جواہر نگر سے ہتھیار اڑانے کا واقعہ: فرار ایس پی اوکے ساتھی کی نشاندہی ہوگئی

سرینگر//ریاستی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ جواہرنگر میں ہتھیار اڑانے کے کیس کو جنوبی کشمیر کے شوپیاں علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک شہری کی نشاندہی کے ساتھ حل کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ شہری نے ایس پی او کو7اے کے47رائفلیں اور ایک پستول اڑانے کے منصوبے کی عمل آوری میں مدد کی ۔اس دوران پی ڈی پی ممبر اسمبلی اعجاز احمد میر کی حفاظت پر تعینات انکے7  ذاتی محافظوں کو ڈیوٹی میں غفلت برتنے کے نتیجے میں معطل کیا گیا ہے۔ ممبر اسمبلی وچی کی سرکاری رہائش گاہ سے ایک سپیشل پولیس افسر کی طرف سے 8ہتھیار لیکر فرار ہونے کے کیس کی تحقیقات میں مزید پیش رفت ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس امن و قانون اور سیکورٹی منیر احمد خان کا کہنا ہے’’ ہم نے جواہر نگر کیس کو حل کرلیا ہے،ایس پی او عادل بشیر نے ایک شہری کی مدد سے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنایا ،جس کا تعلق ضلع شوپیاں سے ہے، ہم نے شہری کی نشاندہی کرلی ہے،اور اس کو عنقریب حراست میں لیا جائیگا‘‘۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ سماجی میڈیا پر عادل بشیر شیخ کی بندوق لیکر تصویر،اور اس کے عقب میں مزید4 بندوقوں کی موجودگی کیا حقیقت ہے؟،تو منیر احمد خان نے کہا ’’اگرچہ پولیس اس تصویر کی حقیقت کی تحقیقات کر رہی ہے تاہم’’ یہ متوقع تھا کہ عادل حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کریگا‘‘۔ریاستی پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے گزشتہ روز مفرور سپیشل پولیس افسر کے عسکریت پسندوں کے ساتھ رابطے ہونے کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ تھا کہ عادل کے خلاف سنگبازی کے کیس بھی درج تھے۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ جنوبی کشمیر کے شوپیاں علاقے سے جس شہری کی نشاندہی کی گئی ہے،وہ عسکریت پسند نہیں ہے بلکہ’’جنگجوئوں کا ہمدرد ہوسکتا ہے‘‘،جس نے عادل بشیر کو ہتھیاروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لینے اور حزب المجاہدین کی طرف سے تیار کئے گئے منصوبے کو عملانے میں مدد کی۔منیر احمد خان نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے’’ ہتھیاروں کو لوٹنے کا منصوبہ حزب المجاہدین کے جنگجوئوں کا تھا‘‘۔ اگر چہ وادی میں ہتھیاروں کو چھننے اور اہلکاروں کی طرف سے ہتھیار سمیت فرار ہونے کا واقعہ کوئی نیا نہیں ہے،تاہم یہ پہلی مرتبہ ہے جب اس مقدار میں ہتھیاروں کو لوٹ لیا گیاہے۔ سنیچر کی صبح  پولیس نے ممبر اسمبلی وچی کی حفاظت پر مامور انکے7زاتی محافظوں ، جو پولیس کی تحویل میں ہیں،  کو معطل کردیاہے۔ منیر احمد خان کا کہنا ہے’’ اعجاز احمد میر کے تمام7ذاتی محافظوں کو فرض کے تئیں غیر ذمہ داری کا  مظاہرہ کرنے کے نتیجے میں معطل کیا گیا ہے‘‘ ۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ممبر اسمبلی وچی کے تمام ذاتی محافظوں کے موبائل فونوں کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے اور ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ کس طرح وہ تمام بیک وقت ڈیوٹی سے غیر حاضر تھے۔ان کا کہنا تھا کہ’’معروف شخص ہونے کا فائدہ اٹھا کر ایس پی او عادل بشیر نے ممبر اسمبلی کے تمام ذاتی محافظوں کی عدم موجودگی میں رہائش گاہ میں کمروں کی صفائی کا بہانہ بناکر داخل ہونے میں کامیابی حاصل کی،اور وہ8ہتھیار لیکر فرار ہونے میں کامیاب ہوا۔