جنگ آزادی اورعلمائے اہل ِ سنت کا تاریخی رول یوم آزادی

افتخاراحمدقادری

اس بار وطن عزیز ہندوستان میں 76واں یومِ آزادی بڑے تزک واحتشام کے ساتھ منایا جارہاہے لیکن یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ آج کے دن لوگ تحریکِ آزادی میں پسینہ بہانے والوں کو تو خوب یاد کرتے ہیں لیکن خون بہانے والوں کو فراموش کر دیا جاتاہے۔یہ ایک مسلم الثبوت اور ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ہندوستان کی آزادی علمائے کرام ہی کے دم قدم سے متصور ہے۔ آج ہم آزادی کی جس خوشگوار فضا میں زندگی کے لمحات بسر کر رہے ہیں، یہ علمائے حق ہی کے سرفروشانہ جذبات اور مجاہدانہ کردار کا ثمرہ ہے۔ انہی کے مقدس لہو سے شجر آزادی کی آبیاری و آبپاشی ہوئی ہے۔ اگر انہوں نے بروقت حالات کے طوفانی رخ کا تدارک نہ کیا ہوتا تو آج مسلمان یہاں کس حال میں ہوتے وہ خدا ہی بہتر جانتا ہے مگر اندازہ یہ لگایا جاتاہے کہ اولاً ہندوستان میں مسلمانوں کا وجود ہی نہ ہوتا اور اگر ہوتا بھی تو ان کے اندر اسلامی روح، ایمانی جذبہ اور دینی غیرت و حمیت مفقود ہوتی۔جنگ آزادی کے چند نامور قائدین درج ذیل ہیں؛

مفتی عنایت احمد کاکوروی: ۔ آپ 9شوال المکرم 1228ہجری مطابق 4اکتوبر 1813عیسوی کو مقام دیوی میں پیدا ہوئے۔ تحصیل علم کیلئے رامپور تشریف لے گئے۔ پھر علی گڑھ جاکر منقول و معقول کی سند حاصل کی۔ مولانا بزرگ علی مارہروی سے ریاضی پڑھی۔علی گڑھ ہی میں سرکاری ملازمت اختیار کرلی اور مفتی و منصف کے عہدے پر فائز ہوئے۔ ایک سال کے بعد بریلی شریف تبادلہ ہوگیا۔ اسی دوران میں 1857عیسوی کی آزادی کے شعلے بھڑکنے لگے ،آپ نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ بریلی شریف کے انقلابی گروہ کی مشاورتی مجالس میں برابر شریک ہوتے رہے۔ نواب خان بہادر کی قیادت میں کارہائے نمایاں سر انجام دیے۔ اس وقت بریلی شریف مجاہدین ِ آزادی کا مرکز تھا۔یہاں مجاہدین آزادی کی ہر قسم کی امداد و اعانت مولانا رضا علی خان اور مولانا نقی علی خان فرما رہے تھے۔ آپ نے ان کے ساتھ مل کر بڑی خدمات سر انجام دیں۔ جب جنرل بخت خان بریلی شریف پہنچے تو مفتی عنایت احمد کاکوروی صاحب آپ کے ساتھ ہوگئے۔ جب یہ لشکر رام پور پہنچا تو مفتی عنایت احمد کاکوروی صاحب اس کے ساتھ ہی تھے۔وائی رام پور نے جب مجاہدین آزادی کی اعانت سے انکار کیا اور جنرل بخت نے اس کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تو مفتی عنایت احمد کاکوروی صاحب نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ جنرل بخت نے وائی رام پور سے صلح کرلی تو اس وقت مفتی عنایت احمد کاکوروی مولانا سرفراز علی کے مشورے سے واپس بریلی شریف آئے۔ خان بہادر کی مجلسِ مشاورت کے علاوہ میدان کار زار میں بھی شریک رہے۔ لیکن آخر کار انگریزی تسلط قائم ہوگیا۔مفتی عنایت احمد کاکوروی صاحب بھی گرفتار کر لئے گئے اور 1858 عیسوی میں کالا پانی روانہ کر دیے گئے۔ وہاں پہلے حضرتِ مولانا فضل حق خیرآبادی اور مولانا مفتی مظہر کریم دریابادی موجود تھے۔ آپ سختیوں کے باوجود بھی تصنیف وتالیف میں مشغول رہے۔ اسیری کے دوران تقویم البلدان کا ترجمہ کیا اور آپ نے قرآن مجید حفظ کیا اور سیرت مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلّم پر مشہور کتاب ’’ تواریخ حبیب اللہ‘‘ لکھ ڈالی۔ یہ کارنامہ آپ نے اس حالت میں انجام دیا کہ مطالعہ کے لیے دوسری کتابیں موجود نہ تھیں۔
