’جُھوٹا پریس‘ اور ’جعلی خبر‘

نازی ہٹلر کے زمانے میں جرمنی کے اندر آزاد صحافت کیخلاف پروپگنڈا کے طور پرLugenpresse  (لیگون پریس) کی اصطلاح استعمال کی جاتی تھی۔ اس کا مطلب’جھوٹا پریس‘ ہے اوراس کا استعمال ہٹلر کے زیر اثر ڈھندورچی ہر اُس ادارے اور اُس صحافی کیخلاف کرتے تھے جو اُنہیں لگتا تھا کہ اُن کی سوچ کیخلاف ہے۔اس اصطلاح کا استعمال کیتھولک حلقوں کی طرف سے بھی خوب کیا گیا جب اُنہوں نے 1948کے انقلاب کے دوران آزاد صحافت کو نشانہ بنایا۔جب یہ بات طے ہوگئی کہ نازیوں کی طرف سے اس اصطلاح کا استعمال پروپگنڈا کے طور کیا جارہا ہے تو جرمنی کے دانشوروں نے اس کا پوسٹ مارٹم پہلی جنگ عظیم کے دوران شروع کیا۔بعد ازاں نازیوں نے اس اصطلاح کو پہلے یہودیوں ،پھر کیمونسٹوں اور آخر پر غیر مقامی میڈیا کیخلاف بھی استعمال کیا۔باالفاظ دیگر’جھوٹے پریس‘ کی اصطلاح کا استعمال تاریخی طور پر پروپگنڈا کے طور کیا جاتا رہا ہے اور اس کا نشانہ آزاد صحافت یا کبھی مختلف قسم کی تحریکیں رہی ہیں۔ اسی اصطلاح کی جگہ آج کل کی دنیا میںFake News )فیک نیوز( یا ’جعلی خبر‘ نے لے رکھی ہے۔ جو خبریا جو تجزیہ آپ کے حق میں نہ ہو،اُس کو آرام سے ’’فیک‘‘ یعنی’ جعلی‘ قرار دیکر نہ صرف عوامی حلقوں بلکہ خواص کو بھی اس کی حقیقت پر انگلیاں اٹھانے پر مجبور کیا جارہا ہے اور اس طرح اُنہیں سچائی سننے اور پڑھنے سے روکا جارہا ہے۔ اور تو اور پروپگنڈا ٹول کے طور استعمال ہونے والے بعض میڈیا ادارے بھی اب مخصوص علاقوں یا مخصوص معاملات سے متعلق رپورٹنگ کے بارے میںزمینی حقائق کو ’فیک نیوز‘ قرار دینے میں پیش پیش نظر آرہے ہیں۔
میڈیا کا کام راستہ دکھانا ہے، صحیح بات کو پہنچاننا اور انسانی ذہن کو حقیقت تک رسائی د لانا ہے۔ حقیقی معنوں میں ہونا یہ چاہئے کہ خبر کے پس پردہ کوئی قوت اس خبر کی’خبریت‘ پر اثر انداز نہ ہو اور وہ اس خبر کو اپنے مفادات کے لیے استعمال نہ کرے۔یہی پیشہ ورانہ صحافت ہے اور اسی کو تاریخی طور تکریم عطا ہوئی ہے۔یہی وہ صحافت ہے جو انسانی سماج کے ہر شعبے پر اثر انداز ہونے کی طاقت رکھتی ہے۔اسی طرح کی صحافت نے ٹیکنالوجی کے سہارے وسیع و عریض کرہ ارض کو بدل کے رکھ دیا ہے۔اگر آج کل کا انسان ہر پل کی جانکاری رکھتا ہے تو اس کا سہرا اسی جدید میڈیا کے ہی سر بندھتا ہے۔دور حاضر میں معلومات کی قلت نہیں بلکہ معلومات کا سیلاب ہے جس نے بے شک انسان کو فکری پریشانیوں میں مبتلاء کر رکھا ہے ۔ایسے میں میڈیا کا کردار زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے جس کی ذمہ داری ہے کہ صحیح اطلاعات کی ترسیل عمل میں لاکر ’جھوٹے پریس‘ اور’جعلی خبر‘ کا قلع قمع کرے۔ایسا کرکے ہی انسان کی مثبت ذہن سازی ہوسکتی ہے اور پروپگنڈا کا توڑ ہوسکتا ہے۔لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ عام انسان میڈیا کے شور و غل میں صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے سے قاصر ہے، بلکہ یوں کہا جائے تو مناسب ہوگا کہ بعض میڈیا ادارے ہی اب پروپگنڈا کے ہتھیار بن کر’جھوٹے پریس‘ کی علامت اور’جعلی خبر‘ کی ترسیل کا ذریعہ بن رہے ہیں۔یہ میڈیا ادارے کسی واقعہ کا تجزیہ کرتے وقت ’اطلاعات کے مطابق‘ اور اس کے’ حقیقی طور‘ ہونے کے درمیان حائل دبیز پردے کا خیال نہ رکھ کر خود ہی وکیل اورخود ہی جج کا کردار ادا کرتے ہوئے کسی بھی شخص یا ادارے کی شبیہ کو پل میں زمین بوس کرنے یا ایک لمحے میں آسمان کی بلندیوں تک پہنچانے کے مرتکب ہورہے ہیں۔ایسے مخصوص میڈیا اداروں کے مباحثوں کے دوران شور شرابے سے کون واقف نہیں ہے۔