جنتِ کشمیر

 سرزمین کشمیر دنیا میں جنت بے نظیر کے نام سے بھی پکاری جاتی ہے۔ بقول حضرت امیر خسروؔ ؎
اگر فردوس بروے زمین است 
ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است
میٹھے پانیوں کی لہراتی، گاتی، ناچتی ندیاں ، بلند و بالا پہاڑوں کی شان اور شوکت ، سر سبز جنگلوں کا جادو ، عالی شان باغوں کی جادوئی بہار، سبزہ زاروں ، مرغزاروں ، آبشاروں ، طلمساتی نظاروں کا حیرت انگیز منظر، حیرت میںڈ النے والے نظارے، روح پرور آب و ہوا ، لذیز میوؤں ، میٹھے پکوانوں اور اس پر لوگوں کی مہمان نوازی اپنے اندر ایک الگ انفرادیت رکھتی ہے ۔
بقول پنڈت برج نرائین چکبستؔ
   ذرہ ذرہ ہے میرے کشمیر کا مہمان نواز
راستے کے پتھر وں نے دیا پانی مجھے 
اس دلفریب سر زمین پر مختلف مذاہب اورمتعدد ثقافتوں کے لوگ آباد ہیں ۔ مسلمان ،پنڈت، سکھ، عیسائی ، بدھ وغیرہ جو آپس میں امن چین ، اتحاد ، اتفاق، پیار و محبت سے صدیوں سے رہ رہتے آئے ہیں۔ یوں کہئے کہ یہ سرزمین ایک گلدستہ ہے جس  کے مختلف رنگ اس کی شان اور خوبصورتی میں بہت اضافہ کر ر ہے ہیں اور کثرت میں وحدت کا نظارہ پیش کر تے ہیں۔جب  سنہ سنتالیس میںسارے ہندوستان میں آگ اور خون کی ہولی کھیلی جارہی تھی، اس وقت بھی گاندھی جی کو صرف اور صرف کشمیر میں ہی امن واخوت کی روشنی نظر آئی ۔ اس وقت سبھی کشمیر یوں نے مذہب کے سنہرے اصولوں کی رسی اور یکجہتی، اتفاق، اتحاد، محبت اور بھائی چارے کے پرچم کو مضبوطی سے تھامے رکھا ۔ کشمیر کو تاریخ میں ’’ پیر وأری‘‘ بھی کہا گیا ہے۔ یہ ریشوں ،پیروں، فقیروں ، مینو ں ، سنتوں ،عالموں ، عابدوں ، زاہدوں ، شاعروں، اور اولیاء کی مسکن رہا ہے ۔ یہاں مساجد ، خانقاہیں ، امام بارگاہیں ، مندر ، تیرتھ آستان ، گردوارے، گرجا گر، بدھ و ہار ساتھ ساتھ ملتے ہیں ۔ یہ مذہبی مقامات اپنے اپنے مذاہب کے  پرچار اور وعظ و تبلیغ سے گونجتے رہتے ہیں ۔ یہاں سب لوگ اپنے اپنے مذہبی اصولوں اور تعلیمات پر چل کر بھائی چارے اور مذہبی رواداری کے جذبے سے ایک دوسرے کے دُکھ سکھ اور خیر و شر میں شریک ہوتے ہیں ،کوئی بھید بھاؤ ہے نہ کوئی بیر نہ ایک دوسرے سے کوئی دوری ، کیونکہ یہ شاہ ہمدان ؒ کی سرزمین ہے ،یہ لل دید کا مسکن ہے، یہاں شیخ العالم ؒ نے جنم لیا جنہوں نے لوگوں کومذہبی اصولوں اور ہدایات پر چل کر اچھا انسان بننے کی تبلیغ و تلقین کی ۔ چونکہ یہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے ،اس لئے ضروری ہے کہ یہاں کے باشندوں پر اسلام کا زیادہ اثر ہو ۔ اسلام دین فطرت ہے اور ایک مکمل ضابطہ ٔ حیات ۔ اس کے پیرو کار قرآن کی تعلیمات پر عمل کر کے اپنی آخرت کو سنوارنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں ۔