1277ہجری میں حافظ وزیر علی داروغہ کی کوششوں سے رہائی پائی۔ کاکوری میں مختصر قیام کر کے کانپور آئے اور مدرسہ فیض عام قائم کیا۔ مولانا لطف اللہ علی گڑھ اس مدرسے کے پہلے فارغ ہونے والے عالم دین تھے۔ 1279ہجری میں زیارتِ بیت اللہ شریف کیلئے روانہ ہوئے۔17شوال المکرم 1379ہجری کو مطابق اپریل 1863عیسوی جہاز سمندر میں پہاڑ سے ٹکراکر ڈوب گیا۔ مفتی عنایت احمد کاکوروی بحالت احرام خدا کو پیارے ہوگئے۔ آپ کی تصنیفات 20 سے زائد ہیں۔ (تواریخ حبیب اللہ)

مفتی صدر الدین آزردہ دہلوی:۔ مفتی صدر الدین صاحب کے آباء واجداد کشمیر کے رہنے والے تھے۔ آپ دہلی میں 1904ہجری مطابق 1779عیسوی کو پیدا ہوئے۔علوم کی تکمیل و تحصیل شاہ عبد العزیز شاہ عبد القادر اور شاہ محمد اسحاق سے کی اور علوم عقلیہ علامہ فضل امام صاحب خیرآبادی سے حاصل کئے۔ آپ بڑے پائے کے عالم دین، ادیب اور شاعر تھے۔اْردو، فارسی، عربی تینوں زبانوں کے فاضل اور دہلی کے روسائوں میں سے تھے۔دہلی میں آپ صدر الصدور کے عہدے پر فائز رہے۔ جب آزادی کی جنگ شروع ہوئی تو علمائے اہلسنت نے جو فتویٰ دیا اس پر آپ نے بھی دستخط کئے تھے اور اس کی تشہیر میں بھی نمایاں حصہ لیا تھا۔ اس جرم کی پاداش میں آپ کو گرفتار کر لیا گیا۔ چند ماہ بعد خود تو رہا ہو گئے مگر جائداد نیلام ہو گئی۔ صرف نیلام شدہ کتب خانہ کی قیمت مالیت تین لاکھ روپے تھی اس کے حصول کے لیے بڑی دوڑ بھاگ کی مگر کچھ حاصل نہ ہوا۔ آپ دو سال فالج میں مبتلاء رہنے کے بعد 81سال کی عمر میں 24 ربیع الاوّل 1285ہجری مطابق 1858عیسوی میں اس عالمِ فانی سے تشریف لے گئے۔

علامہ فضل ِ حق خیرآبادی:۔ آپ جنگ آزادی کے سب سے عظیم ہیرو ہیں۔ انقلابی سرگرمیوں کی پاداش میں آپ باغی قرار دئے گئے۔ 1859 عیسوی میں لکھنؤ میں مقدمہ چلا آپ کی شہرت و مقبولیت کے پیش ِ نظر امید یہی تھی کہ بری کردیے جائیں گے مگر آپ نے اپنی جان کی پروہ کئے بغیر بھرے مجمع میں1857کی جنگ میں شرکت کا اعتراف کیا جس کی وجہ آپ کی رہائی منسوخ ہوگئی اور آپ کو کالا پانی روانہ کردیا گیا۔ جس دن آپ کے معتقدین رہائی کا پروانہ لے کر کالا پانی پہنچے اس دن آپ اس دنیا کو الوداع کہہ چکے تھے۔ حضرتِ علامہ فضل ِ حق خیرآبادی، عمری، حنفی، ماتریدی، چشتی 1212ہجری مطابق 1797عیسوی میں پیدا ہوئے۔اپنے والد گرامی مولوی فضل امام کے شاگرد تھے۔ آپ نے حدیث کی تعلیم مولانا عبد القادر دہلوی سے حاصل کی، قرآن مجید چار ماہ میں حفظ کرلیا، تیرہ سال کی عمر میں آپ فارغ التحصیل ہوگئے، آپ شاہ دھومن دہلوی کے مرید تھے، علم منطق، حکمت و فلسفہ، ادب، کلام، اصول اور شاعری میں اپنے ہم عصروں میں ممتاز اور اعلیٰ قابلیت رکھتے تھے، آپ کی تصنیفات میں الحسن الغالی فی شرح الجواھر العالی، حاشیہ شرح مسلم قاضی مبارک، حاشیہ افق المبین، حاشیہ تلخیص الشفاء ، الہدایتہ السعیدیہ (حکمت طبعی) رسالہ تحقیق العلم و العلوم، الروض جیسی کتابیں ہیں۔