اب تو بد قسمتی سے پرنٹ میڈیا کے چند ادارے بھی اس شور شرابے میں شریک ہوکر جانے کہاں کہاں کے قلابے ملاتے رہتے ہیں۔میڈیا اداروں میں بعض ایسے بھی ہیں جو محض پیسہ بٹورنے میں لگے ہیں اور اُنہیں انسانوں کی ذہن سازی یا انسانی سماج کے مختلف شعبوں پر اثر انداز ہونے سے کوئی لینا دینا ہی نہیں ہے۔ ایسے ادارے زہر ناک ہیں کیونکہ وہ میڈیا کا حصہ ہوکر بھی میڈیا کے برعکس کردار ادا کررہے ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ موجودہ میڈیا ایک بے قابو جن ہے جس سے پیچھا چھڑانے کا کوئی بھی طریقہ موجود نہیں ہے، اس لئے میڈیاسے دوستی ہی بہتر ہے کیونکہ یہی میڈیا ہمارے سماج کے ہر شعبے پر اثر انداز ہوکر اس میں تغیر پیدا کرنے کی قوت بھی رکھتا ہے اور صلاحیت بھی۔میڈیا کے ساتھ ہمارے سماج کی ضروریات ہم آہنگ ہوگئیں تو کوئی بھی بادِ مخالف اُسے نقصان نہیں پہنچا سکتی ہے۔سیاست ہو یا معاشرت، معیشت ہو یا تمدن، ہر انسانی شعبہ نفع بخش ہوسکتا ہے اور کوئی بھی پروپگنڈا لوگوں کو اپنے اثر سے متاثر نہیں کرسکتا ہے۔ ماہرین مانتے ہیں کہ جدید میڈیا سے براہ راست ٹکر لینے سے موجودہ مسائل میں مزید اُلجھائو پیدا ہونے کا خدشہ ہے ،اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ابلاغی دنیا میں ایسی سرمایہ کاری کی جائے جس سے ’پروپگنڈا میڈیا‘،’جھوٹے پریس‘ اور ’جعلی خبر‘ کا مقابلہ کیا جاسکے۔ بصورت دیگرسماج میں صحیح و غلط کی تمیز مٹ کر انتشار مسلسل بڑھ جائے گا، نتیجہ استحصال کے طور پر سامنے آئے گا اور یہ استحصالی صورتحال ہر شعبے کو اپنی لپیٹ میں لے گی۔پھر کس کو’ دہشت گرد‘ قرار دینا ہے اور کس کو’شدت پسند‘ یا کس پر’ملک دشمنی‘ کا لیبل چسپان کرنا ہے اور کس کو’قوم پرستی‘ کا تمغہ عطا کرنا ہے، ان ساری باتوں کا فیصلہ کوئی اور نہیں یہی ’بے قابو‘ اور’ استحصالی میڈیا‘ کرے گا۔ 
پیشہ ورانہ اقدار کو تھامے رکھنے سے ہی صحافت کی خدمت کی جاسکتی ہے۔میڈیا پر لوگ اعتبار کرتے ہیں، اس کی دی جانے والی معلومات پر بھروسہ کرتے ہیں، اسے مصدقہ اور ثقہ خیال کرتے ہیں۔ لہٰذا میڈیا کی خبروں میں کسی قسم کا شک و ریب نہیں ہونا چاہئے۔ میڈیا کا کام یہ ہرگز نہیں کہ وہ لوگوں کی تضحیک کرے، ان کا تمسخر اور استہزاء اڑائے، ان کی کردار کشی کرے اور ان کی پگڑیاں اچھالے اور ان پر طعنہ زنی کرے۔ہر منفی کام، میڈیا کا اپنی ذمہ داریوں سے تجاوز ہے اور ہر مثبت کام میڈیا کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ منفی رجحانات کا قلع قمع کرنا میڈیا کا فرض اور مثبت تصورات کو فروغ دینا میڈیا کی شناخت ہے۔
اپنی اسی شناخت کی حفاظت کرنے والا میڈیا دھونس ودبائو کو جمہوریت اور زیادتی کو ترقی قرار نہیں دیتا ہے،خاموشی کو امن اورخوف کو عزت نہیں مانتا ہے۔ ساتھ ہی یہ حقیقت کسی بھی وقت ذہن سے نہیں نکالی جانی چاہئے کہ صحافی کوئی مافوق الفطرت مخلوق نہیں ہوتے ہیں جو ڈر اور خوف سے مبرا ہوں اور جنہیں مشین کی طرح استعمال کیا جائے، یا جنہیں چابی پر گھمایا جائے۔ صحافی بھی ہمارے ہی سماج کا حصہ ہوتے ہیں، اُن سے بھی غلطیاں سرزد ہوسکتی ہیں، اُن کی بھی ضروریات ہوتی ہیں، وہ بھی جذبات رکھتے ہیں، اُن کی بھی فیملی ہوتی ہے، وہ بھی انسانی جبلت کے مطابق متاثر ہوتے ہیں۔ صحافتی اداروں کے مالکان کے بارے میں بھی یہی ساری باتیں حقیقت ہیں۔ اس لئے انسانی فطرت کے مطابق کبھی کوئی چھوٹا بڑا معاملہ درپیش آجائے تو سازشی تھیوری کا سہارا لیکر فوری طور پر فیصلہ صادر کرنے کے بجائے صحافی اور صحافتی ادارے کو وضاحت کی مہلت دی جانی چاہئے ۔