جنگ بندی ہو نہ ہو

ماہ مبارک سے پہلے جنگ بند ی کی تجویز ایک امید افزاء واقعہ تھالیکن کسی کو اس کی امید نہیں تھی کہ مرکزی حکومت اس تجویز پر کان دھرے گی۔ مرکز نے اس تجویز کوغیر متوقع طو پر قبول کرکے فورسز کیلئے ہدایت جاری کی کہ وہ جنگجووں کیخلاف آپریشن روک دیں ۔ابھی اس اعلان کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ لشکر طیبہ نے جنگ بندی کو مسترد کرتے ہوئے اسے شہداء کی قربانیوں کے ساتھ کھلواڑ کے مترادف قرار دیا ۔ جنگ بندی کی تجویز وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا سیاسی داؤ تھا اور یہ مرکز کیلئے ایک امتحاں ۔مرکز کے سیاسی پنڈتوں کوغالباً اس بات کا پورا پورا اندازہ تھا کہ اسے یا تو جنگجو تنظیموں کی طرف سے مسترد کیا جائے گا یا عملی طور پر یہ قابل عمل نہیں ہوگا کیونکہ ایسے واقعات ضرورہوں گے جو اسے ناکام بنائیں گے ۔
محبوبہ مفتی اور مرکز دونوں نے سیاسی پوائنٹ حاصل کرلئے اور جنگ بندی بھی نہیں ہوئی۔ چنانچہ تلاشی آپریشن ہوں گے ۔ نوجوان جنگجووں اور فورسز کے درمیان دیوار بن کر کھڑے ہوجائیں گے ۔ جھڑپیں ہوں گی ۔آنسو گیس کے گولے داغے جائیں گے ۔ پیلٹ چلیں گے اورپھر بلٹ بھی چلیں گے ۔اس لئے وہ ذہنی اور روحانی سکون ممکن نہیں ہوگا جو اللہ اور بندے کے درمیان  فاصلے مٹادیتا ہے ۔اب وہی ہوگا جو اس سرزمین کی تقدیر بن چکا ہے ۔لیکن ماہ رمضان کا یہ مبارک مہینہ ہمیں یہ بھی یاد دلائے گا کہ مسلمان تقدیر کا قائل نہیں ۔ وہ تدبر ، تدبیر ، حکمت ، علم اور عقل سے اپنے حالات بدلنے پر خود قادر ہے اور اللہ اس کی مدد کے لئے کافی ہے ۔اللہ صبر کرنے والوں اور حکمت سے کام لینے والوں کے ساتھ ہے ۔
آج مسلم دنیا صبر ، تدبر ، حکمت ، علم اور سوچ سے خالی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ نیل کے ساغر سے لیکر کاشغر تک مسلمان اپنے ہی آپ سے لڑرہے ہیں اور وہ ابھی تک یہ پتہ کرنے میں ناکام ہیں کہ وہ کیوں اورکس کے ساتھ لڑرہے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ جس وقت ماہ مبارک کا استقبال ہورہا تھا عین اسی وقت فلسطین مسلمانوں کے خون سے لالہ زار ہورہا تھا۔یروشلم میں امریکہ کا سفارت خانہ کھولا جارہا تھا  اور اٹھاون آزاد مسلم ملکوں کی طاقت اور قوت بے چارگی کی حالت میں مذمتی بیانات کے سوا کچھ سوچنے اور کرنے کی حالت میں نہیں تھی۔القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری نے امریکہ کیخلاف جہاد کا اعلان کردیا ہے ۔لیکن وہ قوت جو خود کو دنیا میں چھپائے پھرتی ہے امریکہ کا کیا بگاڑ سکتی ہے ۔ بہت ہوا تو کوئی بڑا حملہ کرے گی لیکن اس سے امریکہ نہ فنا ہوگا نہ اسرائیل کی حمایت چھوڑ دے گا ۔
