جنرل بس اڈہ سوپور کی حالت ناگفتہ بہ | ٹرانسپوٹروں، مسافروں اور تاجروں کو مشکلات

سوپور//شمالی قصبہ سوپور کے بس اڈہ کی حالت ناگفتہ بہ ہونے کی وجہ سے ٹرانسپورٹروں ،مسافروں اورتاجروں کو سخت مشکلات درپیش ہیں۔یہ بس اڈہ کافی وسیع و عریض ہے اور بیک وقت درجنوں چھوٹی بڑی مسافر گاڑیاںاس میں سما سکتی ہیں ۔ روزانہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ کاروبار، ملازمت، تعلیم اور دوسرے کئی کاموں کے سلسلے میں سوپورقصبہ کا رْخ کرتے ہیں لیکن جب یہ لوگ گاڑیوں میں سوار ہونے کے لئے جنرل بس اڈہ پہنچ جاتے ہیں تو وہ حکام کو کوستے نظر آتے ہیںکیونکہ انتہائی اہمیت کے حامل اس بس اسٹینڈ میں ہرسوگندگی وغلاظت کے ڈھیر پائے جاتے ہیں۔ فاروق احمد ڈارنامی ایک ٹرانسپورٹر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سوپور بس اسٹینڈ کی حالت یہ ہے کہ یہاں آنے والے مسافروں، دکانداروں اور ٹرانسپوٹروں کو سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ اڈہ قائم کرتے وقت یہاں جو مٹی اور خاک باجری ڈالی گئی تھی اُس پر گزشتہ 35 سالوں سے کبھی میکڈم نہیں ڈالا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ معمولی بارش ہوتے ہی بس اسٹینڈ میں کیچڑ سے چلنا پھرنا دوبھر بن جاتا ہے۔فاروق احمد کے مطابق مسافروں ،تاجروں یا راہگیروں کو ہی نہیں بلکہ ٹرانسپوٹروں کیلئے بھی یہ بس اڈہ کسی عذاب سے کم نہیں۔انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر اور ضلع ترقیاتی کمشنر بارہمولہ سے اپیل کی کہ وہ سوپور بس اسٹینڈ کی خستہ حالی کو دور کرنے میں ذاتی دلچسپی کا مظاہرہ کریںاور متعلقہ حکام کو تار کول بچھانے کی ہدایت دیں۔ ایگزیکٹیو افسر میونسپل کونسل سوپور سمیر احمد جان نے اس سلسلے میں کہا کہ بس اسٹینڈ میں کوڈا کرکٹ جمع رہنے نہیں دیا جاتا ہوتا ہے،تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ قصبہ میں کوڈا جمع کرنے کیلئے کوئی معقول جگہ بھی نہیں ہے ۔