جمہوری نظام میں غیر جمہوری ردعمل

بلا شبہ ورلڈ کپ کے میچوں میں ہندوستانی ٹیم پاکستان کے لیے ناقابل تسخیر رہی ہے ۔لیکن اس بار ان کی جہد رنگ لگائی اور پاکستانی ٹیم نے ہندوستانی ٹیم کے خلاف فتح حاصل کی ۔ہار اور جیت کسی بھی کھیل کا جزو لاینفک ہے ۔کھیل میں کبھی بھی دونوں ٹیمیں فتح یاب نہیں ہوتیں ۔ایک زمانے تک ورلڈ کپ میں ہندوستان نے پاکستانی ٹیم کو شکست دے کر تاریخ رقم کی ہے۔لیکن اس بار ایسا کیا ہوا کہ ہندوستانی ٹیم کی ہار کے بعد شدت پسند عناصر بوکھلاہٹ کا شکارہوگئےاورہندوستانی ٹیم کی اجتماعی شکست کا ٹھیکرا صرف ایک تیز گیند باز کھلاڑی محمد سمیع کے سرتھونپ ڈالے،جبکہ محمد سمیع کے علاوہ ٹیم کے دیگر بالروں کی کارکردگی بھی اس میچ میں کوئی قابل ذکر نہیں رہی ۔کھلاڑیوں پر تنقید کرنا کھیل شائقین کا بنیادی حق ہے لیکن جب تنقید نفرت اورمذہبی عناد میں بدل جائے تو یہ ذہنی دیوالیہ پن کی علامت بن جاتی ہے ،اس میچ میں محمد سمیع کی ناقص کارکردگی کو بہانہ بناکرشر پسند ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف نفرت کا زہر اگل رہے ہیںجوکہ ہندوستانی جمہوری نظام کے بالکل برعکس ہے ۔بغور دیکھا جائےتو اس میچ میں ہندوستانی ٹیم نے اجتماعی طورپر ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کیا ۔فقط وراٹ کوہلی نے پاکستانی گیند بازی کے سامنے مزاحمت کرتے ہوئے 57 رنوں کی اچھی باری کھیل کر ٹیم کو 151 کے اسکوتک پہونچنے میں مدد کی ۔اس کے بعد جب مد مقابل ٹیم بلّے بازی کے لیے میدان پر اتری توتجزیہ نگار وں کا دعویٰ تھا کہ ہندوستانی ٹیم کی بلّے بازی پاکستانی ٹیم کے بالمقابل زیادہ مضبوط ہے،لیکن معاملہ بالکل برعکس ثابت ہوا ۔ہندوستانی بائولروں نے ناقص بائولنگ کا مظاہرہ کیا اور پاکستان بناکسی بلّے باز کے آئوٹ ہوئے میچ جیت گیا ۔ہاں! محمد سمیع ایسے بالر رہے جنہوں نے چار اوروں میں سب سے زیادہ رنز دِیے ۔لیکن یہ تو ہر میچ میں ہوتاہے کہ کوئی بالر بہت زیادہ کامیابی حاصل کرتاہے اور کسی بالر کو ایک وکٹ بھی ہاتھ نہیں آتی ۔حالانکہ محمد سمیع کی بائولنگ کا سابقہ ریکارڈ شاندار ہے۔لیکن نفرت کے پجاریوں کو ہندوستانی ٹیم کی شکست پر غصہ نکالنے کے لیے آسان ہدف محض محمد سمیع ہی نظر آئے ۔
  اصل مسئلہ یہ ہے کہ اگر پاکستانی ٹیم شکست سے دوچار ہوجاتی تو ہمارے بعض بیکار بیٹھے ہوئے کھلاڑی ،کچھ بکواس کرنے والے ٹی وی اینکرزاور بعض ناکام سیاسی مداریوں کو ’دیش بھکتی ‘ دکھانے کا موقع مل جاتا ۔مگرمیچ کی ہارکے بعدجیسے غائب ہوگئے ۔کسی نے بھی وراٹ کوہلی کی کپتانی پر کوئی سوال نہیں کیا جبکہ یہ بخوبی ظاہر ہوا کہ پاکستان کے خلاف میچ میں ہندوستانی ٹیم کے پاس جیسے کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ وراٹ کوہلی کی بلّے بازی نے اس کی ناقص کپتانی پر پردہ ڈال دیا ۔قابل غور یہ ہے کہ ہندوستان میں روز بہ روز اقلیتی طبقے کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے ۔محمد سمیع تو ایک اچھا کھلاڑی ہے جو اگلے کچھ میچوں میں اپنی کارکردگی کے ذریعے ناقدین کو منہ توڑ جواب دینے کی اہلیت رکھتاہے ۔لیکن آسام ،تری پورہ اور اترپردیش میں مسلمان نفرت آمیز سیاست کے مقابلے میں کس طرح اپنا دفاع کریں ،یہ اہم سوال ہے ۔کیونکہ ہماری پولیس ،حفاظتی دستے اور قانونی ایجنسیاں بھی ’منفی سیاست‘ کی شکار ہوچکی ہیں ۔آسام میں جس طرح ایک غریب مسلمان شخص کو پولیس نے گولی ماری اور اس کی لاش کے ساتھ پولیس کی موجودگی میں فوٹو جرنلسٹ نے جس طرح انسانیت سوز سلوک کیا ،اس سےاندازہ ہوتاہے کہ ملک کی فضا میں نفرت کا زہر کتنا گھول دیا گیا ہے ۔تری پور ہ میں مسلمانوں کی عبادت گاہوں پر شرپسند مسلسل حملے کررہے ہیں ۔بنگلہ دیش میں شرپسندوں نے ہندو مندروں کو نشانہ بنایا تھا ،اس کا انتقام تری پورہ کے مسلمانوں سے لیا جارہاہے ۔مختلف حیلے بہانوں کے تحت انہیں ہدف بنایا جارہاہے ۔یہاں تک ان کے پہناوے کی بنیاد پر ان کا تمسخراُڑایا جارہاہے۔مسجدوں اور مدرسوں کو دہشت گردی کا اڈّہ کہاجارہاہے اور مدارس کے نصاب میں تبدیلی کی مانگ کی جارہی ہے۔ مسلمان محلوں میں ہراساں کرنے کے لیے جگہ جگہ پولیس چوکیاں قائم کی جارہی ہیں اور گلی کوچوں میں فورس تعینات رکھی جاتی ہے ۔بر سر اقتدار جماعت شاید یہ بھول چکی ہےکہ حکومت کی زمام ہمیشہ کسی ایک کے ہاتھوں میں نہیں رہتی ۔وقت بدلتاہے،حالات پلٹا کھاتے ہیںاور حکومتیں گردش زمانہ کی نذر ہوجاتی ہیں ۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے ۔اقلیتی طبقے کو ہراساں کرنا اور ان کے جوانوں کوفرضی معاملات میں گرفتار کرنا بندکریںکیونکہ مسلمان اس ملک کے عزت دار شہری ہیں اور یہ حق ان سے کوئی چھین نہیں سکتا۔
رابطہ۔7355488037