جنوبی کشمیر میں دو مسلح جھڑپیں، میجر سمیت 2 فوجی اور 2 جنگجو ہلاک

پلوامہ+کولگام+اننت ناگ// جنوبی کشمیر کے شوپیان اور کولگام اضلاع میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات جنگجوئوں اور فوج نے ایک دوسرے کیخلاف دو مقامات پر گھات لگا کر حملے کئے جس کے دوران گولیوں کا مختصر تبادلہ ہوا جس میں ایک میجر ،ایک اہلکار اور 2جنگجو ہلاک جبکہ ایک اہلکار شدید طور پر زخمی ہوا۔
تصادم
فوج کی 62 راشٹریہ رائفلز کی ایک گشتی پارٹی بدھ اور جمعرات کی رات قریب ساڑھے تین بجے شوپیان کے زیپورہ ماتری بگ میں کہیں جارہی تھی جس کے دوران جنگجوئوں نے میوہ باغات کی آڑ لیکر ان پر گھات لگا کر حملہ کیا جس کے دوران طرفین کے مابین شدید گولیوں کا تبادلہ ہوا جو کافی دیر تک جاری رہا۔جنگجوؤں کی جانب سے کی جانے والی شدید فائرنگ کی زد میں آکر تین فوجی اہلکار زخمی ہوگئے۔ زخمی فوجی اہلکاروں کو ائرلفٹ کرکے گرمائی دارالحکومت سری نگر میں واقع فوجی اسپتال (92 بیس اسپتال) منتقل کیا گیا جہاں میجر کملیش پانڈے اور فوجی اہلکار تنزین چیولٹین زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ جنگجو حملہ انجام دینے کے بعد وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ۔ حملے کے بعد اس پورے علاقے کو گھیرے میں لیا گیا اور جنگجوئوں کی تلاش شروع کی گئی۔لیکن بعد دوپہر محاصرہ ختم کیا گیا۔حزب المجاہدین نے شوپیان میں میجر سمیت دو فوجیوں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ دوسری جانب جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں ہونے والے ایک شبانہ مختصر مسلح تصادم میں فورسز نے حزب المجاہدین سے وابستہ دو جنگجوؤں کو ہلاک کیا ۔ مارے گئے جنگجوؤں کی شناختعاقب احمد اتیو ولد عبدالحمید اتیو ساکن گوپالپورہ اور سہیل احمد راتھر ولد محمد عارف راتھر ساکن تانترے پورہ یاری پورہ  کے بطور کی گئی ۔ وزارت دفاع کے ترجمان کرنل راجیش کالیا نے بتایا کہ ضلع کولگام کے گوپال پورہ میں جنگجوؤں کی موجودگی سے مصدقہ اطلاع ملنے پر سیکورٹی فورسز نے بدھ کو رات دیر گئے مذکورہ علاقہ میں تلاشی آپریشن کی غرض سے گھات لگایا تھا۔ جونہی جنگجوئوں کا وہاں سے گذر ہوا تو اس موقعہ پر طرفین کے درمیان گولیوں کا تبادلہ ہوا جو مختصر وقت تک چلا جس میں دو جنگجو جاں بحق ہوئے۔ ایس پی کولگام شری دھر پٹیل نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ طرفین کے مابین گولہ باری کا سلسلہ صرف آدھے گھنٹے تک جاری رہا۔ انہوں نے کہا ’رات کے نو بجے ہمیں گوپال پورہ میں حزب المجاہدین کے جنگجوؤں کی موجودگی سے متعلق اطلاع ملی۔ اس کے بعد ہم نے فوج کی 9 اور 62 راشٹریہ رائفلز اور سی آر پی ایف کی 18 ویں بٹالین کے ہمراہ مذکورہ گاؤں کا محاصرہ کیا۔ مسلح تصادم کے دوران جنگجوؤں نے فرار ہونے کی کوشش کے طور پر فورسز پر فائرنگ کی۔ یہ مسلح تصادم قریب آدھے گھنٹے تک جاری رہا‘۔ ایس پی نے کہا کہ مسلح تصادم کے مقام سے ایک اے کے 47 رائفل ، ایک انساس رائفل اور دو میگزینیں برآمد کئے۔ یہ دونوں جنگجو مختلف واقعات میں ملوث تھے۔ عاقب ایتو کولگام کے پومبئی میں پولیس کیش وین پر حملے اور جموں وکشمیر بینک برانچ کاڈر میں ڈکیتی کے واقعہ میں ملوث تھا‘۔ انہوں نے کہا ’اسی طرح سہیل راتھر بھی دو واقعات میں ملوث تھا۔ یہ پولیس اور سیکورٹی فورسز کے لئے ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہ ایک کلین آپریشن تھا۔ اس میں عام شہریوں اور سیکورٹی فورسز کا کوئی نقصان نہیں ہوا‘۔
نماز جنازہ