انہیں قرآن نے صاف صاف ہدایات دی ہیں کہ حقیقی مسلمان سچے انسان ہوتے ہیں ۔ ان کے ا وصاف کی نشاندہی قرآن کے مقدس پاروں میں جگہ جگہ پائی جاتی ہے۔ چناںچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’ کمال اس میں نہیں کہ تم اپنا منہ مشرق کی طرف کر و یا مغرب کی طرف کرو بلکہ اصل کمال یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ پر یقین رکھے ، قیامت کے دن پر یقین رکھے ، پھر سب آسمانی کتابوں پر تمام پیغمبروں ؑ کومانے اور مالِ دنیا کو اللہ کی محبت میں رشتہ داروں کو ، یتیموں اور محتاجوں کو اور مسافروں کو اور سوال کرنے والوں کو اور غلاموں کے آزاد کرنے میں خرچ کر دے ۔‘‘ ایسا ہی خداترس اور انسان دوست شخص نما زکی پابندی رکھتا ہے ، نیکیاں کماتاہے ،خیرات دیتا ہے ، اپنا وعدہ پورا کرتا ہے ، تنگ دستوں اوربیماروں کی مروت کرتا ہے ، یہی وہ لوگ ہیں جو سچے مومنین کہلائے جا سکتے ہیں۔‘‘ بہرصورت سچا دین وہی ہے جو سچائی ، امن اور آشتی کا پیغام دے اور سچی دین دار وہی ہے جو ان سچایئوں پر عمل کر دکھائے ۔ ہر مذہب میںبنیادی سچا ئیاں مشترک ہیں ۔اس لئے لوگوں کو چاہیے کہ اپنے اپنے مذہب کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھ کرا نسانیت کی فلاح و بہود میں جُھٹ جائے ، نیک عمل کرے ، حلال کمائے ،حلال کھائے ، نفرت، فساد ، حسد اور ضد سے دور رہے ، سچ بولے ، سچ سنے ، سچ کہے ، کسی کو آزار نہ دے ، دوسروں کے لئے دل میں خلوص ، محبت، اور مروت کے جذبات موجزن رکھے ۔ ہمدردی خیر خواہی ، ایثار، پیار سے جی لگائے اور یاد رکھے   ؎  
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو 
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں 
اگر کشمیر کو بر صغیر کا سو ئزر لینڈ کہا جائے تو بے جانہ ہو گا ،اس کے رنگا رنگ پھولوں ، حسین وادیوں ، لہلہاتے کھیتوں ، پہاڑی چشموں اور ندی نالوں ، زعفران زاروں کے حسن و جمال کے اظہار سے انسانی زبان قاصر ہے اور قلم معذور ۔اس کی دل فزا ٹھنڈی ہوائوں میں سانس لینے سے مردہ رگوں میں جان آجاتی ہے ،اس کے چشموں کا پانی تاشیر کے لحاظ سے اکیسر کا حکم رکھتا ہے، اس کے صحت افزا مقامات کی سیر سے مریض تندرست ہو جاتے ہیں۔اسی ابدی حقیقت کو فارسی کے مشہور شاعر عرفیؔ نے یوں بیان کیا ہے    ؎  
ہر سوختہ جان کہ بہ کشمیر در آید
گر مرنح کباب است کہ بابال و پر آید 
