جموں ۔پونچھ شاہراہ

235کلو میٹر مسافت والی جموں ۔پونچھ شاہراہ کی کشادگی کا کام تعطل کاشکار ہے ،جس کی وجہ سے نہ صرف آئے روز سڑک حادثات رونماہورہے ہیں بلکہ مسافروں خاص کر علاج و معالجہ کےلئےجموں آنے جانے والے مریضوں کو زبردست پریشانیوں کاسامناکرناپڑرہاہے۔خطہ پیر پنچال کے عوام کی طرف سے اس روڈ کو کشادہ کرکے فورلین بنانے کی مانگ عرصہ دراز سے کی جارہی ہے اور چار سال قبل وزیر اعظم خصوصی ترقیاتی پیکیج کے تحت اعلان کئے گئے اسی ہزار کروڑ روپے میں سے اس روڈ کی کشادگی کیلئے 5100کروڑ روپے مختص بھی رکھے گئےتھے تاہم بدقسمتی سے ابھی تک عملی سطح پر اس سلسلے میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ۔اگرچہ حال ہی میں جموں سے اکھنور حصے پر کشادگی کا کام شروع ہواہے مگر اکھنور سے آگے سڑک کو کشادہ کرنے کا معاملہ سرے سے ہی ٹھنڈے بستے میں ڈال دیاگیاہے ۔ اگر چہ جموں ۔پونچھ شاہراہ موجودہ جموں۔سرینگر شاہراہ سے بہتر حالت میں ہے لیکن اس کاحال اتنا زیادہ اچھا بھی نہیں ہے اور جگہ جگہ کھڈے بن جانے سے کئی مقامات پرسڑک بالکل تباہ ہوگئی ہے ۔ اس پر طرہ یہ ہے کہ مسافربسوں کے ڈرائیوروں کی طرف سے سواریوں کے لالچ میں اندھا دھند رفتار سے گاڑیاں چلائی جاتی ہیں اورایک دوسرے پر سبقت لینے کی بے ہنگم کوششوں میں آئے روز سڑک حادثات رونماہورہے ہیں ۔اس شاہراہ پر ٹریفک کا کافی زیادہ دبائو رہتاہے اور خاص طور پر موسم گرما میں جب مغل شاہراہ کھلی ہو تو کشمیر سے جموں یا جموں سے کشمیر آنے جانے والی متعدد گاڑیاں بھی اسی راستے پرچلتی ہیں ۔رقومات مختص کئے جانے کے باوجود کشادگی کا کام پچھلے چار سال سے شروع نہ ہونا افسوسناک ہے اور یہی وجہ ہے کہ خطہ پیر پنچال کے عوام انتظامیہ اور حکومت پر اُن سےسوتیلا سلوک روا رکھنے کا الزام لگارہے ہیں ۔خطے کے عوام کی شکایت ہے کہ انہیں ہر سطح پر نظرانداز کیاجارہاہے اور تعمیروترقی کیلئے وہ اقدامات نہیں کئے جارہے جن کی ضرورت ہے بلکہ حکام کی نظریں جموں تک محدود ہوکر رہ جاتی ہیں ۔چونکہ مغل شاہراہ سال کے چار سے پانچ ماہ تک کیلئے ٹریفک کیلئے معطل رہتی ہے لہٰذا راجوری پونچھ کے عوام کے رابطے کیلئے جموں پونچھ شاہراہ واحد متبادل ہے جس کی کشادگی ناگزیر ہے۔خطے میں بہتر طبی خدمات میسر نہ ہونے کے باعث بڑی تعداد میں مریض /زخمی روزانہ اسی روڈ کے ذریعہ جموں آتے جاتے ہیں جن کیلئے خطرناک موڑوں پر سفر کرنا اذیت ناک ہوتاہے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ کالی دھار اور دیگر کئی مقامات پر اس روڈ پر خطرناک موڑ ہیں جہاں سے سفر کرتے ہوئے اچھے بھلے انسان کا سر بھی چکراجاتاہے۔خطہ پیر پنچال کی سماجی و اقتصادی ترقی اور لوگوں کو بہتر سڑک روابط فراہم کرنے کیلئے جہاں مغل شاہراہ پر ٹنل تعمیر کرنے کی ضرورت ہے وہیں جموں سے پونچھ ریلوے لائن کی تعمیر اور شاہراہ کو فور لین بنانے کیلئے اقدامات لازمی ہیں ۔شاہراہ کی فور لین تعمیر سے نہ صرف سفر آسان ہوجائے گابلکہ کچھ مقامات پر ٹنلوں کی تعمیر سے مسافت بھی کم ہوسکتی ہے ۔توقع کی جانی چاہئے کہ خطہ پیر پنچال کوتعمیروترقی میں اس کا جائز حق دیاجائے گا اور اس سڑک کی کشادگی کے کام میں مزید تاخیر نہیں برتی جائے گی ۔