جنگجو مخالف آپریشنوں میں وقتی طور کمی کردی گئی

سرینگر// وادی میں بلدیاتی انتخابات کے پیش نظرجنگجو مخالف آپریشنوں کو کم کیا گیا ہے،جس کے نتیجے میں گزشتہ15دنوں کے دوران فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان کوئی بھی آمنا سامنا نہیں ہوا ہے۔ سیکورٹی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ انتخابات کے دوران صرف سراغ رساں ایجنسیوں کی اطلاعات کی بنیاد پر ہی آپریشن کئے جا رہے ہیں۔ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس منیر خان کا کہنا ہے کہ محاصرے صرف ضرورت کے وقت کئے جاتے ہیں۔ وادی میں بلدیاتی انتخابات کے نتیجے میں جہاں شہری،عسکری اور فورسز ہلاکتوں میں ٹھہرائو پیدا ہوا،وہیں جنگجویانہ حملوں،محاصروں اور تلاشیوں کے آپریشنوں میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ بلدیاتی انتخابات کے دوران5اکتوبر کو شہر میں2 سیاسی کارکنوںکی ہلاکت کے علاوہ اور کوئی  بڑی واردات رونما نہیں ہوئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دوران فورسز ایجنسیوں اور جنگجوئوں کے درمیان بھی براہ راست کوئی بڑی جھڑپ گزشتہ2ہفتوں کے دوران نہیں ہوئی۔ذرائع نے مزید بتایا کہ انتخابات کے پیش نظرمحاصروں اور کریک ڈائونوں کے گراف میں بھی کمی کردی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق 27 ستمبر کو سرینگر کے نور باغ علاقے میں محاصرے کے دوران فورسز نے ایک شہری محمد سلیم ملک کو گولی مار کر ہلاک کیا،جبکہ چاڈورہ کے پانزن علاقے میں جھڑپ میں2حزب جنگجو جاں بحق ہوئے تھے۔اسی روز جنوبی کشمیر کے قاضی گنڈ علاقے میں لشکر طیبہ کا مقامی کمانڈر آصف ملک ساکن کھاہ گنڈ ویری ناگ جاں بحق ہوا،جبکہ  ایک اہلکار بھی ہلاک ہوا۔ پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ انتخابات کے دوران صرف خفیہ اطلاعات کی بنیادوں پر آپریشن کئے جا رہے ہیں۔انہوں  نے بتایا’’ خفیہ اطلاعات کی بنیادوں پر آپریشنوں کا مقصد لوگوں کے انتخابی مزاج کو زندہ رکھنا  ہے‘‘۔مذکورہ پولیس افسر نے مزید کہا کہ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ10دنوں کے دوران کوئی بھی تصادم آرائی نہیں ہوئی۔ادھر 30ستمبر کو مسلح جنگجوئوں نے پولیس اسٹیشن شوپیان پر دھاوا بولتے ہوئے اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک اہلکار موقعے پر ہی ہلاک ہوا جبکہ اس دوران جنگجوئوں نے موقعے کا فائدہ اٹھاکر اہلکار کی سروس رائفل بھی اُڑالی،تاہم اس کے بعد انہوں نے خاموشی کا اظہار کیا۔ سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اضافی چیک پوائنٹوں،ناکہ بندی،تلاشیوں اور گشت کی وجہ سے عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت بھی محدود ہو گئی ہے۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس امن و قانون اور سیکورٹی منیر احمد خان نے کہا’’ہم جنگجوئوں کا تعاقب کرتے ہیں،اور ضرورت پڑنے پر ہی محاصرہ اور تلاشیوں کا آپریشن کرتے ہیں‘‘۔