جگر سوز کرب وبلا!

آئین مشیت کا شناسا ایسا!
جس کے قدموں میں ہو کوثر وہ پیاسا ایسا
کیوں فخر سے جھومیں نہ رسولؐ عربی
فضل رب سے ملتا ہے نواسہ ایسا
اسلامی سال کا آغاز ماہ محرم الحرام سے ہوتا ہے اور ماہ ذوالحجہ پر اس کا اختتام ہوتا ہے۔ محرم الحرام سے اس کا آغاز اور ذوالحجہ پر اختتام اس بات کی علامت ہے کہ اسلامی زندگی کا سفر شروع بھی قربانی سے ہوتا ہے اور ختم بھی قربانی پر ہوتا ہے۔ گویا ایک مسلمان کی تمام زندگی قربانی سے عبارت ہے۔
ذوالحجہ کا مہینہ ہمارے سامنے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے عشق الہٰی کا بے پناہ جذبہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی آرزوئے شہادت کا نقشہ پیش کرتا ہے۔ اسی طرح محرم الحرام کا مہینہ سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کے عملی واقعہ کی جانب دعوت دیتا ہے۔ ماہ ذوالحجہ کی دسویں تاریخ کو حضرت اسماعیل ؑ خداوند تعالی کی خوشنودی اور رضا کی خاطر اپنا سر چھری کے نیچے رکھ دیتے ہیں مگر یہ تن سے جدا ہونے سے قبل ہی درجہ قبولیت حاصل کر لیتا ہے اور ماہ محرم الحرام کی دسویں تاریخ کو نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہ صرف اپنی بلکہ اپنے جگر گوشوں، بھائیوں اور عزیزوں کی گردنیں اپنے مولا کی بارگاہ میں حق کی پذیرائی کے لیے بخوشی کٹا دیتے ہیں۔
شریعتِ اسلامیہ میں محرم الحرام کی اہمیت بہت زیادہ ہے جیسا کہ قرآنِ مجید میں سورۃ التوبہ کی آیت نمبر ۳۶ کے مطابق یہ چار حرمت والے مہینوں میں سے ایک مہینہ ہے ۔ حرمت والا مہینہ ہونے سے مرادیہ ہے کہ اس مہینے کا احترام کیا جائے ۔ قتل و غارت، جنگ و جدل اور لوٹ مار نہ کی جائے بلکہ امن وسکون قائم کیا جائے ۔ خود بھی امن سے رہیں اور دوسروں کوبھی امن سے رہنے کا موقع دیں۔ انسانی تاریخ جتنی پرانی ہے ، اسی قدر جنگ و جدل کی تاریخ بھی قدیم ہے ۔ رب العزت کا مسلمانوں کو حکم ہے کہ اِن چار مہینوں میں امن وامان کو اختیار کیا جائے ۔ تمدن و تہذیب کی بقا اور ترقی کے لیے اور نسل انسان کے وقار اور تحفظ کے لیے اللہ نے یہ حرمت والے مہینوں کا ضابطہ روزازل سے ہی مقرر فرما دیا۔
اس مقدس مہینے کی دوسری اہمیت یہ ہے کہ اسلامی کیلنڈر کا یہ پہلا مہینہ ہے ۔ نئے سال کی ابتدا کرتے ہوئے اس مہینے کے آغاز میں خوشی اور سلامتی کے جذبات کا اظہار ایک فطری امر ہے ۔ چنانچہ اس مہینے کا یہ حق ہے کہ اسے نئی اُمنگوں، بھرپور اُمیدوں، تازہ ولولوں اور پُرخلوص دعاؤں کے ساتھ شروع کیا جائے مگر مسلمانوں کی اکثریت چونکہ مغرب زدگی اور اسلامی اقدار سے بیزاری کا شکار ہوچکی ہے ، اس لیے موجودہ مسلم معاشروں میں ایسا اہتمام کم ہی نظر آتا ہے ۔
