جمہ گنڈ کپوارہ میں ایک ماہ بعد قبر کشائی

 
کپوارہ +سرینگر//ایک ماہ کے طویل انتظار کے بعد کپوارہ کے جنگلات میں معرکہ آرائی کے دوران جاں بحق برزلہ سرینگر کے جنگجو کی لاش قبر کشائی کے بعدانکے لواحقین کے سپردکی گئی ۔ مدثر احمد بٹ 29جون کوکاچہامہ کرالہ پورہ کپوارہ جنگلات میںجھڑپ کے دوران جاں بحق ہوا تھا۔ مذکورہ جنگجو کو این کے گلی جمہ گنڈ کپوارہ کے جنگلات میں ہی دفن کیا گیا تھا۔قابل ذکر ہے کہ کرالہ پورہ پولیس اسٹیشن میں مدثر کے والد غلام محمد بٹ نے اپنے بیٹے کی شناخت تصویر سے کی تھی۔گزشتہ ہفتہ  عدالت نے انتظامیہ کو ہدایت دی تھی ایک ہفتے میں مذکورہ معاملے کی نسبت اور ڈی این اے کی جانچ کے بارے میں عدالت میں رپورٹ جمع کی جائے۔انتظامیہ نے قانونی لوازمات پورا کرنے کے بعد منگل کو مذکورہ جنگجو کی قبر کشائی کی اورلاش لواحقین کے حوالہ کی ۔واضح رہے کہ جاں بحق جنگجو کے بھائی نے ایک ماہ قبل کہا تھا ’’میں شام کو گھر کے باہر تھا،تو اسی اثناء میں موٹر سائیکل پر سوار ایک نوجوان، جس سر پر ہیلمٹ تھی،میرے قریب آیا اور مدثر کا پتہ پوچھا،اور جب میں نے اس کو بتایا تو ایک کاغذ کی پرچی ہاتھوں میں تھما گیا‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ جب میں نے کاغذ کی پرچی کھولی تو اس میں مدثر احمد ولد غلام محمد بٹ ساکن اولڈ برزلہ عرف ابو عبداللہ کپوارہ میں جاں بحق ہوا ،کے الفاظ تحریر کئے گئے تھے۔اسکے بعدغلام محمد بٹ نے اگلے ہی روز علاقے کے چند معززین اور رشتہ داروں کے ہمراہ کپوارہ کیلئے رخت سفر باندھا،اور متعلقہ ضلع ترقیاتی کمشنر کو درخواست پیش کی گئی،جس میں قبر کشائی اور نعش کے’’ ڈی این اے‘‘ نمونے حاصل کرنے کی درخواست کی ۔ گزشتہ ہفتہ عدالت نے سرکار کو ہدایت دی کہ وہ کورٹ کو غلام محمد بٹ کے ڈی این اے کے حوالے سے ایک ہفتہ میں آگاہ کریں۔غلام محمد بٹ کی انتظار آخر کار31جولائی کو اس وقت ختم ہوئی جب انہیں اپنے بیٹے کی نعش ڈی این اے نمونے ملنے کے بعد قبر کشائی کر کے حوالے کی گئی۔غلام محمد بٹ نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ غالباً برزلہ رات دیر گئے تک پہنچے گئے،جس کے بعد نعش کو فوری طور پر سپرد خاک کیا جائے گا۔ مدثر احمد جنوری2017میں  اپنی ساری اسناد لیکر نئی دہلی کیلئے نکلا تھا  اور تب سے اسکا گھر والوں کیساتھ رابطہ منقطع ہوا تھا۔مدثر احمد بٹ2سال قبل تک عیدگاہ برزلہ کے نزدیک کریانہ کی ایک دکان چلا رہا تھا۔2016کے آخر میں مدثر کو سنگبازی کے الزامات میں بھی حراست میں لیا گیا تھا،اور انکے خلاف کئی ایف آئی آر بھی درج تھے،تاہم انہیں بعد میں ضمانت پر رہا کیا گیا ۔