جنگ جس نے صلح کی راہ بنالی!

 وہ لمحہ بڑاخوفناک تھا جب 14فروری کے فدائی حملے نے برصغیر ہند و پاک کو آناًفاناً ایک ایسی جنگ کے دہانے پر کھڑا کردیاجس کاانجام انسانی تاریخ کاسب سے بڑا المیہ ہی ہوسکتا تھا لیکن غیر متوقع طور پر انجام کی نوبت نہیںآئی۔ جنگ کاآغاز ہونے کے باجود بھی جنگ نہیں ہوئی حالانکہ غم و غصے اور اشتعال کے شعلوں نے ڈیڑھ کروڑ انسانوں کو اس انجام سے بے پرواہ کردیا تھا جو انہیں فنا کرکے رکھ دیتا۔خود حکومتوں کے ہاتھوں سے صبر و ضبط کا اختیار چھوٹ رہا تھا۔ ہندوستان کے ایوان اقتدار سے لیکر ہرگلی اور ہر کوچے میں پاکستان کو سبق سکھانے کا شور و غوغا تھا۔پاکستان میں قریہ قریہ میں سرپرائز دینے کا طوفان تھا۔میزائل ایک دوسرے کے مد مقابل تھے ۔ لڑا کا جہاز یک دوسرے کو نشانہ بنانے کے لئے اڑانیں بھررہے تھے ۔ ٹینکیں سرحدوں پر پہونچائی جارہی تھیں اور زمینی فوجیں حد متارکہ پر آگ برسارہی تھیں ۔ آبادیوں کو سرحدی مقامات سے خالی کرایا جارہا تھا ۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ شعلے سرد بھی ہوسکتے ہیں پھر ایسا کرشمہ ہوا کہ جس تیزی کے ساتھ طوفان اٹھا اسی تیزی کے ساتھ تھم بھی گیا ۔ آج بھی تناو موجود ہے لیکن اس میں وہ شدت اورحدت باقی نہیں ۔ اکثر ذہنوں میں یہ سوال اٹھ رہے ہیں کہ آخر یہ معجزہ کیسے ہوا کہ جنگ کے نقارے بجنے کے بعد فوجیںواپس لوٹ گئیں اور اب سب کچھ اعتدال پر آتا ہوا نظر آرہا ہے ۔ بہت ساری اٹکلیں لگائی جارہی ہیں ۔ دور کی کوڑیاں لائی جارہی ہیں ۔ دانش اور فلسفوںکے دریا بہائے جارہے ہیں لیکن کوئی سرا کسی کے ہاتھ نہیں آرہا  ۔در پردہ معاملوں کی حقیقت تک ہم بے پردہ لوگ نہ کبھی پہونچ سکے ہیں نہ پہونچ سکتے ہیں ۔  اس لئے ہم انہی واقعات پر بات کریں گے جو ہم نے دیکھے اور سنے ۔
کم سے کم تین ہفتے جنگ کا ماحول بنا رہا ۔ان تین ہفتوں کے دوران جو بھی ہوا اس نے دونوں ملکوں کے عوام اورحکومتوں کے سامنے کئی تلخ حقائق ہی نہیں لائے بلکہ بہت سارے اعتقادات کی دھجیاں بھی اڑا کر رکھ دیں ۔یقین وگمان کے گھروندوں کو مسمار کردیا ، امیدوں اور خواہشوں کے ہمالہ توڑ کر رکھ دئیے ۔  اور وہ آئینہ سامنے رکھ دیا جس کو دیکھنا اب تک گوارا ہی نہیں تھا ۔شاید یہی سبب ہواکہ مدہوشی کا عالم ختم ہوا اور ہوش ٹھکانے آگئے ۔ لیتہ پورہ فدائی حملہ ایک اندوہناک سانحہ تھا جس نے ہندوستان کو ہلا کر رکھ دیا ۔ اقتدار کے پائے ابھی ہل ہی رہے تھے کہ انہیں ایک بڑا سہارا مل گیا ۔ جیش محمد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلی جس کا ہیڈ کوارٹر پاکستان میں ہے ۔غم و غصے کا رخ پاکستان کی طرف موڑنے کا ایک جواز بیٹھے بٹھائے مل گیا اور وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان کو سبق سکھانے کا اعلان کردیا ۔