 خلیفہ ثانی حضرت عمرؓکی شہادت بھی یکم محرم کو ہوئی۔آپ ؓ کو ایک پارسی غلام فیروز ابولؤلؤ نے شہادت سے تین دن پہلے خنجر کے وار کر کے شدید زخمی کر دیا تھا۔آپؓ کی شہادت کے بعد آپ کویکم محرم کو دفن کیاگیا۔محرم الحرام کا آغاز ہی اسلامی تاریخ کے اس اندوہ ناک واقعہ سے ہوتا ہے ۔ آپ کی شہادت اسلام کے لئے بہت بڑا سانحہ تھی۔اس مہینے کی چوتھی اہمیت یہ ہے کہ حدیث ِمبارکہ میں اسے ’’شھر اللہ‘‘ کہا گیا ہے اور رمضان کے بعد سب سے افضل ماہ محرم الحرام کو قرار دیا گیا ہے ۔ اس مہینے کی دس تاریخ کو ’’عاشورۂ محرم‘‘ کہا جاتا ہے ۔  اس مہینے کی پانچویں اہمیت یہ ہے کہ اسلامی تاریخ کا دردناک اور تکلیف دہ واقعہ یعنی واقعۂ کربلا اسی مہینے کی دسویں تاریخ کو پیش آیا جس میں نواسۂ رسولؐ سیدنا حسین ؓ اور بیشتر اہل بیت عظام  ؓشہید ہوگئے ۔ ستم یہ کہ اُن کو شہید کرنے والے بھی مسلمان ہی کہلاتے تھے ۔ 
جگر سوز واقعۂ کربلا اسلام اور انسانیت کے لیے عظیم ترین قربانی اور گراں قدر خدمات کے تسلسل میں اسلامی اقدار کی ایک منور مثال پیش کرتا ہے۔ حضرت امام حسین ؓ ان کے اہل بیت ؓ اور اصحاب ؓ نے شہادت کی جو انمول مثال پیش کی ہے ،وہ عقول انسانی کو بالیدگی اور قلوب انسانی کو اعلیٰ وارفع اقدار فراہم کرتی رہیں گی۔
 حضرت امام حسین ؓ کی شہادت کا اہم اسلامی و تاریخی واقع کو تاریخ عالم میں ایک خاص امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ اس میں ایک طرف جبر و استداد اور سنگدلی و بے ضمیری کے ایسے ہولناک اور حیرت انگیز واقعات ہیں کہ جن کے بارے میں انسان کا تصور کرنا بھی دشوار ہے، دوسری طرف آل اطہار سرور کائنات تاجدارمدینہ حضرت محمد مصطفی صلی علیہ وسلم کے چشم و چراغ اور ان کی چھوٹی سی جماعت کا باطل کے ساتھ مقابلہ پر جہاد اور اس پر ثابت قدمی، قربانی اور جانثاری کے ایسے محیر العقول واقعات ہیں جس کی نظیر تاریخ میں ملنا محال ہے اور آئندہ نسلوں کے لیے ہزار ہا پند و نصائح پوشیدہ ہیں:
باز از ماہ محرم در جھان
تازہ شد داغ مصیبت دوستان
 حضرت امام حسین ؓ کا اپنے مٹھے بھرقافلہ سمیت ارض کربلا میں وارد ہونے، آپ ؓکے اصحاب و انصار اور مخدرات عصمت و طہارت پر پانی کا بند کیے جانے اور اہل قافلہ کا شدت پیاس سے برا حال ہونے کا واقعہ بڑے دردناک ہے اور جب آپؓ  کے تمام رفقا شہید ہو گئے تو اس وقت آپ ؓنے کربلا کی جلتی ہوئی زمین پر بے یار و مددگار تن تنہا بڑی بہادری اور جواں مردی کے ساتھ دشمنوں کا بھر پور مقابلہ کیا، انجام کار آپؓ بھی جام شہادت نوش فرما گئے!انا للہ اناالیہ راجعون  
بد طینت شمر نے کند خنجر سے شہ رگ اسلام پر بھر پور وار کیا اور جو خشک گلے سے خون کا فوارہ جاری ہوا تو اس سے صحرائے کربلا پر اسلام کی فتح اور یزید کی ازلی شکست لکھی گئی۔ ذیل کے اشعار اس دردناک و پرسوز واقعہ کی جانب اشارہ کیا ہے:
فاطمہ را دل از این آتش کباب
خاک بر سر کرد زین غم بو تراب
گر جفای کوفیانِ بی وفا
چون شھادت یافت سیّد مصطفیٰ
بر گلوی تشنۂ آن کامیاب
حکم خنجر شد روان مانند آب
گر جابر نیزہ عدا سرش
غرق خون گردید رعنا پیکرش
جوش زد از پیکرش دریای خون
شد زمین از خون پاکش لالہ گون