حضرتِ مولانا فضل حق خیرآبادی علوم معقول کے امام تھے۔ کمشنر دہلی کے دفتر میں پیش کار تھے۔جنگ آزادی 1857 عیسوی میں مولانا فضل حق خیرآبادی نے مردانہ دار حصہ لیا، دہلی میں جنرل بخت خان کے شریک رہے۔لکھنؤ میں حضرت محل کی کورٹ کے ممبر رہے، اخیر میں گرفتار ہوئے۔ مقدمہ چلا، بہ عبور دریائے شور کی سزا پائی۔ جزیرہ انڈمان بھیجے گئے اور وہیں 12صفر المظفر 1278، ہجری مطابق 1861 عیسوی میں انتقال ہوا۔ جزیرہ انڈمان میں ہی آپ کا مزار مبارک ہے۔
مولانا کفایت علی کافی:۔جن علمائے اہلسنت نے جنگ آزادی کی تاریخ اپنے خون سے رقم کی، ان میں سے مولانا کفایت علی کافی قدر آور شخصیت ہیں۔ آپ کا نام کفایت علی اور تخلص کافی ہے۔ مراد آباد کے ایک باعزت خاندان سادات کے چشم و چراغ تھے۔ علم حدیث، علم فقہ، اصول منطق، فلسفہ اور عروج و قوافی میں یگانہ روزگار تھے۔ مولانا کفایت علی کافی حضرتِ صدر الافاضل مولانا نعیم الدین صاحب مرادآبادی کے والد ماجد مولانا سید معین الدین نزہت کے ہم سبق تھے۔جنگ آزادی 1857عیسوی کے دوران آپ نے انگریزوں کے خلاف فتویٰ جہاد دیا۔جنرل بخت روہیلہ کی فوج میں کمانڈر ہوکر دہلی آئے اور اپنی بہادری کے جوہر دکھائے۔ دشمن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ بہادر شاہ ظفر نے کئی بار آپ کو بلا کر مشورے لیے۔ دہلی میں جب نظام درہم برہم ہوا تو جنرل بخت کے ہمراہ بریلوی شریف پہنچے۔یہاں مولوی احمد اللہ شاہ مدراسی بھی تھے۔ ان کی معیت میں موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دشمنوں کا مقابلہ کرتے رہے۔ آخر کار مولوی احمد اللہ شاہ مدراسی صاحب اور جنرل بخت کے ہمراہ مراد آباد پہنچے۔ یہاں آپ کو صدر الصدور بنا دیا گیا اور آپ نے شرعی احکام جاری کیے۔ آخر میں انگریزوں نے گرفتار کر لیا۔جسم پر گرم گرم استری پھیری گئی، زخموں پر مرچیں چھڑکیں گئیں۔غرض یہ کہ اپنے مقصد سے برگشتہ کرنے کے لیے ہر حربہ انگریزوں نے استعمال کیا مگر ظلم کا کوئی تیر بھی اس مرد مجاہد کے پایہ استقلال میں لغزش پیدا نہ کر سکا۔ جب انگریز بالکل مایوس ہو گئے تو چوک مرادآباد میں بر سرِ عام اس عاشقِ رسول ؐکو سولی پر لٹکا دیا گیا یہ واقعہ 30 اپریل1858عیسوی کو پیش آیا۔

آزادیٔ ملک میں حضور مفتی اعظم ہند کا کردار:۔کانگریس کا نرم دل 1857عیسوی کی فوجی معرکہ آرائی کی ناکامی کو مد نظر رکھتے ہوئے تحریک آزادی کو پر امن طریقے سے چلانا چاہتا تھا۔ملک کو آزاد کرانے کا جذبہ اس قدر قوی ہوگیا تھا کہ کانگریس کے نرم دل اور اہنسا وادیوں میں کچھ لیڈر اہنسا (عدم تشدد) ترک کرکے جنگ و جدال کا راستہ اپنانا چاہتے تھے لیکن حضور مفتی اعظم ہنداس سلسلے میں لکھتے ہیں ’’کیا نہتوں کو ان سے (انگریزوں سے) جو تمام ہتھیاروں سے لیس ہوں لڑنے کا حکم دینا سختی نہیں ہے خلاف انصاف نہیں ہے؟ کیا ایسوں کو ہتھیار چلانا تو بڑی بات جو اٹھانا بھی نہیں جانتے، جن کے وہم میں بھی کبھی نہیں گزرا کہ بندوق کس طرح اٹھاتے ہیں، تلوار کیوں کر اٹھاتے ہیں تیغ کیسے چلاتے ہیں جنہوں نے کبھی جنگ کے ہنگامے، لڑائی کے معرکے خواب میں نہ دیکھے، انہیں توپوں کے سامنے کر دینا کچھ زیادتی نہیں ہے کیا؟