جنگجوئوں میں قیادت کا فقدان: راج ناتھ سنگھ

 
نئی دہلی //مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ وادی کشمیر میں متحرک جنگجو گروپوں میں قیادت کا فقدان پایا جارہا ہے۔سوموار کوپارلیمنٹ میںانہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز کی طرف سے جنگجو مخالف آپریشنوں میں گزشتہ کئی برسوں سے جنگجو گروپوں سے وا بستہ چوٹی کے کئی کمانڈروں کو مارا گیا جس کے نتیجے میں فی الوقت عسکری جماعتیں قیادت سے مکمل طور پر عاری ہوچکی ہیں۔اپوزیشن کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مرکزی وزیر دفاع نے بتایا کہ 14فروری 2019کو ہوئے لیتہ پورہ خود کش حملے کی تحقیقات ہنوز جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خود کش حملے کی تحقیقات بڑے پیمانے پر جاری ہے جس کی ذمہ داری قومی تحقیقاتی ایجنسی کوسونپی جاچکی ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں جنگجوئوں کے منصوبوں کو ناکام بنانے کی خاطر سیکورٹی ٖفورسز کی جملہ ایجنسیاںپورے نظم و ضبط کیساتھ کام کررہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فوج، سی آر پی ایف ، پولیس سمیت دیگر خفیہ ایجنسیاں باہمی اشتراک کے ساتھ کام کررہی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ جنگجوئوں کی شرپسند کارروائیوں پر لگام کسنے کیلئے سیکورٹی فورسز متواتر طور پر نظر گزر رکھ گئی ہے۔ انہوںنے اس بات کا انکشاف کیا کہ سال 2018کے دوران جنگجوئوں نے فورسز کو نشانہ بنانے کی غرض سے 12ہلاکت خیز حملے انجام دئے جبکہ 2016اور 2017میں بالترتیب اس کی تعداد 6اور 13رہی۔
 
 

قریب 2لاکھ بلٹ  پروف جیکٹوں کی کمی

نیوز ڈیسک
 
نئی دہلی //مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ آرمڈ فورسز میں بلٹ پروف جیکٹوں کی کمی کو پورا کرنے کیلئے ایک لاکھ 86ہزار جیکٹ خریدے جارہے ہیں۔راجیہ سبھا میں انہوں نے کہا کہ 2009میں 3,53,755بلٹ پروف جیکٹوں کی کمی تھی، لیکن جیکٹ نہیں کڑیدے گئے۔انہوں نے کہا کہ اپریل2016میں 1,86,138جیکٹوں کی کمی محصوس کی گئی۔انہوں نے کہا کہ قریب 2بلٹ پروف جیکٹوں کی کمی 36ماہ میں پوری کی جائیگی۔انہوں نے کہا کہ سیاچن پر 2018میں 8اموات ہوئیں،2017میں 5اور 2016 iN میں20فوجی ہلاک ہوئے۔