جنگجوئوں کے اہل خانہ کوہراساں کرنا ظلم کی انتہا :صحرائی

سرینگر//تحریک حریت کے چیرمین محمداشرف صحرائی نے جنگجوئوں کے گھروں پر چھاپے مارنے اور ان کے اہل خانہ کوہراسان کرنے کی مذمت کرتے ہوئے اسے سرکاری ظلم و ستم سے تعبیر کیا ہے۔ایک بیان میں انہوں نے جنگجوئوں کے گھروں پر چھاپے ڈالنے، مکانات اور دیگر املاک کی توڑ پھوڑ کرنے اور اہل خانہ کی مارپیٹ اور ہراساں کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں سرکاری دہشت گردی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرونی بجبہاڑہ میں فورسز کی طرف سے نذیر احمد ملک اور بشیر احمد ملک کے گھر پر چھاپہ ڈالنے اور بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کرنا انتہائی افسوس ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں گھرانوں کے دو جوان جنگجو ہیں اور وہ میدان کار زار میں اپنے والدین سے پوچھ کر نہیں گئے ہیں، بلکہ انہوں نے اپنے لیے خود ہی یہ راستہ اختیار کیا ہے، لیکن انتظامیہ ان کے گھروالوں کو انتقام کا نشانہ بنارہی ہے۔ اس طرح کی انتقامی پالیسی اپنانے سے حالات کے بگڑنے کا اندیشہ ہے۔ صحرائی نے کہا کہ فورسز کو عسکریت پسندوں کے گھروں کے ساتھ لڑائی لڑنے سے اجتناب کرنا چاہیے، کیونکہ ان گھرانوں کاجنگجوئوں کی پالیسی یا کارروائی میں کوئی عمل دخل نہیں ہے ۔انہوںنے کہا کہ بھارت دھونس، دباؤ اور طاقت کے ذریعے یہاں کے عوام کو بالعموم اور آزادی پسندوں کو بالخصوص کچلنے کی پالیسی پر گامزن ہے اور اسی لیے ظلم وجبر، تشدد، مار دھاڑ اور قتل وغارت کا بازار گرم کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں کے گھروں پر فوجی یلغار کرکے توڑ پھوڑ اور مار دھاڑ کی کارروائیوں سے اجتناب کیا جانا چاہیے۔