جنونی پروپپگنڈے سے کس کا بھلا ہوگا؟

 سرینگر// حریت (گ)چیرمین سید علی گیلانی نے مسئلہ کشمیر کو بھارت اور پاکستان کے مابین مخاصمت اور آپسی تناؤ کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک اس مسئلہ کو اس کے تاریخی پسِ منظر میں حل نہیں کیا جاتابرصغیر ہندوپاک پر جنگ کے خوفناک بادل منڈلاتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ دو ہمسایہ ممالک کے درمیان سرحدی تنازعہ نہیں بلکہ یہاں کے ڈیڑھ ملین جیتے جاگتے انسانوں اور ان کی آنے والی نسلوں کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔ حریت رہنما نے تاریخی حقیقت دہراتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر بھارت کے فوجی اور جبری قبضے کے نتیجے میں آج تک ایک حل طلب مسئلے کی صورت میں نہ صرف جنوبی ایشیاء، بلکہ امن عالم کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بناہوا ہے اور اس کے منصفانہ حل کے ساتھ ہی جنوبی ایشیا میں ایک نئے دور کا آغاز ہونے کی اُمید کی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے تنازعہ کشمیر کو صرف طاقت اور فوجی طریقے سے نمٹنے سے یہاں کے طول وعرض میں تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نظر نہیں آرہا ہے۔ سیاسی غیر یقینیت اور افراتفری کی دلدل میں یہ قوم گزشتہ 7دہائیوں سے مسلسل دھنسی ہی چلی جارہی ہے، لیکن یہاں کے عوام کے غم والم کا اس خطۂ بدنصیب کے حاکموںکو ذرا بھی احساس نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ جب بھی کوئی واقعہ پیش آتا ہے اس غیر فطری ملاپ کے منحوس سائے اس آبادی کو اپنی لپیٹ میں لیتے ہیں۔موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پورے بھارت کو کشمیریوں کے لیے NO Go Areaقرار دیا گیا ہے۔ یہ بات ہندوستان کے باضمیر اور باحس انسان اچھی طرح سمجھ رہے ہیں کہ 71سال کے طویل عرصے میں کشمیریوں کو بھارتی نہیں بنایا جاسکا اور آئندہ بھی ایسی کوئی بھی کوشش اس غیر فطری رشتے کو دوام بخشنے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ گیلانی نے بھارت اور اس کے دانشور طبقے سے مخاطب ہوکر خبردار کیا کہ اگر اب بھی جنونی اور فسطائیت کے زہریلے پروپگینڈے سے متاثر ہوئے بغیر حقائق اور زمینی صورتحال پر دھیان نہ دیا گیا تو جنگی میدان سجنے میں دیر نہیں لگے گی۔ پھر کس ملک کا کتنا نقصان ہوگا یہ الگ بات ہے، لیکن دونوں طرف صرف انسانیت ہی نشانہ بنے گی۔ انسانیت کی بقا اور پورے خطے کے عوام کی بھلائی کے لیے ہم دردمندانہ اپیل کرتے ہیں اس سرزمین کو آگ وآہن کا ڈھیر بننے سے روکیں۔