بہت سے لوگوں نے یہ سوال اٹھایا کہ ایسے خوں آشام حملے کے لئے وہی وقت کیوں چنا گیا جب ہندوستان میں انتخابی مہم ابھی شروع ہی ہورہی تھی ۔ جب برسر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں شکست کی چوٹ کھاچکی تھی ۔ جب راہل گاندھی ایک متبادل لیڈر کی امیج پیدا کرنے میں کامیاب ہورہے تھے اور جب پرینکا گاندھی انتخابی میدان میں کود چکی تھی ۔ نئے اتحاد بن رہے تھے اور بھاجپا کے روح رواں نریندر مودی کے پاس کوئی کرشماتی مدعے نہیں تھے ۔لیکن ایسے وقت میں ان سوالوں کی طرف کون دیکھتا جب پورے ہندوستان میں آگ لگ چکی تھی ۔ پاکستان کو سبق سکھانے کا بے صبری سے انتظار کیا جارہا تھا ۔ اپوزیشن کی ہوا نکل چکی تھی اور پوری قوم ملک کا وقار بچانے کیلئے نریندر مودی کے گرد جمع ہوچکی تھی ۔پا کستان شاید تاریخ میں پہلی بار بڑی برد باری کے ساتھ سب کچھ دیکھ رہا تھا ، سن رہا تھا، انتظار کررہا تھا اور بھارت کی طرف سے سبق سکھانے کے آپشنز پر غور کررہا تھا ۔پھر وہ لمحہ آگیا جب 25اور26فروری کی درمیانی رات کو ہندوستان کے بارہ میراج طیارے پاکستان کی فضائی حدود کے اندر پچاس کلو تک پرواز کرکے بالا کوٹ پہونچے اور بم گرا کر سب کے سب سلامت واپس پہونچے ۔پہلی بار پاکستان نے یہ خبر دی ۔ہندوستان کے لوگ جب نیند سے بیدار ہوئے تو تمام کی تمام نیوز چینلیں فتح کے جھنڈے گا ڑھنے کا اعلان کررہی تھیں ۔ہندوستان خوشی سے جھوم جھوم اٹھا ۔یہ عقیدہ پختہ ہوگیا کہ ہندوستان ایک بڑی فوجی طاقت ہے ، ناقابل شکست ہے اور پاکستان کو سبق سکھا سکتی ہے ۔اب بڑے حملے کے مطالبے ہونے لگے ۔ پاکستان کے ٹکڑے کرنے کی باتیں ہونے لگیں ۔ اس بات پر مکمل اعتبار ہوا کہ جیش محمد کا سب سے بڑا کیمپ تباہ کردیا گیا ہے اور تین سو کے قریب اس کے ارکان مارے جاچکے ہیں ۔ نہ لاشیں کسی نے گنی تھیں اور نہ کیمپ کی تباہی کا کوئی ثبوت موجود تھا لیکن طیارے سلامت واپس آئے تھے اس لئے کسی نے ثبوت تلاش نہیں کیا ۔فتح کا خمار ابھی باقی تھا کہ چوبیس گھنٹے کے اندر اندر پاکستان نے دن کی روشنی میں جوابی حملہ کردیا ۔اس جوابی حملے میں ہندوستان کے دو طیارے مارگرائے گئے لیکن ایک طیارے کو ہی اہمیت حاصل ہوئی جس کا ملبہ پاکستان میں گرار اور پائلٹ بھی پاکستان کے ہاتھ آگیا ۔ ہندوستان نے بھی ایک طیارہ مار گرانے کا دعوی کیا لیکن اس کا ملبہ نہ ہندوستان میں گرا اور نہ ہی پائلٹ ہندوستان کے ہاتھ آیا ۔پورا فوکس اب اس پائلٹ کی طرف پلٹ گیا جسے پاکستان نے قبضے میں لیا ۔جنگ میں دعوے اورجوابی دعوے تو معمول کی بات ہے ۔ کس کے کتنے طیارے گرے اس بات سے قطع نظر پاکستان نے یہ ثابت کردیا کہ وہ ہندوستان کا مقابلہ کرسکتا ہے جس کی ہندوستان کی فوج اور قیادت کو شاید کوئی توقع ہی نہیں تھی ۔عوام کی خوشی کافور ہوگئی اور وہ جوش تھمنے لگا جس نے نریندرمودی کو ایک نئی قوت عطا کردی تھی ۔پھر وہ ہوا جو خواب میں بھی نہیں سوچا جاسکتا تھا ۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے بھارتی پائلٹ ابھینندن کو دوسرے روز ہی بلا شرط رہاکرنے کا اعلان کرڈالا ۔دنیا میں عمران خان کی واہ واہ ہوئی اور نوبل پرائز دینے کے مطالبے ہونے لگے ۔
