بجے تک کا وقت اکثر فرصت کا وقت ہوا کرتا تھا، شام کو بھی اکثر فرصت کے لمحات نصیب ہوتے اور اس دوران میں مطالعہ بھی کرتا اور نئی نئی کہانیاں بھی لکھتا۔  وقت بڑی تیزی سے گذرتا رہا اور میں چاہتے ہوئے بھی کسی ایک لمحے کو مقید نہیں کر پایا ۔ کون کر پاتا ہے ؟  وقت بہتا رہا۔ میم صاحب پی ایچ ڈی ہوئی اور یونیورسٹی میں پروفیسر بھی ہوئیں ۔ ڈاکٹر صاحب کے دو بیٹے ڈاکٹر ہوئے اور ایک نے ایم ڈی بھی کیا ۔میرے علم و فہم میں اضافہ ہوتا رہا اور مجھے خود ہی احساس تھا کہ اب میرے افسانوں میں کافی گہرائی اور گیرائی ہوتی ہے لیکن یہ میرا ہی خیال تھا، ادب پرکھنے والوں اور صحافیوں کا خیا ل کچھ اور تھا  جو اس واقع سے ظاہر ہے  ،،   ایک بار اس بیچ  مجھے شہر جانے کا اتفاق ہوااور ہمت کرکے ایک بڑے اخبار کے دفتر پہنچا ۔ انتظار کیا اور آخر ایڈیٹر صاحب کے درشن ہوئے ۔

