جموں یونیورسٹی کے خلاف طلباء کا احتجاجی دھرنا

بانہال// ڈگری کالج رام بن سے وابستہ سینکڑوں طلبا اور طالبات نے آج جموں سرینگر شاہراہ پر رام بن کے کرول علاقے میں دھرنا دیکر شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت کم از کم دو گھنٹوں تک معطل کر دی۔ وہ جموں یونیورسٹی کے خلاف کم مارکنگ کے مدعے کو لیکر مظاہرے پر اتر آئے تھے۔ سنیچر کوجموں سرینگر شاہراہ پر جموں سے وادی کشمیر کی طرف ٹریفک کو چلنے کی اجازت تھی لیکن رام بن قصبہ سے پانچ کلومیٹر دور کرول کے علاقے میں دھرنے کی وجہ سے شاہراہ پر ٹریفک جام لگ گیا اور ٹریفک پولیس اور پولیس کو ٹریفک جام صاف کرنے میں مزید دو گھنٹے لگے۔ آج صبح سے ہی رام بن کے مختلف علاقوں سے ڈگری کالج میں زیر تعلیم سینکڑوں کی تعداد میں طلبا اور طالبات نے اپنے مطالبات کو لیکر شاہراہ پر احتجاجی مظاہرے کئے اور دھرنا دیکر شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت کم از کم دو گھنٹوں تک معطل کر دی ۔ انہوں نے شاہراہ کے بیچوں بیچ دھرنا دیکر اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگائے۔ وہ ہمیں انصاف چاہئے کے نعرے بلند کر رہے تھے۔ احتجاجی دھرنے پر بیٹھے بچوں کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی جموں یونیورسٹی کی طرف سے پہلے سمسٹر میں بچوں کی کم مارکنگ کی گئی ہے جس کی وجہ سے رام بن سے چار فیصد ا ور بانہال سے چھ فیصدی امیدوار ہی کامیا ب قرار پائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وادی چناب کے ڈوڈہ ، بھدرواہ اور کشتواڑ کے نتائج بھی اس سے مختلف نہیں ہیں۔ انہوں نے حکام سے مداخلت کی اپیل کرکے انہیں انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ احتجاجی مظاہروں کی اطلاع کے بعد ڈی ایس پی ہیڈ کواٹر رام بن امتیاز احمد ، تحصیلدار رام بن اور ایس ایچ او رام بن جائے واقعہ پر پہنچے اور انہوں نے دھرنے اور احتجاج پر بیٹھے طلباء کو یقین دلایا کہ وہ ان کے اس مسئلے کو متعلقہ حکام کی نوٹس میں لاکر اسے حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریںگے۔ اس یقین دہانی کے بعد دھرنا ختم کیا۔ کئی احتجاجیوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ڈگری کالج رام بن میں پینے کے پانی ، بجلی کی کمی ہے جبکہ بچوں کیلئے رام بن اور دیگر علاقوں سے ڈگری کالج کرول رام بن پہنچنے کیلئے ٹرانسپورٹ کا انتطام کرنا ضروری بن گیا ہے تاکہ سینکروں طلباء کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