جمہوریت بمقابلۂ آمریت

دنیا بھر میں جمہوری اور سیکولر دیس کہلانے والا ملک بھارت آج ان دونوں خصوصیات سے دستبردار ہو رہاہے ۔ اس ملک کے آئین میں سیکولر ازم کی اصطلاح 1976ء میں درج کردی گئی تھی تا کہ ملک کا ہر شہری بلا تمیز مذہب و ملت ،رنگ و نسل ، جاتی وبرادری ، ذات پات مساوی حقوق سے فیض یاب ہو ۔ آج بھارت کی سیاسی ،سماجی، مذہبی ،علاقائی ، معاشی ،معاشرتی اور لسانی حقیقتوں پر نظر ڈالئے تو’’ جمہوریت اور سیکولرازم ‘‘محض کاغذی گھوڑانظر آتے ہیں کیونکہ زمینی سطح پر آرایس ایس کا راج تاج ہے، مر کزی حکومت اس کی تابع ہے ، قومی ادارے اس کی ایماء پرزر خرید غلام کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں ۔اس فضا میں ملک میں چاروں اطراف میں جمہوریت اور سیکولر ازم کی ارتھیاں اٹھتی نظر آ رہی ہیں۔ ا س وجہ سے اقلیتیں ہی نہیں بلکہ انصاف پسند اور انسان ودست اکثریتی ہندو بھی عدم اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں ۔ ا س کے باوجودفرقہ پرست حکمران منافر تیں پھیلا تے جارہے ہیں اور اپنا نفرت آمیز ایجنڈا عملانے کے لئے مسلم اقلیت کے خلاف سرکاری طور پر ہر شعبہ ٔ حیات میں ایسی جارحیت پسندی روا رکھی جارہی ہے کہ ملک میں مسلمان ہو نا ہی ایک جرم بن چکا ہے ۔ گزشتہ ساڑھے چار سال سے سنگھ پریوار کی جابرانہ پالیسیوں پر عمل پیرا مرکزی حکومت ذات ،برادری ،رنگ ،نسل اور مذہب کے نام سے دوقومی نظریہ کو قطعی سچ ٹھہراکر کیا کیا گل نہیں کھلا ر ہی ہے ۔ نتیجہ یہ کہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ملک کے بیشتر حصوں میں مسلم اقلیت خوف وہراسانی میں گزر اوقات کر رہی ہے ،اُن کے انسانی حقو ق کی پامالیاں عروج پرہیں، انہیں زندگی کی دوڑ سے الگ کیا جاچکاہے ،گئو رکھشا، اورلو جہاد کے نام پر انہیں بلا کسی تامل کے قتل کیا جارہاہے ، ان کے پرسنل لاء میں مداخلت بے جا کی جارہی ہیں ، انہیں میدانوں میں نمازیں اداکر نے سے روکا جارہاہے ، اذان دینے پر ستایا جارہے ، جانور کی قربانیوں پر پابندیاں عائد کی جارہی ہیں ، داڑھیاں نوچی جارہی ہیں ، حجاب پر اعتراض جتائے جارہے ہیں ، مسلمانانہ نام رکھنے والی تاریخی جگہوں کانام بدلا جارہاہے ، اتنا ہی نہیں بلکہ پریواری غنڈے دلتوں کے خلاف بھی آمرانہ اور متشددانہ رویہ اختیار کر رہے ہیں ۔اس مایوس کن صورت حال سے متاثر ہونے والے عام لوگ بجا طور پوچھتے ہیں کہ کہاں ہے جمہوریت ،کدھر ہے سیکولرازم۔ اگرچہ لوگ ہندتوا وادیوں کی ان اوچھی حرکات سے نالاں ہیں مگر ان کا کون سننے والا ہے جب ملک آمریت کے آ  ہنی پنجے میں دبا ہے۔ ہر جمہوری نظام میں آزادیٔ اظہارشہری کا بنیادی حق ہوتا ہے،لیکن یہاں اس حق کو اب یہاں ناقابل معافی جرم قرار دیا جاتا ہے ۔ معروف فلمی اداکار نصیر الدین شاہ نے یہ ’’جرم‘‘ کیا کہ سنگھ پریوار کی مسلمانوں کے تئیں خون خوار پالیسی سے نرم لفظوں میں اختلاف کیا تو فلمی ایکٹر کا جینا حرام کر دیا گیا۔ حق یہ ہے کہ اگر کسی گوشے یا کسی سطح پر غیر ہندوؤں کے ساتھ ہونے والے ظلم ، ناانصافی یا غیر انسانی حرکات کے خلاف کوئی اپنے ضمیر کی آواز پر ناراضگی کا اظہار کر ے تو وہ گویا اپنے لئے شامت ِاعمال کو دعوت دیتا ہے، کیونکہ سنگھ پریوار کی پُستک میںاس کی حرکات پر کسی قسم کی مخالفانہ خیال آرائی کرنا ملک کے خلاف بغاوت اور قوم دشمنی ہے ۔اسے دبانے کے لئے دھونس اور دبائو کے حربے آزادنہ طوربروئے کار لائے جاسکتے ہیں۔ ملک میں جمہوریت کی نفی اور آمریت کے دورددورہ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان تاریخ کی دی ہوئی تلخیوں اور منافرتوں کو اور بھی گہراکیا۔یہی و جہ ہے حدمتارکہ پر جنگ کا سماں اب معمول بن چکاہے ، ڈائیلاگ کا سلسلہ موقوف ہے ، اشتعال انگیز بیان بازیاں لازم وملزوم ہوچکی ہیں ۔اس صورت حال میں بھلا جموں و کشمیر کیوں نہ مزید پستا رہے ۔ مسئلہ کشمیر کا مذاکراتی حل نہ ہونے دینا سنگھ پریوار کی مجبوری بن چکی ہے ، کیونکہ کشمیر حل سے اگر کشمیر امن کا گہوارہ بنا تو زعفرانی پارٹی ہندتواووٹروں کو کس نام پر اپنے اور کھینچ لے گی؟ حالانکہ بھارت کا ذی ہوش ،باضمیر ، محب وطن، سلیم الفطرت دانشوراور انسانی حقوق کی اہمیت سمجھنے والا حلقہ ملکی قضا وقدر کے مالکان کو جمہوریت اور سیکولر ازم کا واسطہ دے کر بھارت کو کشمیر سے ’’آزاد ‘‘ ہو نے کی فہمائشیں کر تا رہا ہے مگر بے سود۔ وہ گلا پھاڑ پھاڑ کر کہہ رہے ہیں کہ کشمیر حل گولی کی نالی سے بلکہ گفت وشنید کی میز سے مشروط ہے ۔ سابق فوجی جنرل بھی وقت وقت پر ا علاناً دلی کے حاکموں کو یہی سجھاتے رہے ہیں ، یہاں تک کہ اب ریاستی گورنر ستہ پال ملک بھی کہہ رہے ہیں کہ بندوق حل ہے نہ عسکریت پسندوں کا ماراجانا۔ بعض دانش ور کشمیر کے ھوالے سے اپنے ملک کے حکمرانوںکی آمر یت پسندانہ پالیسیوں کا مضحکہ اڑا رہے ہیں۔اس کاتازہ ثبوت بھارت کے سابق چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس تارکنڈے کاٹجو کا وہ حالیہ بیان بھی ہے جس میں انہوں نے بھارتی فوج کی طرف سے وادی ٔ کشمیر میں کی جارہی کارروائیوں کو جلیاںوالاباغ سے مشابہت دی ۔ سچ یہ ہے کہ وردی پوش رات دن کشمیر میں ’’جمہوریت اور سیکولرازم ‘‘ کا درس دیتے ہوئے تمام انسانی اوراخلاقی حقوق کی مٹی پلید کرکے ایک سیاہ تاریخ رقم کر چکے ہیں ۔ آج کی تاریخ میں کشمیر میں قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے ،روزانہ انسانی خون سے یہ سرزمین لالہ زار بن رہی ہے۔1947سے آج تک کشمیر میں جعلی ڈیموکریسی اور فرضی سیکولرازم نے جو گھاؤ دئے وہ کبھی مندمل نہیں ہوسکتے ۔ اے کاش ملک میں  فی الواقع جمہوریت اور سیکولرازم ہوتا تو یہ ملک گنگا جمنی تہذیب کو تیاگ دیتا نہ کشمیر اور شمال مشرقی ریاستوں میں ظلم وتشدد کی بھٹی گرم نہ ہوتی ۔ شاید یہ کہنا مبنی بر حق ہوگا کہ آئین ہند کے خالق ڈاکٹر بھیم راؤ امبید کر جو آئین بھارت کو دیا تھا وہ صرف دکھاوئے کے لئے تھا نہ کہ عملی نفاذ کے لئے ۔اس آئین میں درج اور باتوں کو چھوڑیئے صرف آرٹیکل ۱۹؍ کے تحت بنیادی حقوق کو دیکھئے ، ان حقو ق کا جو نقشہ کھینچا گیا ہے، ذرا انصاف سے بتایئے کیاوہ بھارت کی مسلم اقلیت اورکشمیریوں کے لئے شجر ممنوعہ نہیں ہیں؟