’جو دَرد کلبھوشن یادو کے والدین پر گزرا، کشمیری ہر روز اسی درد میں مبتلا ہوتے ہیں‘

سرینگر//لبریشن فرنٹ چیئر مین محمد یاسین ملک نے وزیر خارجہ سشما سوراج کے نام مکتوب روانہ کرتے ہوئے جیلوں میں نظر بند کشمیری قیدیوں کی حالات زار بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کلبھوشن یادو کے اہل خانہ کیساتھ پاکستانی رویہ کے بارے میں جن تاثرات کو انہوں نے پارلیمنٹ میں بیان کیا ایسے رویے سے ہر کشمیری کا بھارت کے زندان خانوں میں واسطہ پڑا ہے۔مکتوب میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ زندان خانوں میں نظربندی کے ایام گزار رہے کشمیری محبوسین کو اپنے اہل خانہ سے بھی ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ خط کے متن میں کہا گیا ہے عوامی زندگی میں یہ وقت وقت پر ضروری بن جاتا ہے کہ ضروری مسائل پر ایمانداری کے ساتھ دوسرے لوگوں کے اندرون،خدشات اور مصائب پر بات کی جائے۔محمد یاسین ملک نے مکتوب میں کہا ہے کہ وہ  ایک سیاسی مہم کار کے بطور نہیں بلکہ ایک عام شہری اور قیدی کی حیثیت سے ان سے مخاطب ہیں،جس نے بھارتی جیلوں میں سالہا سال گزارے اور آئے دن جموں وکشمیر کی جیلوں میں زندگی گزارتے ہیں۔ خط میں وزیر خارجہ کے28دسمبر کے پارلیمنٹ میں خطاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ، کلبوشن یادو کے پاکستان میں انکے اہل خانہ سے ملاقات پر سشما سوراج نے جذباتی تقریر کی۔محمد یاسین ملک نے لکھا’’28دسمبر2017کو بھارتی پارلیمنٹ میں ،میں نے آپ کی جذباتی تقریر سنی،جہاں پر آپ نے اپنے الفاظ میں بھارتی قیدی کلبوشن یادو کی پاکستان میں اس کے کنبے کے ساتھ ملاقات کا خاکہ کھنچا۔آپ اس بات کا یقین کریں کہ آپ کے الفاظ نے میرے دل کو چھو لیا،اور بہ حیثیت ایک قیدی ،جس نے قیدخانے کے مصائب اور زندگی دیکھی ہے،میں ان مصائب کا اندازہ لگا سکتا ہو،جس سے یادو کی اہلیہ اور والدہ کو گزرنا پڑا‘‘۔انہوں نے تحریر کرتے ہوئے کہا کہ انسانی وقار کا حمایتی اور قیدیوں کے حقوق کا طرفدار میں کلبوشن یادو کے حقوق کی فرفداری بھی کرتا ہوں،اور یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے کہ وہ کون ہے،اس نے کیا کیا ہے،تاہم اس کو اپنے حقوق حاصل ہیں۔انہوں نے خط میں تحریر کیا کہ کلبوشن یادو کی والدہ اپنے بیٹے سے بغلگیر ہونا چاہتی تھی،مگر اس کو اجازت نہیں دی گئی،جس سے میں دیدہ تر ہوا،اور میرے پرانے زخم پھر سے ہرے ہوئے۔محمد یاسین ملک نے تحریر کیا ہے مجھے اپنی بزرگ والدہ کی یادیں آئیں،جب وہ کئی موقع پر جیلوں بالخصوص تہاڑ جیل میں،مجھ سے بغلگیر ہونا چاہتی تھی،تاہم جیل انتظامیہ نے انہیں اس کی اجازت نہیں دی۔مجھے اپنی بہن کے آنسوں بھی یاد آئے جو شیشے کی دیوار کے پیچھے مجھ سے ملنا برداشت نہیں کر رہی تھی،اور یادو کی طرح ہی انٹرکام پر مجھ سے بات کر رہی تھی،جبکہ سیکورٹی وجوہات کی بنیاد پر اس کی اس درخواست کو بھی مسترد کیا گیا کہ وہ مجھے چھونا چاہتی ہے۔ محمد یاسین ملک نے جودھپور جیل کے واقعہ کی طرف وزیر خارجہ کا دھیان مبذول کراتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے یاد ہے’’1999میں جب میں اس جیل میں بند تھا،تو میری بہن کی آنکھوں سے آنسوئوں  رواں تھے،کیونکہ جیل کے سپرانٹنڈنٹ نے حیران کن طور پر کہا کہ صرف خون کے رشتے دار مل سکتے ہیں،اور بہن ،بھائی کے درمیان خون کا رشتہ نہیں ہوتا ہے۔ ملک نے سشما سوراج کو ایک خاتون ہونے کے ناطے اپنی والدہ اور چھوٹی بہن پر بیتے ہوئے ان لمحات کے درد کو محسوس کرنے کا مشورہ دیا۔جب ایک بہن ہزاروں میل دور اپنے بھائی سے جیل میں ملنے کیلئے آئی،اور اس کو ملنے سے روکا گیا۔ محمد یاسین ملک نے خط میں اس بات کا ذکر بھی کیا کہ کلبوشن کی والدہ کو منگل سوتر اور بندی کے بغیر دیکھ اس کے بیٹے نے پوچھا  کہ اس کے والد کیسے ہیں،اور اس کو خدشہ ہوا کہ اس کا والد شائد اس دنیا میں نہیں ہے،اور مجھے بھی اس سے دل کو سخت ٹھیس پہنچی ،کیونکہ کئی بار اس طرح کے خدشات میرے ذہن میں بھی اٹھ گئے تھے۔ خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ بھارتی قیدی اور اس کے اہل خانہ کی آزمائش، دردناک ہوسکتی ہے،مگر آپ کے ملک کا ریکارڑ بھی اس تناظر میں شاندار نہیں ہے۔خط میں مرحوم مقبول بٹ کا ذکر بھی کیا گیا ہے،جس کو دہلی کے تہاڑ جیل میں تختہ دار پر لٹکایا گیا،اور ایک بار بھی انہیں اپنے گھر والوں سے ملاقات کرنے کا موقعہ نہیں دیا گیا،جبکہ اس کے بردار اصغر،جو اپنے بڑے بھائی کا جسد خاکی لینے کیلئے دہلی جا رہا تھا،اس کو بھی سرینگر ائرپورٹ پر گرفتار کیا گیا،اور بعد میں ان کے اہل خانہ کی عدم موجودگی میں انہیں تہار جیل میں ہی سپرد خاک کیا گیا۔اس خط میں مرحوم محمد افضل گورو کا ذکر بھی کیا گیا ہے،جبکہ اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ بھارتی لوگوں کے اجتماعی ضمیر کو مطمئن کرنے کیلئے2013میں ہی تہار جیل میں تختہ دار پر لٹکایا گیا۔محمد یاسین ملک نے تحریر کیا’’یہ ریکارڑ میں موجود ہے کہ انکے12سالہ بیٹے کے علاوہ80برس کی والدہ اور نوجوان اہلیہ کو آخری بار محمد افضل گوروسے ملاقات کرنے نہیں دیا گیا،بلکہ انہیں معقول انداز میں سپرد خاک کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی،جبکہ ان خاندانوں کے لوگ ابھی جسد خاکی کا انتظار کر رہے ہیں‘‘۔محمد یاسین ملک نے وزیرخارجہ سے مخاطب ہوکر کہا ہے کہ اس کے علاوہ بھی ہزاروں لوگ ایسے ہیں،جنہیں گرفتار کر کے دوران حراست لاپتہ کیا گیا،اور انکے والدین ابھی بھی انکے انتظار میں آنسو بہا رہے ہیں۔خط میں کہا گیا ہے کہ ہر ایک قیدی کے اپنے حقوق ہیں،اور اس میں اپنے اصول بھی ایک ہونے چاہیں۔لبریشن فرنٹ چیئرمین نے خط میں تحریر کیا ہے کہ حال ہی میں انہوں نے ایک ایسے کنبے سے ملاقات کی،جس کا ایک فرد جیل میں ہے۔ملک نے کہا’’ اس فرد کی بیٹی نے مجھ سے عاجزی کی،کہ میں کچھ کرئو ںکہ وہ اپنے والد کے چہرے کو ہاتھ لگا سکیں‘‘۔ خط میں شبیر احمد شاہ، نعیم احمد خان،پیر سیف اللہ،ایاز اکبر،راجہ معراج الدین کلوال،الطاف احمد شاہ،فاروق احمد دار عرف بٹہ کراٹے،ظہور احمد وتالے اور دیگر کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انکی حالت بھی ایسے ہی ہے۔محمد یاسین ملک نے2004کے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہلی کورٹ میں کئی پیشیوں پر حاضر نہ ہونے پر مجھے تہاڑ جیل بھیج دیا گیا،جبکہ جیل انتظامیہ نے میرے تمام کپڑے اتار دئیے،اور پاجامہ بھی اتارنے کیلئے کہا،تاہم جب میں نے اس بات پر مزاحمت کی،تو بندوق کے بٹھوں اور لاٹھیوں سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا،جس کی وجہ سے میرے دائیں بازوں میں فریکچر ہوا۔ مکتوب میں محمد یاسین ملک نے تحریر کیا ہے کہ حالیہ برسوں میں پرامن احتجاجی مظاہروں کے دوران گرفتار کئے گئے نوجوانون اور طلاب کی حالات زار نا قابل گفتہ ہیں،جبکہ انکی بہنوں اوروالدین کے ساتھ پولیس تھانوں میں جو سلوک کیا جاتا ہے،وہ نا قابل بیان ہے۔ پاکستانی میڈیا کی طرف سے کلبوشن یادئو کے کنبے کو کئے گئے سوالات پر آپ حشم ناک ہوئی، میں بھی یہ سمجھتا ہو ںکہ قیدیوں کے اہل خانہ کو اس طرح ہراساں نہیں کیا جانا چاہے،اور یہ مذہبی،انسانی اور برصغیر کے اخلاقیات کے منافی ہے،تاہم جب میں دہلی میں،اپنی بچی اور اہلیہ کے ساتھ تھا،جنہیں پاکستان جانا تھا،مجھے ہوٹل سے باہر کیا گیا،جبکہ مجھے اپنی اہلیہ کے ساتھ درگاہ نظام الدین میں کئی گھنٹوں گزارنے پڑے،جس کے بعد مجھے دوست نے اپنے گھر لیا،جبکہ اس سے قبل بھی بھاجپا کے کارکنوں نے  مرحوم خواجہ عبدالغنی لون کی دہلی رہائش گاہ پر مجھ پر حملہ کیا،جبکہ اپنی اہلیہ کو پتھرئوں سے بچانے کے دوران میں زخمی ہوا۔