جنگ مسئلہ کشمیر کا حل نہیں

سرینگر// پاکستان کو کشمیر پر مذاکراتی عمل کیلئے بھارت کے پاس کشکول لیکر نہ جانے کی صلاح دیتے ہوئے سید علی گیلانی نے کہا کہ جب بھی بات چیت کیلئے ماحول تیار کیا جاتا ہے تو نئی دہلی’’ کشمیر کو نا قابل تنسیخ حصہ قرار دینے کی رٹ‘‘ شروع کرتا ہے۔

گیلانی

 حریت(گ) کی طرف سے شہدائے کربلا کے حوالے سے حیدر پورہ میں سید علی گیلانی کی رہائش گاہ پر منعقدہ سمینار کے دوران سید علی گیلانی نے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے جنگ کوئی بھی حل نہیں ہے،تاہم اس وقت تک کوئی بھی مذاکراتی عمل نہیں ہوگا،جب تک بھارت کشمیر کو متنازعہ خطہ تسلیم کر کے خطے کو نا قابل تنسیخ خطہ کی رٹ لگانا نہیں چھوڑتا۔ انہوں نے کہا’’ میں دونوں ملکوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ جنگ سے تباہی ہوتی ہے، مسائل کا حل نہیں ہوتا‘‘۔  انہوں نے کہا’’ مسئلہ کشمیر کا حل کسی بھی طور جنگ نہیں ،اور پاکستان کو میرا یہ پیغام ہے کہ وہ نئی دہلی کے پاس مذاکراتی عمل کیلئے کشکول لیکر نہ جائے‘‘حریت(گ) چیئرمین نے کہا’’ بھارت اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ مذاکرات کاری کے 150سے زائد ادوار مکمل کئے جانے کے باوجود آج تک کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔

میر واعظ

 میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ یہ بد قسمتی ہے کہ پاکستان کے ساتھ امن عمل کی بات چیت کو ایک اور بار،اورخطے کو تشدد سے باہر نکالنے کے موقعے کو حکومت ہند نے اپنے’’متکبرانہ نظریہ‘‘ کی وجہ سے مسترد کیا۔انہوں نے کہا’’ جنگ کی بات کر کے عوام میں خوف وہراس پیدا کرنا بہادری اور قوم پرستی نہیں ،اور لوگوں کو ہر وقت بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا‘‘۔انہوں نے نئی دہلی پر کشمیر میں اتحاد کو زک پہنچانے کیلئے کئی طریقہ کار کو اختیار کرنے کا الزام عائد کیا۔میر واعظ نے کہا’’ لوگوں کو دستبردار کرنے کیلئے نئی دہلی نے ہر قسم کے حربے استعمال کئے،تاہم وہ ناکام ہوئے،کیونکہ لوگ حق خوداردایت کیلئے پرعزم ہیں‘‘۔میرواعظ نے وادی بھر میں’’ الیکشن نہیں،صرف حق خودرادیت‘‘ کے نعرے کے تحت جامع الیکشن بائیکاٹ مہم چلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جہاں تک کارکن جا سکتے ہیں وہ لوگوں کو انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا پیغام پہنچائیں گے۔ انہوں نے کہا’’ہم لوگوں کو کہنا چاہتے ہیں کہ انکا عزم اور صبر مزاحمتی لیڈرشپ کیلئے مشعل راہ ہے‘‘۔ میر واعظ نے شہدائے کربلا کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر پر قبضے کے خلاف انکی مزاحمت کو آگے بڑھانے کے لیے پوری قوم نے آپسی اتحاد و انفاق کی فضا کو قائم رکھتے ہوئے قیادت کی قابل فخر حوصلہ افزائی کی ہے۔

ملک

 محمد یاسین ملک نے بلدیاتی و پنچایتی انتخابات میں شرکت کو ’’خود سپردگی نامہ پر دستخط‘‘ کے مترادف قرار دیتے ہوئے  کہا کہ بھارت کی لیڈرشپ انتخابات کو ہمیشہ ریفرنڈم کے بطور پیش کرتی ہے۔ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے محمد یاسین ملک نے کہا’’  میںکشمیر کی موجودہ صورتحال  اور کربلا میں بہت ہی کم فرق دیکھتا ہوں،کیونکہ کربلا حق و باطل کے درمیان ایک معرکہ تھا،اور کشمیر میں ہم وہی جنگ لڑ رہے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ امام حسین ؓ کو  سرنڈر کرنے کے معاہدے پر دستخط کرنے( بیت کرنے) کیلئے کہا گیا تھا،جس کو انہوں نے مسترد کیا۔ملک نے کہا ’’ میں اس  نظریہ کا قائل ہوں کہ آئندہ انتخابات میں شرکت کرنا خود سپردگی کے معاہدے پر دستخط کرنے کے برابر ہے‘‘۔لبریشن فرنٹ چیئرمین نے کہا کہ بھارت کی لیڈرشپ لوگوں کی انتخابات میں شرکت کو اپنے حق میں ریفرنڈم کے بطور پیش کرتی ہے،اور دنیا سے کہہ پھرتی ہے کہ کشمیر ،پاکستان کی طرف سے بھیجے گئے کچھ لوگوں کی وجہ سے مسئلہ ہے۔انہوں نے کہا’’ انتخابی عمل میں لوگوں کی شرکت کو نئی دہلی اقوام عالم کے سامنے،لوگوں کی آئین ہند پر اعتماد کے طور پر  پیش کرتی ہے‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ مزاحمتی لیڈرشپ کا کام ہے کہ لوگوں تک الیکشن بائیکاٹ کا پیغام پہنچائے،اور ’’یہ لوگ ہیں،جن کو اس پر عمل کرنا ہوگا‘‘۔ان کا کہنا تھا’’ جب ووٹنگ نہیں ہوگی اور انتخابی مرکز صحرائی مناظر پیش کریں گے،تو اس وقت اقوام عالم نئی دہلی پر مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے دبائو ڈالے گا‘‘۔ محمد یاسین ملک نے کہا ’’ حیدرپورہ میں یہ سیمینار سب جیل میں منعقد ہورہا ہے، کیونکہ انتظامیہ نے پچھلے 8برسوں سے گیلانی کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دیا ہے‘‘۔ سیمینار میں حریت(گ) جنرل سیکریٹری غلام نبی سمجھی،جماعت اسلامی کے ایڈوکیٹ زاہد علی، اتحریک حریت جنرل سیکریٹری امیرِ حمزہ ،انجمن شرعی شعیاں کے آغا سید عابد حسین، شاعر ومفکر غلام علی گلزار اور ماس مومنٹ کے چیئرمین مولوی بشیر عرفانی بھی موجود تھے جبکہ نظامت کے فرائض حریت(گ) ترجمان غلام احمد گلزار نے انجام دئے۔