جنوبی کشمیر لہو لہو،11جاں بحق

 اننت ناگ //جنوبی کشمیر کے اچھہ بل علاقے میں کل شام جنگجوﺅں نے گھات لگاکر پولیس کی ایک جپسی کو نشانہ بنا کر اس میں سوار ایس ایچ او اچھہ بل سمیت6پولیس اہلکاروں کو ہلاک کیا اور بعد میں انکے ہتھیار بھی اڑا لئے۔ضلع حکام کا کہنا ہے کہ اچھی بل پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او فیروز احمد ڈار اپنے پانچ محافظین کے ہمراہ تھجی وارہ سے جارہے تھے کہ اس دوران میوہ باغات کے درمیان ایک سنسان جگہ پر قریب15جنگجوﺅں نے پولیس کی جپسی کو ٹارگٹ کیا اور اس پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ بتایا جاتا ہے کہ فائرنگ کا سلسلہ کچھ دیر تک جاری رکھا گیا اور اس دوران پولیس کو جوابی کارروائی کرنے کا موقعہ بھی نہیں دیا گیا۔حکام کا کہنا ہے کہ جپسی میں سوار ایس ایچ او سمیت 6اہلکار مارے گئے جبکہ فائرنگ سے دو شہری بھی زخمی ہوئے۔مارے گئے اہلکاروں میں ایس ایچ او اچھی بل فیروز احمد ڈار ولد عبدالرحیم ڈار ساکن ڈوگری پورہ پلوامہ حال سنگم بجبہاڑہ،کانسٹیبل شارق احمد،کانسٹیبل تصویر احمد،کانسٹیبل شیراز احمد، ایس پی او محمد آصف ساکن شانگس اورایس پی او سبزار احمد ساکن اڈسو شانگس شامل ہیں۔معلوم ہوا ہے کہ جنگجو پولیس اہلکاروں سے ہتھیار بھی اڑا لینے میں کامیاب ہوئے۔واقعہ کی اطلاع جونہی پولیس کے اعلیٰ حکام کو دی گئی تو فوری طور پر پولیس، سی آر پی ایف اور فوج جائے واردات پر پہنچ گئے اور انہوں نے ایک وسیع علاقے کو گھیرے میں لیکر بڑے پیمانے پر حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جنگجوﺅں کی جانب سے یہ حملہ آرونی میں مارے گئے جنگجوﺅں کا رد عمل ہوسکتا ہے اور پولیس نے حملہ آوروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر تلاش شروع کردی ہے۔وادی میں پولیس پر اس طرح منظم طریقے سے حملہ کرنے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔بعد میں سخت سیکورٹی کے بیچ مارے گئے اہلکاروں کو پولیس لائنز اننت ناگ لایا گیا ۔ڈی آئی جی جنوبی کشمیر ایس پی پانی نے کہا کہ یہ جنگ ہے اور پولیس قاتلوں کو کسی بھی صورت میں ڈھونڈ نکالے گی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو سافٹ ٹارکٹ کیا گیا ہے اور اس واقعہ میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
 