کولگام میں فوج کے ساتھ شبانہ جھڑپ میں جاں بحق ہوئے جنگجوئوںکے آخری سفر میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی،جس کے دوران اسلام و آزادی کے نعروں کی گونج کے بیچ انہیں علیحدہ علیحدہ سپرد خاک کیا گیا۔جھڑپ میں جان بحق نوجوانوں کی نعشون کو قانونی لوازمات کے بعد 9بجے آ بائی علاقوں میں پہنچا یا گیا۔دونوںعلاقوں میں ہزاروں لوگ پہلے ہی حافظ محمد عاقب کے نماز جنازہ کا انتظار کر رہے تھے اور یوں تانترے پورہ اور گوپال پورہ اسلام و آزادی کے نعروں کی گونج سے پورا علاقہ گونجتارہا۔ جبکہ مقامی مساجد میں تحریکی ترانوں کی گونج سنائی دی۔ نماز ہ جنازہ میں شرکت کرنے کی غرض سے لوگ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سوار ہوکر وہاں پہنچنے کی کوششوں میں لگ گئے۔نامہ نگار خالد جاوید کے مطابق اس دوران عاقب حمید ایتو کی نماز جنازہ ادا کی گئی جس میںہزاروں لوگوں نے شرکت کی ۔ انکی نماز جنازہ مجموعی طور پر 7 بارادا کی گئی ۔ سہیل احمدکے نماز جناز میں ہزاروں لوگوںنے شرکت کی اور اسکی نمازہ جنازہ  2بار اد کی گئی۔ بعد میں بارہ بجے کے قریب اسلام اور آزادی کے فلک شگاف نعروں کی گونج میں ان کو سپرد خاک کیا گیا۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سہیل کے آخری سفر میں یاری پورہ میں ان کے4 ساتھی بھی نمودار ہوئے اور انہوںنے ہوا میں فائرنگ کرتے ہوئے انہیں سلامی دی۔ادھرگوپال پورہ میں معمولی نوعیت کا پتھرائو کا واقعہ بھی پیش آیا۔اس دوران اسلام آباد(اننت ناگ) کے شیر پورہ میں معمولی سنگبازی کے واقعات پیش آئے۔
جنوبی کشمیر بند
جنوبی کشمیر کے بیشتر حصوںمیں فوج اور فورسز کے ہاتھوںجان بحق عسکریت پسندوں اور عام شہریوں کی یاد میں مسلسل تیسرے روز بھی ہڑتال رہی جس کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔کولگام کے گوپالپورہ میں شبانہ تصادم آرائی کے دوران حزب المجاہدین سے وابستہ2مقامی عساکروں کے جھڑپ میں جان بحق ہونے پر جنوبی کشمیر کے بیشتر علاقوں میں جمعرات کو ہرتال رہی،جس کے دوران کاروباری اداریے ، دوکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سرکاری دفاتر میں بھی ملازمین کی حاضری متاثر ہوئی۔ہڑتال کی وجہ سے بیشتر علاقوں میں اسکول اور تعلیمی ادارے بند رہیں جبکہ سڑکوں سے ٹرانسپورٹ کی نقل و حرکت بھی متاثر ہوئی،تاہم کئی روٹوں پر نجی گاڑیوں کی آوجاہی دیکھنے کو ملی۔ کولگام میں تیسرے روز بھی مکمل ہڑتال رہی ۔نامہ نگار خالد جاوید کے مطابق جنگجوئوں کی یاد میں کولگام ضلع میں جمعرات کو مکمل ہڑتال کی گئی جس کے نتیجے میں بیشتر علاقوں میں سناٹا چھایا رہا۔ ضلع میں خارجی اور داخلی راستوں کو بھی سیل کیا گیا تھا اور سخت پوچھ تاچھ کے بعد ہی اکا دکا افراد کو آگے جانے کی اجازت دی جا رہی تھی۔سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی۔اننت ناگ اور دیگر علاقوں میں بھی جنگجوئوں کی ہلاکت کے خلاف ہڑتال کی گئی۔ نامہ نگار ملک عبدالسلام کے مطابق مٹن چوک،شیر پورہ،جنگلات منڈی،بجبہاڑہ،سنگم اور آروانی میں مکمل ہڑتال کی وجہ سے عام زندگی کی رفتار تھم گئی۔
پلوامہ اور شوپیان
 پلوامہ کے بیشتر علاقوں میں منگل سے ہی ہڑتال جاری ہے ۔جمعرات کو مسلسل تیسرے روز بھی پلوامہ، اونتی پورہ اور شوپیان سمیت دونوںا ضلاع کے بیشتر علاقوں میںدکانیں ، کاروباری ادارے اورسرکاری و نجی دفاتر تالہ بند رہنے سے سڑکیں سنسان پڑی رہیں اور گاڑیاں بھی سڑکوں پرنظر نہیں آئیں ۔ انتظامیہ کی ہدایت پرتمام سرکاری و غیر سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں درس و تدریس کا کام مکمل طور ٹھپ رہا۔اس دوران اگر چہ بدھ کی شام کو موبائیل انٹرنیٹ خدمات بحال ہوئی تھیں تاہم دوران شب کولگام میں ہوئی جھڑپ اور شوپیان میں فورسز پر جنگجوئوں کے حملے کے بعد جمعرات کی صبح حکام نے ایک مرتبہ پھر احتیاط کے بطور2G، 3Gاور4Gموبائیل انٹرنیٹ خدمات معطل  کیں۔سرینگر میں بھی احتیاتی طور پر انتظامیہ نے گزشتہ روز  طلاب احتجاج کو مد نظر رکھتے ہوئے6بڑے تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کی سرگرمیوں کو جمعرات کے روز بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ وادی کے بیشتر اضلاع میں انتظامیہ کی ہدایات پر جمعرات کو تعلیمی ادارے بھی احتیاط کے بطور بند رکھے گئے ۔