جوروجبر کا طریقہ اہلیان وادی کیلئے سوہان روح

سرینگر// نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر نے کہاہے کہ آئے روز ٹھٹھرتی سردی میں تلاشی کارروائیوں کے نام پر لوگوں کو گھروں سے نکال کر گھنٹوں کھلے آسمان تلے رکھنے اور توڑ پھوڑ کرنے کی کارروائیاں غیر انسانیہیں۔انہوں نے کہا کہ امن اور گڈ گورننس کے دعوے کرنے والوں نے زمینی سطح پر عوام کیخلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے ۔ علی محمد ساگر جنوبی کشمیر، شمالی کشمیر اور وسطی کشمیر سے آئے ہوئے پارٹی لیڈران، عہدیداران، کارکنان اور عوامی وفود سے خطاب کرررہے تھے۔بیان کے مطابق وفود نے اپنے اپنے علاقوں کی زمینی صورتحال سے آگاہ کرنے کے علاوہ پارٹی سرگرمیوں اور لوگوں کو درپیش مسائل و مشکلات سے آگاہ کیا۔ جہاں جنوبی کشمیر کے شرکاء نے آئے روز کریک ڈائونوں، تلاشی کارروائیوں، توڑ پھوڑ اور مارپیٹ کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرنے کے علاوہ بجلی، پانی اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی عدم دستیابی جیسے مسائل اُجاگر کئے وہیں جبکہ وسطی اور شمالی کشمیر کے شرکاء نے بھی اپنے اپنے علاقوں کے لوگوں کو درپیش کچھ ایسے ہی مسائل و مشکلات کا خلاصہ کیا۔ جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے اپنے خطاب میں نیشنل کانفرنس کے عہدیداروں اور کارکنوں کو تاکید کی کہ وہ لوگوں کو درپیش مسائل و مشکلات ہر سطح پر اُجاگر کریں اور لوگوں کے ساتھ ہر حال میں رابطہ بنائے رکھیں۔ ساگر نے کہا کہ عوام ہی طاقت کا سرچشمہ ہوتا ہے اور سرداری عوام کا حق ہے اور نیشنل کانفرنس آج بھی اسی اصول پر چٹان کی طرح قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ریاست میں جو طریقہ کار اختیار کر رکھا ہے وہ وادی کو تبادہی اور بربادی کی جانب دھکیلنے کے سوا اور کچھ نہیں۔ ساگر نے کہا کہ مرکزی سرکار ریاست کے بارے میں بڑے بڑے دعوے کرتی ہے لیکن جب زمینی سطح پر حالات و واقعات پر نظر دوڑائی جاتی ہے تو حقائق کچھ اور ہی بتاتے ہیں۔ آئے روز کریک ڈائونوں کا سلسلہ جاری رہا، ٹورازم سیکٹر دم توڑنے کے قریب پہنچے گیا اور مرکز و گورنر انتظامیہ امن کو جھوٹے دعوے کرتے پھر رہے ہیں۔راشن کی قلت، بجلی کی نایابی اور پانی کی ہاہاکار کو گورنر انتظامیہ کی نااہلی اور غیر سنجیدگی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے ساگر نے کہا ہے کہ سرما کے ایام میں بھی لوگ بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف لوگ بنیادی ضروریات کیلئے ترس رہے ہیں جبکہ دوسری جانب انتظامیہ ذرائع ابلاغ میں سب کو ٹھیک جتلا کر بلند بانگ دعوے کررہی ہے اور لوگوں کو بڑی بڑی میٹنگوں کے انعقاد کی تصویریں اور فلمیں دکھائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری وادی میں اس وقت بجلی کی قلت کا سامنا ہے۔