 ملک عبدالسلام
 
آرونی// جنوبی کشمیر کے آروانی بجبہاڑہ میں فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان10گھنٹوں تک جاری رہنی والی خونین جھڑپ میں فوج اور فورسز نے2مکانوں کو بارود سے اڑایا،جس کے نتیجے میں مکانوں میں موجود لشکر کمانڈر جنید متو سمیت3عساکروں کے جان بحق ہوئے، تاہم ملبے سے نعشوں کو برآمد کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔اس دوران جائے جھڑپ کے نزدیک احتجاجی مظاہروں کے دوران ایک کمسن سمیت2شہری بھی جان بحق ہوئے جبکہ مزید30زخمی ہوئے۔ بجبہاڑہ میں آرونی کے علاقے میں فورسز،ٹاسک فورس اور فوج نے سحری کے وقت محاصرے میں لیا اور علاقے کے داخلی اور خارجی راستوں کو بند کیا۔ قریب8بجے فورسزنے ان مکانات کا گھیرہ تنگ کیا جس میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کا خدشہ تھا۔ قریب2گھنٹوں تک فریقین کے درمیان تعطل رہا اور کوئی بھی گولی باری نہیں ہوئی،تاہم اس دوران مقامی لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے جلوس برآمد کئے،اور جائے جھڑپ کی طرف پیش قدمی کی کوشش کی۔نوجوانوں نے اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی کی جبکہ فورسز اور فوج پر سنگبازی بھی جس کے نتیجے علاقے میںکھلبلی مچ گئی اور فورسزنے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے اشک آوار گولے اور پیلٹ بندوق کا استعمال کیا۔ قریب10بجے جنگجوﺅں اور فورج و فورسز کے درمیان گولیوں کا تبادلہ ہوا،اور طرفین نے ایک دوسرے پر خود ہتھیاروں سے آزادنہ گولیاں چلائیں۔ گولیوں کی گن گرج کی وجہ سے اہل علاقہ جہاں سہم کر رہ گیا وہی نوجوانوں کی طرف سے احتجاجی مظاہروں میں بھی شدت آئی۔ادھر جب آرونی کے نواحی علاقوں میں یہ خبر پھیلی،تو ریڈ ونی ،قیموہ اور کھڈونی کے لوگوں نے آر ونی کی جانب مارچ کیا جن کی تعداد ہزاروں میں تھی ۔اس دوران یہاں مساجد میں لاﺅڈ اسپیکروں کے ذریعے لوگوں سے اپیل کی گئی کہ وہ جنگجوﺅں کو بچانے کےلئے گھروں سے باہر آئیں ۔اس اعلان کے ساتھ ہی لوگ گھروں سے باہر آنے لگے اور جلوس کی صورت میں آر ونی کی جانب پیش قدمی کی ۔ا حتجاجی مظاہرین کئی اطراف سے جلوسوں کی صورت میں آر ونی کی جانب پیش قدمی کررہے تھے جنہیں پولیس وفورسز نے کئی جگہوں پر روکنے کی کوششیں کیں ،جس دوران مظاہرین اور پولیس وفورسز کے درمیان زبردست مزاحمت بھی ہوئی ۔مظاہرین نے مشتعل ہو کر فورسز کئی اطراف سے شدید خشت باری کی جبکہ جوابی کارروائی میں فورسز نے ٹیر گیس اور پاﺅ شلنگ کی اور ہوائی فائرنگ بھی کی جبکہ چھروں کا بھی استعمال کیا گیا ،تاہم احتجاجی مظاہرین احتجاج پر بضد رہے ۔آر ونی میں انکاﺅنٹر کے دوران صورتحال اُس وقت انتہائی کشیدہ ہوئی فورسز کی فائرنگ سے ایک نوجوان گولی لگنے سے جاں بحق اور درجنوں شدید زخمی ہوئے ۔اس واقعہ نے پورے جنوبی کشمیر کو تشدد کی نظر کردیا جبکہ پوری وادی اُبل پڑی ۔ آرونی میں انکاﺅنٹر مخالف مظاہرین پر فورسز نے راست فائرنگ کی جسکے نتیجے میں نصف درجن افراد کے جسموں میں گولیاں پیوست ہوئیں ۔زخمیوں کو خون میں لت پت فوری طور پر کولگام اور اسلام آباد (اننت ناگ)کے اسپتالوں میں داخل کیا گیا ۔ اس دوران فورسز کی فائرینگ میں زخمی ہوا ایک نوجوان محمد اشرف ساکنہ خار پورہ زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھا ۔ ذرائع کے مطابق محمد اشرف کے پیٹ میں کئی گولیاں پیوست ہوئی تھیں اور زیادہ خون بہنے سے اسکی موت ہوگئی ۔اس واقعہ میں 30دیگر افراد زخمی ہوئے جو مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں جبکہ کئی ایک کو سرینگر اسپتال منتقل کیا گیا۔ اسپتال ذرائع کے مطابق ایک نوجوان چھرے لگنے سے زخمی ہوا اور اُسکی آنکھ کی بینائی متاثر ہونے کا خد شہ ظاہر کیا جارہا ہے ،اُسے صدر اسپتال منتقل کیا گیا۔نوجوان کی ہلاکت کے خلاف آر ونی اور اسکے مضافاتی دیہات میں شدید تشدد بھڑک اٹھا جن میں مزید ایک درجن افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ادھرصورتحال کے پیش نظرا فرصل ،کھڈونی ،ریڈ ونی ،بجبہاڑہ ،پانپور ،ترال پلوامہ ،شوپیان اور کولگام کے ساتھ ساتھ اسلام آباد (اننت ناگ)ے درجنوں مقامات پر نوجوانوں کی ٹولیاں سڑکوں پر نمودار ہوئیں ،جنہوں نے فورسز ،پولیس تھانوں اور فورسز کیمپوں پر دھاوا بول دیا اورشد ید پتھراﺅ کیا ۔اس دوران آر ونی میں صورتحال اور زیادہ کشیدہ ہوئی جب فورسز کی راست فائرنگ سے14سالہ معصوم احسان احمد جاں بحق ہوا ۔عینی شاہدین کے مطابق احتجاجی مظاہروں کے دوران فورسز نے ایک مرتبہ پھر بندوقوں کے دھانے کھول دئے جس دوران احسا ن ڈار ولد مشتاق احمد ساکنہ شمسی پورہ کولگام کی چھاتی میں گولی پیوست ہوئی اور اسے قیموہ اسپتال پہنچایا گیا ،جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا ۔ادھرآرونی میں جنگجوﺅں اور فورسز کے درمیان گولیوں کا تبادلہ بھی جاری تھا۔جنگجوﺅں اور فوج وفورسز کے درمیان گولیوں کا تبادلہ وقفے وقفے سے دن بھر جاری رہا جس دوران فوج وفورسز نے بارود سے 2رہائشی مکانوں کو بھی زمین بوس کردیا جبکہ آس پڑوس کے کئی رہائشی مکانات کو شدید نقصان پہنچا ۔ شام8بجے علاقے کا محاصرہ ٹھایا گیا،جس کے ساتھ ہی علاقے کے لوگ جائے جھڑپ کی طرف لپکنے لگے،اور ملبہ کو صاف کیا جا رہا تھا،تاہم آخری اطلاعات ملنے تک کسی بھی عسکریت پسند کی نعش برآمد نہیں کی گئی تھی۔ غیر مصدقہ اطلاع کے مطابق جنگجوﺅں اور فورسز کے درمیان جھڑپ میں لشکر طیبہ کا کمانڈر جنید متو اور اس کے ساتھے ناصرساکنہ ہف شیرمال جاں بحق ہوئے۔ڈی آئی جی جنوبی کشمیر ایس پی پانی نے2جنگجوﺅں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن جاری ہے اور ابھی نعشیں برآمد نہیں ہوئیں۔تاہم لشکر طیبہ کے ایک بیان کے مطابق جھڑپ میں جنید متو، محمد اشرف اور آزاد ملک جاں بحق ہوئے۔ ترجمان نے تینوں جنگجوﺅں اور دو شہریوں نصیر احمد اور احسان احمد کو خراج عقیدت پیش کیا۔