جنگ نہیں نہیں نہیں

نئی دلی اور پاکستان میں الفاظ کی جنگ فی الوقت جاری ہے ۔ یہ جنگ لیتہ پورہ اونتی پورہ (پلوامہ) میں14؍فروری کو دل دہلانے و الے خودکش حملے میں کام آئے سی آرپی ایف جوانوں کے خون کا بدلہ لینے کے پس منظر میں شروع ہوئی۔اس حملے کے ردعمل میں پورا ملک غم وغصہ اورسوگ میں ڈو ب گیا اور حسب ِتوقع کہیں کہیں ناراضی کا لاوا بھی پھوٹ پڑا ۔ حملے کا نزلہ جمو ں سے کولکتہ تک اور دہرادون تا مدھیہ پردیش بعض انتہا پسندقوتوں کے ایماء پر کشمیری طلبہ اور تاجرین پر خصوصی طور گرا یا گیا جو ابھی تک جاری ہے۔ حملے کے فوراً بعد اسلام آباد کے خلاف حکومتی ہستیاں، سرکاری عہدیدار اور عام لوگ ایک ہی سُر تال میںپاکستان سے بدلہ لینے کے جوشیلے نعرے لگا رہے ہیں ۔ بالفرض لیتہ پورہ کی عسکری کارروائی کی ذمہ داری جیش محمد قبول نہ بھی کر تی تو بھی اس کے نتیجے میں پاکستان کے تئیں رائے عامہ کا بر ہم ہونا طے تھا۔ بہر کیف یہ پہلا موقع نہیں جب بھارت میں پاکستان کو’’سبق سکھانے‘‘ کے لئے جنگ جنگ جنگ کی آوازیں زورو شور سے اُٹھائی گئیں۔ پارلیمنٹ پر 13/12/2001 کے فدائی حملے اور تاج ممبئی میں26/11/2008 کے وقت بھی پاکستان کے خلاف  ایک طبقۂ عوام نے پاکستان پر جنگ تھوپنے کی زوردار مہم چھیڑی تھی مگر وقت کی مرکزی حکومتوں نے جنگ کی اس مانگ کو اپنے غیر معمولی سیاسی فہم وفراست اور بر د باری سے ڈیل کیا ۔ مثلاً پارلیمنٹ پر دہشت گردانہ حملے کے فوراًبعد جب پاکستان کو اس ضمن میں موردِالزام ٹھہرایا گیا ۔معاملہ محض الزام تراشی تک محدود نہ رہا بلکہ اسلام آباد کے خلاف ملک میں جذباتیت کا ایک آتش فشاں پھوٹ پڑا مگروقت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی جذباتیت کی رو میں نہ بہے بلکہ ا نہوں نے بہ ہوش وگوش ا س آتش فشاں کی شدت کو بھی نظر انداز نہ کیا اور وقت کے سیاسی تقاضوں کا برمحل ادارک کر کے مسلح افواج کو دس ماہ تک پاکستان کے ساتھ لگنے والی سرحدوں پر تاحکم ثانی حالت ِجنگ میں ایستادہ بھی رکھا۔
دس ماہ تک ہند پاک جنگ آج نہیں تو کل ہونی ہی ہونی ہے، جیسی افواہوں اور تشویشوں کو واجپائی نے بحسن وخوبی ٹال دیا۔ شاید واجپائی تاریخ کے اس نازک موقع پر اپنی شبیہ چوتھی ہند پاک جنگ کے ہیرو کے طور نہیں بنانا چاہتے تھے ، بجائے ا س کے وہ تاریخ کے پنوں میں اپنی شناخت بہ حیثیت ایک صلح پسند سیاسی مدبر کی بنانا پسندکر تے تھے کیو نکہ اُن کی یہ پسند ہی دیس اور  دنیا کے بہترین مفاد میں تھی۔ غالباًوہ جانتے تھے کہ جدید دور میں جنگ جیتنے والا فریق بھی مقابلے کے دوران اتنا کچھ ہار جاتا ہے یا کھوجاتا ہے کہ شکست پانے والے فریق کی ہار کوئی ہار ہی نہیں لگتی ۔ اُن دنوں مختلف گوشوں سے دباؤ کے باوجود واجپائی نے اپنی فطری تحمل مزاجی اور دوراندیشی سے معاملات کو بخوبی طول دے کر  وقت کی طوالت کو ایک تیر بہدف مر ہم بناڈالا ۔ موصوف نے اس مرہم کو لوگوں کے ہرے زخموںپر موقع و محل دیکھ کر عمدگی کے ساتھ رکھا کہ بپھرے جذبات ٹھنڈے پڑ گئے اور فوجیں پورے وقار کے ساتھ بیر کوں میں واپس پہنچائی گئیں۔ یہ حکمت عملی آر پار کے لئے یقینی طور مفید ثابت ہوئی ۔ یہ اس جادو اثر حکمت عملی کی کا میابی کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ کسی نے واجپائی کے اس کٹھن فیصلے پر انگشت نمائی کی اور نہ برصغیر کی سُکھ شانتی کو زک پہنچی۔ ممبئی واقعہ کے دوران ڈاکٹر ممنوہن سنگھ وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز تھے ۔ اگرچہ مرکزی حکومت نے  حملے کے لئے فی الفورلشکر طیبہ کو ذمہ دار ٹھہراکر پاکستان سے خوب احتجاج کیا ، مگر  ایک مخصوص طبقہ ٔ  عوام پھر بھی جنگ کی صورت میں پاکستان سے انتقام لینے سے کم پر راضی نہ تھا مگر حکومت نے اعصابی قابو نہ کھویا۔ ابھی تک نئی دلی اس بارے میں اسلام آباد سے شاکی ہے کہ ا س نے ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ کے خلاف مطلوبہ کارروائی سے گریز کیا ہوا ہے ۔ اسلام آباد ہر دو موقع پر ان حملوں میں براہ راست یا بلواسطہ ملوث ہونے پر بہ صراحت انکار کر تا رہا ۔ آج کی تاریخ میں بھی پاکستان خود کو لیتہ پورہ فدائی حملے سے بری الذمہ قرار دے رہاہے ۔ البتہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے نئی دلی کو پیش کش کی ہے کہ حملے کے تعلق سے اگراُنہیںactionabale ثبوت وشواہد فراہم کئے جائیں تو کارروائی ہوگی۔ بہر کیف ا س تنازعے کے بارے میں نئی دلی اور اسلام آباد آگے کیا کرتے ہیں، اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا مگر ایک بات کہے بغیر چارہ نہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ یہ مسائل کے دلدل کو اور زیادہ گہرا  بنانے کی دیوانگی ہوتی ہے ۔
اگر جنگ سے کچھ حاصل ہوتا تو صدر ٹرمپ افغانستان اور شام سے واپسی کی راہیں تلاش نہ کر تے پھرتے۔ بہر صورت ایک موقع پر بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کو ایک بڑا اچھا سجھاؤ دیا تھا کہ آیئے ہم آپس میں گتھم گتھا ہونے کے برعکس غربت، ناخواندگی اور بھوک کے خلاف دودو ہاتھ کریں اوران بڑی بڑی بیماریوں سے اپنے اپنے ملک کو نجات دلایں۔ یہ ایک مثبت سیاسی پیغام ہے جس کا کوئی بھی ذی شعور انسان خیر مقدم کرے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت بھی اقوام متحدہ، امریکہ اور دیگر ممالک کے ساتھ خودپاکستان بھی مرکزی حکومت کو ڈائیلاگ کے میز پر آنے کی فہمائش کر رہے ہیں ، حتیٰ کہ سعودی عرب اور نئی دلی  کے تازہ مشترکہ اعلامیہ میں مودی سرکار اسلام آباد کے ساتھ مکالمت کا عندیہ دے چکی ہے ۔ برصغیر کے دونوں حریف ملکوں میں غربت، بھوک اور بیماری جیسے تین اژدھے برسوں سے پھن پھیلائے آر پار کو متواترڈَس رہے ہیں،ان اژدھوں سے مکتی پا ناہی اصل مردانگی ہے۔ وقت کی پکار یہ ہے کہ برصغیر میں جنگ نہیں بلکہ امن ، ترقی ، بھائی چارہ اور دوستی کی وہی ڈور از سر نو پکڑی جائے جس کو اپنے اپنے موقعوں پر ایک جانب واجپائی اور منموہن سنگھ نے پکڑا تھا ،اور دوسری جانب نوازشریف اور جنرل مشرف پکڑے رہے ۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ کشمیر مسئلہ کو ترجیحی طور باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی بہ صمیم قلب نتیجہ خیز کوشش کی جائے ۔ اس سلسلے میں بحالی ٔ اعتماد کے اقدام کے طور کشمیر کوکسی متشددانہ ڈاکٹرئین کی تجربہ گاہ بنانے کے بجائے یہاں کے نوجوان طبقے کے ساتھ نرم روی کا انداز اور دوستانہ اسلوب اختیار کیا جائے تاکہ یہ حساس طبقہ خود کو بے دست وپا دیکھ کر عادل احمد ڈار بننے پر مجبور نہ ہو ۔