کسی معرکے کو جیتنے کیلئے یا کسی عظیم قوت کو شکست دینے کیلئے جہاد کا نعرہ یا اعلان کافی نہیں ہوتا ۔بلکہ صبر و ضبط کے ساتھ خود کو اس قابل بنانا ضروری ہوتا ہے کہ بڑی سے بڑی قوت کو شکست دی جاسکے  ۔لیکن بعض مسلمان اس روئیے کے روادار نہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ خودکش حملوں ، ملی ٹنسی اوراحتجاجوں  سے بڑی سے بڑی قوتوں کو شکست دی جاسکتی ہے لیکن تاریخ شاہد ہے کہ ماضی میں اپنے شاندار ادوار میںخود مسلمانوں نے ایسے حربوں کو رد کیا اور انتہائی منصوبہ بندی اورتدبر کے ساتھ اپنے آپ کو اتنا مضبوط کیا کہ ان کی طرف آنکھ اٹھانے کی بھی کسی کو جرات نہیں ہوئی یہاں تک کہ علم ، تدبر اور حکمت ان سے چھوٹ گئی ۔کشمیر
 کا بیانیہ بھی مختلف نہیں ۔یہاں بھی تدبیر اور منصوبہ بندی کو کوئی اہمیت نہیں ۔جس کی جو مرضی ہوتی ہے کرتا ہے ۔ کوئی ڈائریکشن نہیں۔کوئی رہبری اور رہنمائی نہیں۔ اسکے جو نتائج ہیں سب کے سامنے ہیں لیکن ان کی گہرائیو ں اور سنگینیوں کو سمجھنے کے باوجودانہیں نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ یہی وہ المیہ ہے جو اس زندہ قوم کو حواس باختہ کررہا ہے ۔جس روز حکومت ہند کی طرف سے جنگ بندی کااعلان ہوا کشمیر کی مشترکہ سیاسی قیادت کا اس روز جو بیان جاری ہوا اس میں اس کا کوئی ذکر نہیں تھا۔اس بیان میں اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کے قتل عام کیخلاف جمعہ کے روز احتجاجوں کی اپیل کی گئی تھی ۔فلسطین کشمیریوں کیلئے بے شک جذباتی اہمیت کا حامل ہے لیکن یہ پورے عالم اسلام کا مسئلہ ہے جس کے اٹھاون آزاد ملک اس پر احتجاج بھی نہیں کررہے ہیں ۔
جنگ بندی کے اعلان کا تعلق کشمیرکے حالات کے ساتھ ہے اس پر سیاسی قیادت سے پہلے عسکری تنظیموں کا ردعمل سامنے آتا ہے جو اس بات کا ثبوت پیش کرنے کیلئے کافی ہے کہ سیاسی قیادت نہ بات کرنے کی قوت اور صلاحیت رکھتی ہے اور نہ ہی فیصلے کرنے کی ۔ وہ ہر اہم موقع اور اہم مسئلے پر اس وقت تک خاموش رہتی ہے جب تک نہ اس پر دوسری قوتوں کا نکتہ نظر واضح ہوتا ہے ۔اسی مخمصے میں وہ مسئلہ کشمیر کو عالمی مسائل میں اور عالمی مسائل کو مسئلہ کشمیر میں خلط ملط کرتی ہے ۔ سیاست کومذہب اور مذہب کو سیاست کے ساتھ بلاجواز ملاکر وہ کنفیوژن پیدا ہوا ہے جو بہرحال اسی کی تحریک کو انتشار سے دوچار کرتی ہے ۔
ماہ مبارک ہم سب کو یہ دعوت دے رہا ہے کہ ہم اپنا احتساب اوراپنی اصلاح کریں ۔اللہ کے آگے سربسجود ہوکر اسی سے رہنمائی اور رہبری مانگے ۔جنگ بندی کی توقعات ختم ہوچکی ہیں تاہم ہم کم از کم اتنا توکرسکتے ہیں کہ اس مقدس مہینے میںاپنے سب سے بڑے دینی مرکز جامع مسجد اور اس کے ارد گرد جنگ بندی عمل میں لائیں  ۔اس مہینے اس دینی مرکز کے قرب و جوار میں کوئی مظاہرہ ، کوئی سنگبازی اور کوئی ہنگامہ آرائی نہ ہو۔ ہوسکتا ہے اس سے من مانیوں پر روک لگ سکے اورڈسپلن و صف بندی کے تابع ہونے کی سوچ پیدا ہوسکے ۔
(بشکریہ ہفت روزہ نوائے جہلم سرینگر)