جوے کا چَسکا اور امیر بننے کے خواب ہماری غافل اور کاہل نوجوان نسل کہاں پھنس گئی ہے؟

_اِکز اقبال

بات بہت زیادہ سنجیدہ ہے، بات ذمہ داری کی ہے، بات خود سمجھنے اور سب کو سمجھانے کی ہے۔ بات ہمارے نوجوانوں کی ہے،بات ہمارے معاشرے کی ہے، بات موبائل فون کے ہمارے نو جوان نسل پر بُرے اثرات کی ہے، بات مستقبل کو محفوظ بنانے کی ہے۔ کیا ہماری نوجوان نسل گہری اندھیری میں گر پڑی ہیں؟ کیا نوجوان نسل کا مستقبل داؤ پر ہے؟ اس سب کا ذمہ دار کون ہے؟ اپنی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور جلدی سے جلدی تدارک کی راہیں ڈھونڈنی ہونگی ۔ نہیں تو ہم شائد اپنی نوجوان نسل کو کھو دیں گے ۔کیونکہ امیر بننے کے خواب میں ہماری کاہل اور غافل نوجوان نسل سے ہر کوئی فائدہ اٹھا رہی ہے۔

موبائل فون اور انٹرنیٹ ہماری زندگیوں میں لاشعوری طور پر ایک ناگزیر ضرورت بن چکے ہیں ۔ خاص طور پر اینڈرائیڈ موبائل فونز، اینڈرائیڈ موبائل فون کے ہماری زندگیوں میں آمد سے سہولیات تو حاصل ہوئی، وہیں اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے اَن گنت بُرائیوں اور پریشانیوں نے جنم لیا ہے ۔ خاص طور پر ہماری نوجوان نسل میں پائی جانے والی بُرائیاں جیسے موبائل فونز کا غیر اخلاقی استعمال ‘ آن لائن گینبلنگ گیمز ( ONLINE GAMBLING GAMES )اور جوے کی طرف رجحان وقت اور پیسوں کا بے دریغ ضیاع ‘ وغیرہ وغیرہ ۔
جو بات تشویش ناک اور اذیت ناک بنی ہوئی ہے، وہ یہ کہ ہماری بہت ساری نوجوان نسل آن لائن جوے اور سٹے بازی کی گیمز کے ایسے عادی ہوچکے ہیں کہ اس سے باہر نکلنا اب بظاہر مشکل لگ رہا ہے۔ ڈریم الیون ( Dream 11 ) ‘ بی سی گیم ( B C Game ) ‘ تین پتی ( Teen Petti ) ‘ رمی ( Rummy ) جیسی سینکڑوں آنلائن گیمبلنک ایپس ہیں جو نو جوانوں میں جوے اور سٹے بازی کو فروغ دے رہی ہے۔

کشمیر میں پچھلے کچھ سال سے یہ دیکھا جارہاہے کہ نوجوانوں میں آن لائن جوے کی لت دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت قریب ڈھائی لاکھ سے زیادہ نوجوان اِن گیمز میں براہِ راست حصہ لے رہے ہیں ، جن میںباروزگار اور بے روز گار دونوں شامل ہیںاور سب اپنی آمدنی اور والدین کی کمائی کا ایک بڑا حصہ ان گیمز میں گنوا بیٹھے ہیں،اور جس تیز رفتاری سے یہ سلسلہ پھیل رہا ہے۔ لگتا ہے کہ ہماری سوسائٹی کے لیے یہ ایک زہر بن رہا ہے جو ہمارے معاشرے کو اندر ہی اندر کھوکھلا کرے گا ۔بدقسمتی سے ہم ایسے سماج میں رہتے ہیں کہ جب کوئی اچھی سیکھنے والی چیز آتی ہے ہم اسکو فراڈ بتا کر رِجیکٹ کر دیتے ہیں۔ لیکن اِن ایپس کو بنا سوال کئے اپناتے ہیں۔ کیوں کہ یہ بظاہر ہمیں بلا محنت پیسے کمانے کے لئے Shortcut ڈھونڈنے کا چسکا لگ چکا ہے اور ہم یہ تک نہیں دیکھتے کہ ان ایپس کے پسِ منظر میں کیا چل رہا ہوتا ہے ۔ان کے کوڈنگ ( Coding) اور الگورتھم ( Algorithm ) کیسے کام کر رہے ہیں ۔
نوجوانوں کی اتنی بڑی تعداد کا اِن گیمز میں ملوث ہونے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ وہ راتوں رات امیربننے کے خواب دیکھتے ہیں۔ دوسری اہم وجہ یہ بھی ہے کہ یہ گینبلنگ ایپس اپنےاشتہارات ( Advertise ) فلم اور کھیل کی دنیا کے مشہور اداکاروں اور کھلاڑیوں سے کرواتے ہیں تاکہ نوجوان نسل ان گیمبلنگ ایپس پر آسانی سے بھروسہ کر سکیں۔ تیسری اہم ترین وجہ یہ بھی ہے کہ ہماری موجودہ نسل کی ذہنی تربیت ایسی کی جا رہی ہے کہ وہ بُرائی کو صرف اس لئے جائز سمجھتے ہیں کہ باقی سب بھی تو کرتے ہیں ۔ اس پر حد یہ کہ ہماری گورنمنٹ نے ان آنلائن گیملنگ اورگینبلِنگ ایپس کے لیے کوئی قواعد و ضوابط نہیں رکھے ہیں بلکہ بہت ساری ایپس کو مُلک میں لیگل قرار دیا ہے ۔

یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ سب سے زیادہ مہنگے موبائل فونز اُن نوجوانوں کے پاس ہے جو کہ بظاہر ابھی خود کچھ کماتے بھی نہیں ہیں اور یہی بے روزگار نوجوان اپنے والدین کی خون پسینے کی کمائی اِن آن لائن گیمز میں گنوا بیٹھتےہیں۔

آج کل نوعمروں میں آن لائن جُوا، پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے، نوعمر اور کمسِن نسل کی آن لائن بیٹنگ کی سرگرمیاں والدین اور معاشرے کے لئے درد سر بن چکی ہیں۔ اگر ہم اپنے ہی معاشرے کو کھنگالیں تو بہت سے نوجوان اور کچھ بڑے بھی اس جوے میں لت پت نظر آئیں گے۔ یہ ڈیجیٹل گیمبلنگ کا نشہ دیگر نشہ آور اشیاء سے کچھ کم نہیں ہے۔ ایسی بہت سی خوفناک کہانیاں سامنے آ چکی ہیں جن میں نوجوانوں نے ان آنلائن ایپس میں بڑی رقوم سے ہاتھ دھویا ہے ۔ دینی تعلیمات سے بیزار یہ نوجوان جیب میں کسینو ( Casino ) یا سٹے کی دکان لئے گھوم رہے ہیں اور کسی کی نظر میں آئے بغیر چھپ کر کھیلنا شروع کر دیتے ہیں ۔ یہ آنلائن ایپس اُن کام چور نوجوانوں سے کروڑوں کے روپے کما لیتے ہیں۔ ان ایپس کا فارمیٹ اس طرح تیار کیا جاتا ہے کہ کھیلنے والے کو متاثر کریں۔ یہ گیمبلنگ ایپس پہلے اس کوڈیمو ( Demo) کے لیے کچھ بونس ( Bonus) رقم دے کر للچاتے ہیں ۔ کیوں کہ الگورتھم ( Algorithm ) کھیلنے والے کےحق میں ہوتا ہے ۔ پھر کھیلنے والے اپنا پیسہ لگانا شروع کر دیتے ہیں اور الگورتھم ( Algorithm ) بظاہر پہلے پہل تھوڑی سی رقم جیتوا کر اس کی عادت ڈلواتے ہیں ۔ لیکن وقت گذرنےکے ساتھ ساتھ کھیلنے والے اپنے پیسے گنوا بیٹھتے ہیں اور اس طرح اُن کے مستقل صارف بن جاتے ہیں۔ اس کے بعد کھلاڑی مزید پیسے یہ سوچ کر لگاتا ہے تاکہ اپنا گنوایا ہوا پیسہ واپس لاکر ایپ ڈیلیٹ کریں گے۔ لیکن ہوتااس کے بالکل برعکس ہے۔کھلاڑی مزید پیسے گنوا تے رہتے ہیں اور اس طرح اُن کے جال میں پھنستے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ اپنا سب کچھ داؤ پر دائو لگانے کو تیار ہوجاتے ہیں۔