مجھے سر تا پا کئی لمحے گھورتے رہے ،’’ ہاں تو ‘‘ انہوں نے اپنا چشمہ میز پر رکھتے ہوئے پوچھا ،’’کیا کام ہے ‘‘۔ میرا گلا سوکھ رہا تھا اور میں کرسی پر بیٹھ کر سامنے رکھا ہوا پانی کا گلاس بھی پینا چاہتا تھا لیکن ، نہیں بیٹھ سکا کیونکہ ایڈیٹر صاحب نے بیٹھنے کو کہا ہی نہیں ۔’’ جناب ،میں افسانے لکھتا ہوں ‘‘۔ میں نے جیب سے لفافہ نکالتے ہوئے کہا ’’میں چاہتا ہوں کہ آپ ا سے ایک بار پڑھیں اور اگر آپ کے معیار پر اترے تو چھاپ  دیں ، اس سے میری حوصلہ افزائی ہوگی ‘‘ ۔ ’’تمہاری کوالی فکیشن ‘‘انہوں نے مسکرا کر پوچھا۔کئی لمحوں تک میں کچھ کہہ ہی نہیں پایا ، آخر ہونٹوں سے دھیرے سے پھسلا ’’مہ، میٹرک‘‘۔ اس سے پہلے کہ میں فیل کہتا ، انہوں نے ایک قہقہہ  لگایا، ’’اس کلاس میں اور اس عمر میں بچے ، گائے اور گھوڑے پر مضامین لکھتے ہیں ، اٹھو میرا وقت ضائع مت کرو‘‘  اس طرح دوسری بار بھی میں ایک رسالے کے  ایڈیٹر سے ملا،یہ صاحب ایک ماہوار ادبی رسالہ نکالا کرتے تھے۔ جب میں نے انہیں یہ کہا تھا کہ میں میٹرک فیل ہوں تو وہ بے ساختہ ہنستے ہنستے  کرسی پر دہرئے ہوئے تھے اور بڑی مشکل سے ہنسی کے بیچ کہا تھا ’’ کیا تم ٹیگور ہو،چلو مان لیا کہ تم اچھے افسانے لکھتے ہو اور جب میں اس سے چھاپوں گا تو تمہارے نام کے ساتھ کیا لکھوں؟ میٹرک فیل ۔یہاں  بڑے نام ہی برانڈ بنتے ہیں اور تم نہ پروفیسر ہو ، نہ شعبہ اردو کے صدر ہو ، نہ لیکچرار ہو، نہ ایم فل ہو ، نہ پی ایچ ڈی ہو اورنہ ہی اکادمی کے سیکریٹری ہو ، تو اس افسانے کو پڑھے گا کون اور میرے  رسالے کو خریدے گا کون ؟  اس دن کے بعد میں سمجھ گیا کہ افسانے لکھنا ہی کافی نہیں بلکہ لکھنے والے کی کوئی ا ور پہچان ہونا بھی ضروری اور لازمی ہے، اس لئے میں نے سوچا کہ اپنے تمام کاغذات اور کاپیاں کسی ردی والے کو بیچ دوں یا جلادوں۔ میں اپنی ڈیوٹی کے بعد حسب معمول ڈاکٹر صاحب کے گھر آیا ، ڈنر کے بعد ہی میری چھٹی ہوا کرتی تھی۔ کبھی آوٹ ہاوس ہی میں رات گذارتا اور کبھی گھر چلا جاتا۔ لیکن آج میں نے فیصلہ کیا تھا کہ  یہیں رہوں گا اور اپنے سارے کاغذ اور کاپیاں جلاکر ہمیشہ کے لئے لکھنے سے تائب ہوجاؤں گا۔ میں نے تمام کاغذات سمیٹ کر ایک چھوٹی سی تھیلی بنائی  اور چپکے سے آوٹ ہاوس سے باہر آیا لیکن بدقسمتی سے ذائقہ صاحبہ نے مجھے اپنی کھڑکی سے شاید چوروں کی طرح تھیلی کے سمیت  باہر آتے دیکھا تھا اور فوراً ہی باہر آکر مجھے پکڑ لیا جب میں دروازے سے باہر جارہا تھا  ’’ کیا ہے یہ ، چوری بھی کرنے لگے ہو‘‘ ۔’’ نن ، نہیں تو ،یہ تو میرے کاغذ اور کاپیاں ہیں ،اور بس ‘‘میری آواز میں کپکپاہٹ تھی ’’مجھے دکھاؤ تو ‘‘ ذائقہ نے تھیلے میں ہاتھ ڈالا، ا سے کھنگالا، شاید کچھ نیچے چھپایا ہو ، لیکن کچھ نہیں ملا تو بولی ،’’سچ بتاؤ یہ کاپیاں اور کاغذ کیا ہیں اور کس کے ہیں، سچ اور کچھ نہیں‘‘ دھمکی آمیز لہجہ سے مجھے اپنی یہ نوکری جاتی ہوئی لگی تو سچ ہی کہا ،’’ اچھا تم اور افسانے ، وہ کھل کھلا کر ہنس پڑی۔ میں پی ایچ ڈی ہوں ، کوشش کے باوجود میں کبھی افسانہ نہیں لکھ پائی  ۔ تو تم۔ اچھا یہ تھیلہ میں لے جارہی ہوں ، دیکھوں گی کہ کیا خرافات لکھتے ہو‘‘  اس شام کے کئی دن بعد میں نے پروفیسر ذائقہ ایم اے پی ایچ ڈی کا نام جلّی حروف اور تصویر کے ساتھ بڑے بڑے  اخبارات  ا ور ادبی رسائل میں سر فہرست دیکھا لیکن افسانے میرے تھے۔وقت آگے بڑھتا رہا ۔ ذائقہ دیدی ملک کی بڑی افسانہ نگاروں میں شامل ہوئیں ،  مجھ پر مہرباں بھی ہوئیں اور کبھی کبھی ہفتے دو ہفتے کے بعد سو پانچ سو موج منانے اور کھانے پینے کے لئے بھی دیتی رہی جس کے بدلے میں ، میں کوئی نئی کہانی ان کی خدمت میں حاضر کرتا رہا۔ایک بار بڑے پیار سے پوچھا’’تم میرے لئے لکھتے ہو، کبھی افسوس نہیں ہوتا میں تمہاری محنت سے اتنا بڑا نام کماچکی ہوں ‘‘۔ ’’اِس میں افسوس کی کیا بات ہے میڈم ، تاج محل استاد احمد عیسیٰ خان کے خوابوں میں ضرور رہا ہوگا لیکن اس سے جمنا کنارے دھرتی پر شاہجہاں ہی نے  اُتارا تھا ‘‘ میں نے مسکرا کر کہا تھا ۔ میرا قلم رک گیا ،،،،،ذہن کو جھٹکا سا لگا ، اور مجھے چائے کی شدید ضرورت محسوس ہوئی۔ میں نے قلم کاپی ایسے ہی چھوڑ کر کنٹین کی راہ لی۔ آرام سے چائے پی لی، ذہن بالکل خالی سا تھا، نظر چنار کی طرف اٹھائی تو کسی اور شخص کو چنار کے سائے میں بیٹھے ہوئے پایا  جس کے ہاتھ میں میری کاپی تھی ۔  میں تیزی سے آگے بڑھا ،’’یہ تمہاری ہی کاپی ہے ‘‘اس نے نظر اٹھا کے پوچھا ، ’’جی‘‘کئی لمحے میری طرف ایک ٹک گھورتا رہا ، مجھے لگا اس کی دھندلی دھندلی آنکھیں میرے وجود کے اندر تک جھانک رہی ہیں ۔۔ ’’ بیٹھو ۔یہ تمہارافسانہ (جگر چیر کر رکھدوں گا )ادھورا ہے ابھی کلائمکس نہیں لکھا  ‘‘ اس کے چہرے کی سنجیدگی کچھ اور کہہ رہی تھی ’’جی ۔ سوجھا ہی نہیں ‘‘میں نے جواب دیا ۔’’ یہ جو اندر فنکشن ہورہی ہے ، اس میں سات ڈاکٹر ہیں، جن کے لئے تھسیز میں نے لکھی تھیں ،،، ہا ہا ہا ، اس نے قہقہ لگایا، کوئی یقین نہیں کر ے گا لیکن تم یقین کروگے ، میں اس یونیورسٹی کا لائبریرین تھا ۔ سروس کے ستائس سال میں سات بار پی ایچ ڈی کے لئے تھسیسز لکھی ہیں اور آخری تھسیسز تمہاری میم صاحب ہی کے لئے لکھی تھی۔‘‘ تمہارے سامنے ہم نے بھی جگر چیر کے رکھدیا ہے ۔اس نے میرے افسانے کا کلائمکس دیا تھا   ۔میں کھڑا ہوا ، دوڑ کر کار کا دروازہ کھولا کیونکہ پروفیسر ذائقہ ایم اے پی ایچ ڈی ، انعام یافتہ ہوکر پریس والوں کے ہجوم میں گاڑی کی طرف بڑھ رہی تھیں جس کے ڈیش میں اس کا نیا افسانہ ’’ جگر چیر کے رکھدوں‘ ‘ اس کا منتظر تھا ۔۔۔

 [email protected]

سوپور،کشمیر،موبائل نمبر؛9419514537