کشمیر میں سیاحوں کے لئے ہر طرح کی تفریح کے سامان میسر ہیں ۔ کوئی کشتی میں بیٹھے بسیر کرتا ہے ، کوئی گھوڑے پر سوار کر سیاحت ِ جنت کا لطف اٹھاتا ہے ، کوئی جھیل میںمچھلیوں کے نظاروں سے محظوظ ہوتا ہے ،کوئی بطخوں اور مرغابیوں کے پیچھے پڑتا ہے، کوئی چنار کے سایہ میں استراحت محسوس کر تا ہے، کوئی باغار اور پہاڑوں میں سکونِ قلب تلاش کر تا ہے ، کوئی کوہ پیمائی کے حوصلوں سے مسرتیں حاصل کر نے میں مصروف رہتا ہے ، کوئی تیرتھ استھانوں کے درشن سے من کی شانتی پاتا ہے ،کوئی گاف کھیلنے میں محو رہتا ہے ، کوئی ا سکیٹنگ سے لطف اندوز ہوتا ہے، کہیں سیاح خیمہ زن ہوتے ہیں تو کہیں طلباء کی ٹولیاں مشاہدۂ فطرت میں مشغول ہوتی ہیں، ادھر رقص و سرور کی محفل جمی ہے ،اُدھر نان و کباب کی ضیافت ہو رہی ہے، ایک جانب شعر و سخن کا بازار گرم ہے ، دوسری جانب بحث و مناظرہ کا جوش نمایاں ہے۔ الغرض کشمیر میں بہاریں ہر سُو غالب رہتی ہیں اور دیار ِغیر سے آئے لوگ ہر موسم میںیہاں کی سیر گاہوں ، باغات اور جھیل جھرنوں میں خوشی خوشی میں اپنی وقت گزاری کر تے ہیں ۔ یوںگویا سیاحت کے حوالے سے کشمیر ہمہ وقت میلے اور ہمہ پہلو جشن کانام ہے۔ ارض ِکشمیر جہاں حسین مناظر فطرت ، روح افزا آب و ہوا ، دلپذیز ہریالی کے ساتھ ساتھ آپسی میل جول ، محبت اخوت اور بھائی چارے کے لئے شہرہ آفاق ہے، وہاں یہ اپنی قدیم صنعتوں اور دست کاریوں کی وجہ سے بھی چار دانگ عالم میں مشہور و معروف ہے۔ کشمیریوں کی چیدہ چیدہ گھریلو دست کاریاں یہ ہیں :شال، دو شالے، قالین، گبّے ، نمدے، پوستین، پیپر ماشی، کشیدہ کاری، وُڈ کارونگ، سونے چاندی کا کام، پشمینہ ، ریشم، پٹو وغیرہ ، ہاتھ کی بنی ہوئی چیزیں اس قدر دلآویز ہیں کہ انہیں بطور تحفہ عرب و عجم اور شرق و غرب میں لوگ ساتھ لے جانا نہیں بھولتے ۔ 
  قصہ مختصر کشمیر دنیا ئے عالم کی روح ہے۔ یہاں کے دلفریب نظارے ،یہاں کی ٹھنڈی ہوائیں ، یہاں کا صاف و شفاف اور میٹھا پانی، سبزہ زاروں ، مرغزاروں، زعفران زاروں کی جادوئی بہاریں، پھولوں کی کثرت ، پھلوں کی افراط ، پر سکون فضا اور پاک ماحول ہر فرد بشر کے ذہن کومعطر اور تازہ کرتا ہے۔ کمزور یہاں آکر توانا اور بیمار تندرست ہو جاتے ہیں۔سچ پوچھئے تو یہاں کی تاثیرات سے مردے میں جان آجاتی ہے لیکن ہم اس آئینہ فطرت  کے بہشت نام نمونے سے کیا سلوک روا رکھتے ہیں، وہ ایک مایوس کن موضوع ہے ۔ بہر حال خدا وند دو عالم سے یہی دُعا ہے کہ کرئہ ارض کی اس خاک ِ پاک کی چمک دھمک یوں ہی قائم و دائم رہے ،آپسی میل جول محبت، یگانگت، اخوت، بھائی چارہ، خلوص کا چمنستان زمانے کی بد نگاہی سے بچا رہے، خالق کائنات عزت اورمحبت کی دولت سے ہمارے دلّوں کو مالا مال کر دے کہ اہل ِ کشمیر دنیا کا تاج بنارہے ۔ آمین یا ربُ العالمین۔ بقول مولانا حسرت موہانیؔ   ؎
دشمن کے مٹانے سے مٹا ہوں نہ مٹوں گا
اور یوں تو میں فانی ہوں فنا میرے لئے ہے 
……………………………
رابطہ: 9797225348