اِن گیمبلنِگ ایپس کا الگورتھم ( Algorithm ) آپکے برتاؤ ( Gambling Behaviour) کو سمجھ رہا ہوتا ہے، جب کھیلنے والے،ایپ پر جانا کم یا بند کردیتے ہیں تو یہ ایپس سمجھ جاتے ہیںکہ یا تو کھلاڑی کی دل چسپی کم ہوگئی ہے یا پھر پیسے ختم ہوگئے ہیں۔ تو وہ کھلاڑی کو پُر کشش آفرز دے کر پھر للچاتے رہتے ہیںاور اس طرح اس گینبلنگ سے نکلنا کھیلنے والے کے لئے مشکل ہوجاتا ہے۔
ان گیمز سے جہاں نوجوانوں اور اُن کے والدین کی مالی حالت متاثر ہوجاتی ہےوہیںنوجوانوں پر ذہنی، ‘ جسمانی، ‘ نفسیاتی اور سماجی اعتبار سے بھی مضر اثرات پڑتے ہیں۔ درحقیقت آن لائن جوا ایک ایسا کھیل ہے جو صرف فرد کو ہی متاثر نہیں کرتا بلکہ اس سے خاندان، دوست اور سماج پر بھی براہِ راست بُرے اثرات پڑتے ہیں۔ کتنے ہی نوجوان اِن گیمز میں اپنی کثیر رقومات گنوا بیٹھے ہیں،کتنے ہی نوجوان ذہنی تناؤ اور ڈپریشن کا شکار ہوگئے ہیں، کتنے ہی نوجوانوں نے خود کشی کی کوششیں کی ہیں،کتنے ہی نوجوانوں کے کاروبار، ‘ جائیدادیںاور گھر تک بُری طرح متاثر ہوچکے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرے میں نوجوانوں میں پنپنے والی اس نئی لت کو ختم کیا جائے ۔ تاکہ نوجوان نسل اپنی دنیا اور آخرت کو بچا کر سماج کی بہتری کے لئے کام آسکے۔
قرآن مجید میں اکثر مقامات پر جوے اور شراب کا ذکر آیا ہے، دونوں کا ذکر ایک معاشرتی بیماری کے طور پر کیا گیا ہے جو کسی بھی فرد کی ذاتی زندگی کے ساتھ ساتھ خاندانی وسماجی زندگی کو تباہ کردیتی ہے۔اسلام میں عمومی تعلیم یہ ہے کہ محنت ومشقت سے حلال پیسے کمائے جائیں۔ دیانت داری اور علم و ہنر سے حاصل ہونے والی دولت ہی جائز ہے۔

ایسی دولت جو کسی محنت کے بغیر کسی جوے جیسی چیزوں سے حاصل ہوتی ہو، وہ جائز نہیں ہے۔ اس طرح کی اسکیمیں جو فریب پر مبنی ہوں ،جو انسان کے اندر لالچ پیدا کرتی ہوں وہ بھی اسلام میں ناجائز قرار دی جاتی ہے۔

والدین میں اس لت کے بارے میں بہت کم معلومات موجود ہیں، ہمیں آگے آ کے انہیں اس سے متعلق زمینی حقائق اور معلومات فراہم کرنے چاہیےتاکہ وہ جان سکے کہ اُن کے بچے کیا کر رہے ہیں اور کہاں جا رہےہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ ریسرچ کریں، رکاوٹیں ڈالیں، ڈیوائسز پر کنٹرول حاصل کریں، فیملی ٹائم متعین کریں اور بچے کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں تاکہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے، اس پر کنٹرول پایا جا سکیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم رکھیں، انکی ہر حرکت پر نظر رکھیں۔ اس لت کے عادی نوجوانوں کے لیے سیشنز کا اہتمام کرنے کی ضرورت ہے اور اُن کے ساتھ کھل کر بات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اُنہیں صحیح اور غلط کی پہچان کرائی جاسکے۔

اس سلسلے میں ہمیں اساتذہ، ‘ پالیسی سازوں، سیاست دانوں اورصحت سے وابستہ پیشہ ور افراد کے تعاون سے اس ماحول کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اربابِ اقتدار کو بھی اس آن لائن گیمبلِنگ کو قابو میں لانے کے لئے سخت اصول اور قوانین نافذ کرنے چاہئے۔

ہماری یہی گذارش ہے کہ ان ایپس کو سماج میں پروموٹ کرنے سے گریز کیا جائے،جن سے کسی کی زندگی اور سماجی تعلقات خراب ہوجاتے ہیں ۔ آجکل بیروزگاری بہت زیادہ ہے اور لوگوں میں راتوں رات امیر ہونے کی خواہش جاگ جاتی ہے۔جس کے نتیجے میں کوئی بھی آسانی کے ساتھ ان آن لائن گیملِنگ ایپِس کے جھانسے میں آ سکتا ہے ۔
نوجوان نسل کی دینی تربیت کا خصوصی اہتمام کریں۔ بچوں کو اخلاقی بگاڑ اور سماجی خرافات سے بچانے کے لئے دینی تربیت کو لازمی بنائیں کیونکہ دینی فکر سے انسان اچھے اور بُرے میں تمیز کرنےکے لائق بنتا ہے۔

آخری بات : جس کسی نے بھی ان ایپس میں اپنا پیسہ لگایا ہے ،چاہے تھوڑی رقم جیتی ہو یا پھر نادانی سے ہار گئے ہو۔ میری بات مانو، ایپ ڈیلیٹ کر کے Quit کرو ۔ زندگی میں غلطیاں ہوتی رہتی ہیں، دانشمند انسان وہی ہے جو غلطیوں سے کوئی نہ کوئی سبق حاصل کرتا ہے۔راتوں رات امیر بننے کے خواب دیکھنے کے بجائے حلال طریقے سے پیسے کمانے کا ہنر سیکھو ۔
آزادی افکار سے ہے ان کی تباہی
رکھتے نہیں جو فکر و تدبر کا سلیقہ ( اقبال ؒ )
رابطہ۔7006857283
[email protected]
����������������������