جنگلات میں رہائش پذیر قبائلوںکے دعوے

سرینگر//حقوقِ جنگلات قانون کے تحت حق جنگلات کمیٹیاں جموں کشمیر میں قبائلیوں اور جنگلات میں رہائش پذیر لوگوں سے جنگلاتی اراضی کے دعوئوں کو15جنوری سے تسلیم کریں گی۔ جموں کشمیر کی تاریخ میں ایسا پہلے بار ہو رہا ہے کہ5 اگست2019کے بعد آئینی تبدیلیوں کے بعد مرکزی زیر انتظام والے اس خطے میں حقوق جنگلات قانون کا نفاذ عمل میں لایا جا رہا ہے۔ جموں کے جنگلات سے قبائلیوں کو جنگلاتی اراضی سے بے دخل کرنے کا معاملہ ایک سیاسی تنازعہ بن گیا ہے،جہاں کئی محکموں کی جانب سے مبینہ طور پر من پسند طرز عمل اپنانے پر سوالات کھڑے ہو رہے ہیں۔ حقوق جنگلات قانون کے تحت قبائلیوں اور جنگل میں رہائش پذیر دیگر لوگوں کو انکے زیر قبضہ جنگلاتی اراضی کے دعوئوں کیلئے حقوق جنگلات کمیٹیوں یا گرام سبھائوں کے پاس رجوع کرنا ہے۔جموں کے میونسپل علاقوں میں تاہم حقوق جنگلات کمیٹیوں کا قیام عمل میں لانے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ان الزمات کو مسترد کرتے ہوئے قبائلی امورات کی انتظامی سیکریٹری ریحانہ بتول نے بتایا’’ حقوق جنگلات کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے،اور وہ تقریباً مکمل ہوچکی ہیں ماسوائے جغرافائیائی خدو خال کے اعتبار سے مشکل علاقوں اور برف سے بند پڑے ہوئے علاقوں میں‘‘۔ انہوں نے مزید کہا’’ حقوق جنگلات کمیٹیاں15جنوری سے دعوئوں کو حقوق جنگلات قانون کے تحت تسلیم کریں گی،اور دیہی علاقوں میں گرام سبھائیں پہلے ہی دستیاب ہیں‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ کچھ میونسپل علاقوں میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ریحانہ بتول نے کہا کہ یہ تمام علاقوںمیں بنائی جانی ہیں جہاں پر بھی قبائیلی آبادی موجود ہے۔انہوں نے تاہم کہا کہ حقوق جنگلات قانون کے تحت اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ یہ قانون دیہی و شہری علاقوں میں نافذ العمل ہوگا۔قبائلی امورات کی انتظامی سیکریٹری نے مزید کہا’’ انتظامیہ اس معاملے سے نپٹ رہی ہے،کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے،اور جہاں بھی ہوسکے ہم تمام معاملات کا ازالہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنروں کی جانب سے اس معاملے میں تعاون دینے کی سراہنا کی۔ بتول نے کہا کہ15جنوری سے جنگلاتی حقوق کے انفرادی دعوئوں کو حقوق جنگلات کمیٹیوں کی طرف سے تسلیم کیا جائے گا۔ قبایلی لیڈر اور معروف دانشور نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر کہا’’ میونسپل حدود بالخصوص جموں صوبے میں حقوق جنگلات کمیٹیوں کا قیام عمل میں نہیں لایا گیا ہے،اورہم اس کی وجہ بھی نہیں جانتے‘‘۔انہوں نے کہا کہ اگر ایسی کمیٹیوں کا قیام ابھی تک عمل میں نہیں لایا گیا ہے قبائلیوں اور جنگل میں رہائش پذیر لوگوںکے دعوئوں کو کون سنے گا۔اس دوران کمشنر میونسپل کارپوریشن جموں ایونی لواسہ سے اس معاملے میں رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی گئی تاہم متواتر کوششوں کے باوجود بھی وہ دستیاب نہیں تھی۔