یہ اس انا کی بڑی چوٹ تھی جو ابھی تک زخمی نہیں ہوئی تھی ۔اس کے بعد یکلخت زبان بدل گئی اور امن و مفاہمت کے اشارے ہونے لگے ۔ ابھی سب کچھ معمول پر نہیں آیا ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ حالات کب کونسی کروٹ لیں گے لیکن ابھی تک جو ہوا اس سے پاکستان کو یہ احساسً ہوا کہ جنگجویت کی حمایت کسی بھی حیثیت میں اس کے لئے گھاٹے کا ہی سودا ہے جو اس کے وجود کو ہی داو پر لگا سکتا ہے اور ہندوستان کو بھی یہ احساس ہوا کہ اب وقت بدل چکا ہے ۔ اب پاکستان اس کا مقابلہ کرنے کی حیثیت رکھتا ہے ۔اس لئے دونوں ملکوں کے روئیے تبدیل ہونے کے امکانات روشن ہورہے ہیں ۔حال ہی میں ایک انکشاف یہ ہوا کہ بھارت پاکستان کے تین شہروں پر میزائل حملے کرنے کا منصوبہ بنا چکا تھا کہ کسی طرح سے پاکستان کو اس کی بھنک ملی ۔ پاکستان کے وزیر اعظم نے فوری طور پر فوجی کمانڈ کونسل کی میٹنگ بلائی اور اس کے بعد امریکہ اور برطانیہ کو بھارت کے منصوبے کی تفصیل سے آگا ہ کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ پاکستان جواب میں ہندوستان کے نو شہروں کو نشانہ بنائے گا ۔
اس کے بعد امریکہ اور برطانیہ نے بھارت کو خبردار کیا کہ اگر اس نے اپنے منصوبے پر عمل کیا اور پاکستان نے اس کا وہی جواب دیا جو اس نے سوچا ہے تو نیوکلیائی جنگ کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکے گی ۔ اس کے بعد ہی یہ منصوبہ روک دیا گیا ۔ہندوستانی پائلٹ ابھینند ن کے پاکستان کے ہاتھوں میں آجانے کے بعد بھارت کی برسراقتدار جماعت کے لئے اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہا تھا کہ وہ کچھ بڑا کرے لیکن چاہنے کے باوجود بھی وہ ایسا نہیں کرسکی اور اگر وہ ایسا کرتی تو پھر کچھ بھی اس کے قابو میں نہیں رہتا ۔اس طرح پہلی بار اسے یہ احساس ہوا کہ بڑی فوجی طاقت ہونے کے باجود بھی اپنے چھوٹے سے ہمسائے کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ہے اور چھوٹے سے ہمسائے کو بھی اس بات کا احساس ہوا کہ اسے اگر اپنے وقار اوروجود کا تحفظ کرنا ہے تو کئی سخت اقدامات کرنے ہوں گے جو وہ اب کررہا ہے ۔ اس طرح عین جنگ کے میدان میں وہ سوچ پیدا ہوئی جو امن اور مفاہمت کے دروازے کھول رہی ہے ۔کئی ممالک بھی اب دونوں کے رابطے میں ہیں اور اس بات کے واضح آثار نظر آرہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں نفرت اور ٹکراو کے ملبے پر امن اورمفاہمت کے پھول کھلیں گے ۔ چنانچہ فروری کی جنگ دنیا کی وہ پہلی محدود جنگ ثابت ہوئی جس نے مفاہمت کے راستے کھول دئیے ۔
 ہفت روزہ ’’نوائے جہلم‘‘ سری نگر