‘‘…(احکام الامارت والجہاد، صفحہ30) خونی معرکہ آرائی کے نتیجے اور بھارت کے عوام کی قابل ِ رحم حالت بیان کرکے حضور مفتی اعظم ہندنے تحریکِ آزادی میں ہنسا، تشدد یا جنگجوئی کے استعمال کی مخالفت کی۔یہ وہ وقت تھا جب گاندھی جی بھی ابو الکلام آزاد کوفتویٰ جہاد جاری کرنے سے نہ روک سکے،نہ ہنسا کے استعمال کی مخالفت کرسکے۔ حقیقت تو یہ تھی کہ تحریکِ خلافت، تحریک ِ ہجرت اور تحریکِ جہاد وغیرہ کانگریسیوں ہی نے چلائی تھیں اور موہن داس کرم چند گاندھی پارٹی کے ہیڈ اور خاص الخاص بلکہ روح رواں تھے۔ لہٰذا یہ صرف ابو الکلام آزاد کی تحریک نہیں تھی بلکہ گاندھیائی اور کانگریسی تحریک تھی جس کی مخالفت اور جس کا رد سیدی سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی نے بھی کیا تھا اور حضور مفتی اعظم ہند نے بھی۔ حضور مفتی اعظم ہند جہاد بالسیف کے حمایتی تھے لیکن مذہبِ اسلام نے جہاد بالسیف کی شرطیں بتائی ہیں اور جب وہ شرطیں پوری ہورہی ہوں تو جہاد بالسیف کیا جاسکتا ہے کیونکہ یہاں اسلامی جہاد بالسیف کی شرطیں موجود تھیں لہٰذا حضور مفتی اعظم ہند نے ہندوستانیوں کو جہاد بالسیف سے روکا۔تحریک جہاد صرف ہندوستانی مسلمانوں کے لیے چلائی گئی تھی اس لیے حضور مفتی اعظم ہند نے مسلمانوں کو اس سے روکا اور اس کے جان لیوا نتائج سے مسلمانوں کو خبردار کیا۔ حضور مفتی اعظم ہند لکھتے ہیں’’ نہ ہمارے پاس ہتھیار جنگ ہی انگریز جیسے ہیں نہ ہی باقاعدہ فوج ہے نہ کوئی سلطان ہے اس لیے جہاد مسلمانوں کے لیے نقصان دہ ہے‘‘۔(احکام الامارت ولجہاد، صفحہ/ 32) ۔ملک کی آزادی میں حضور مفتی اعظم ہند کا بڑا اہم حصہ اور کردار ہے جسے فراموش نہیں کیا جاسکتا اور ہم آزادی کے لیے حضور مفتی اعظم ہندکے ممنون احسان ہیں- (ماخذ پیغام رضا، حضور مفتی اعظم ہند نمبر، صفحہ نمبر/ 13)
آج کے اس مضمون میں مجھے صرف اتناہی کہنا ہے کہ آج منصوبہ بند انداز میں جس طرح سے مسلمانوں کی کردار کشی کی جارہی ہے اس کے پیشِ نظر ہمیں بیدار رہ کر اپنے اسلاف کی روشن و تابندہ شخصیات کو اْجاگر کرنا چاہئے اور آنے والی نسل کے دل ودماغ میں ان کی عقیدت و محبت اور عظمت و قربانی کی شمع جلانی چاہئے اور شر پسند افراد کے باطل منصوبوں کو خاک میں ملانا چاہیے- بلکہ 15 اگست کو ایک روایت شروع کی جائے وہ یہ کہ مدارس اور مکاتب کے اساتذہ سکولوں اور کالجوں میں جاکر خطاب کریں اور سکولوں اور کالجوں کے اساتذہ مدارس میں آکر خطاب کریں، ایسے موقع پر ہمارا پیغام سکولوں میں پہنچ جائے گا اور جب سکولوں کے اساتذہ کی تقریریں ہوں گی اس سے بھی اندازہ ہو جائے گا کہ اصلی مسلم مجاہدین ِ آزادی کے حوالے سے ان کی معلومات کتنی ہیں اور کن کو یہ اصلی ہیرو سمجھتے ہیں؟
پتہ۔کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت،یوپی
(نوٹ۔ اس مضمون میں ظاہر کی گئی آراء مضمون نگار کی خالصتاً اپنی آراء ہیں اور انہیں کسی بھی طور کشمیر عظمیٰ سے منسوب نہیں کیاجاناچاہئے۔)
رابطہ۔ 8954728623
[email protected]