اس میں کوئی شک نہیں کہ واقعۂ جگر سوز کربلا انسانی تاریخ کا سب سے بڑا حادثہ ہے اور اس کی غم انگیز داستان سر بلندی اور سر فرازی کی داستان ہے۔ رویات مین آیا ہے کہ اس جانکاہ واقعہ کی خبر اللہ تعالی نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کر دی تھی۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی زوجہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو ایک شیشی میں کچھ مٹی دے کر فرمایا تھا کہ یہ اس جگہ کی مٹی ہے جہاں میرے نواسے کو شہید کیا جائے گا۔ جب وہ شہید ہوگا تو یہ مٹی خون کی طرح سرخ ہو جائے گی۔ کربلا کے واقعے کے وقت حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا زندہ تھیں اور جس وقت امام حسین ؓ شہید ہوئے یہ مٹی خون کی طرح سرخ اور مائع ہو گئی تھی۔ اسلامی تاریخ کو کسی اور واقعہ نے اس قدر اور اس طرح متاثر نہیں کیا جیسے سانحہ کربلا نے کیا۔ آنحضورؐ اور خلفائے راشدین ؓنے جو اسلامی حکومت قائم کی، اس کی بنیاد انسانی حاکمیت کی بجائے اللہ تعالٰی کی حاکمیت کے اصول پر رکھی گئی ۔ اس نظام کی روح شورائیت میں پنہاں تھی ۔ اسلامی تعلیمات کا بنیادی مقصد بنی نوع انسان کو شخصی غلامی سے نکال کر خداپرستی ، حریت فکر، انسان دوستی ، مساوات اور اخوت و محبت کا درس دینا تھا۔ خلفائے راشدین کے دور تک اسلامی حکومت کی یہ حیثیت برقرار رہی۔ یزید کی حکومت چونکہ ان اصولوں سے ہٹ کر شخصی بادشاہت کے تصور پر قائم کی گئی تھی ۔ لہٰذا جمہور مسلمان اس تبدیلی کواسلامی نظام شریعت پر ایک کاری ضرب سمجھتے تھے ،اس لیے امام حسین محض ان اسلامی اصولوں اور قدروں کی بقاء و بحالی کے لیے میدان عمل میں اترے ، راہ حق پر چلنے والوں پر جو کچھ میدان کربلا میں گزری وہ جور جفا ، بے رحمی اور استبداد کی بدترین مثال ہے ۔ 
 یہ نقطہ قابل غور ہے کہ جب شخصی اور ذاتی مصالح ، ملی ، اخلاقی اور مذہبی مصلحتوں پر حاوی ہو جاتے ہیں توانسان درندگی کی بدترین مثالیں بھی پیش کرنے پرقادر ہے اور ایسی مثالوں سے تو یورپ کی ساری تاریخ بھری پڑی ہے ۔ سانحہ کربلا تاریخ اسلام کا ایک شاندار اور زریں باب بھی ہے جہاں تک اسلامی تعلیمات کا تعلق ہے اس میں شخصی حکومتوں یا بادشاہت کا کوئی تصور موجود نہیں۔ یزید کی نامزدگی اسلام کی نظام شورائیت کی نفی تھی۔ لہٰذا امام حسینؓ نے جس پامردی اور صبر سے کربلا کے میدان میں مصائب و مشکلات کو برداشت کیا وہ حریت ، فکر ، جرأت ایماں اور صبر و استقلال کی لازوال داستان ہے ۔ باطل کی قوتوں کے سامنے سرنگوں نہ ہو کر آپ ؓنے حق و انصاف کے اصولوں کی بالادستی ، حریت فکر اور خداکی حاکمیت کا پرچم بلند کرکے اسلامی روایات کی لاج رکھ لی اور انہیں ریگ زار عجم میں دفن ہونے سے بچا لیا۔ امام حسین ؓ کا یہ ایثار اور قربانی تاریخ اسلام کا ایک ایسا درخشندہ باب ہے جو رہروان منزل شوق و محبت اور حقیقی حریت پسندوں کے لیے ایک اعلیٰ ترین نمونہ ہے ۔ سانحہ کربلا آزادیٔ آدم کی اس جدوجہد کا نقطہ آغاز ہے جو اسلامی اصولوں کی بقا اور احیاء کے لیے تاریخ اسلام میں پہلی بار شروع کی گئی۔ سچ ہے کہ ؎
اسلام زندہ ہوتا ہے ہرکربلا کے بعد