جموں کے ساتھ بھیدبھائو کی رٹ لگانے والے ذہنی پریشانی کاشکار

 جموں // وزیر اعظم دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ’صوبہ جموں کے ساتھ ناانصافی‘ کے دعووں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ چار برسوں کے دوران صوبہ جموں میں متعدد ایسے ادارے قائم ہوئے جن کا کشمیر میں کوئی نام و نشان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں میں کچھ لوگ ذہنی پریشانی کا شکار ہوکر ’کشمیر سب کھا گیا‘ کی رٹ لگانے میں مصروف ہیں۔ ادھم پور پارلیمانی حلقے سے بی جے پی رکن پارلیمان جتیندر سنگھ نے یہاں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’ گذشتہ چار برسوں کے دوران جتنی سہولیات جموں کو ملی ہیں، اتنی پچھلے 70 برسوں میں نہیں ملی تھیں۔ اب کچھ لوگ ذہنی پریشانی کا شکار ہوکر کہتے ہیں کہ کشمیر سب کھا گیا۔ جب کوئی یہ کہتا ہے تو سننے والے کو بڑا اچھا لگتا ہے۔ بھئی بات ٹھیک کہہ رہا ہے۔ آج فنگر ٹپس کا زمانہ ہے۔ نوجوانوں کے پاس موبائل فون ہیں۔ نوجوان جھوٹ اور سچ کا پتہ لگانے کے لئے اپنے موبائل فون استعمال کرتے ہیں‘۔ جتیندر سنگھ نے کہا کہ گذشتہ چار برسوں کے دوران صوبہ جموں میں متعدد ایسے ادارے قائم ہوئے جن کا کشمیر میں کوئی نام و نشان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ’پچھلے چار برسوں کے دوران جموں میں کچھ ایسے ادارے آئے، جو کشمیر میں ابھی تک نہیں آئے ہیں۔ اترپردیش کے دارالحکومت لکھنو کے بعد شمالی ہندوستان کا سب سے بڑا بائیو ٹیک پارک کٹھوعہ میں بن رہا ہے۔ اس کے بعد اب کپواڑہ میں بننے جارہا ہے۔ کھیتی باڑی میں انقلاب لانے والی ایک سکیم کٹھوعہ میں شروع کی گئی، ابھی یہ سکیم کشمیر میں شروع نہیں ہوئی ہے۔ دو پاسپورٹ آفس پہلے ادھم پور اور کٹھوعہ کے لئے منظور ہوئے، تیسرا پھر راجوری اور اب جاکر بارہمولہ میں ایک کھل گیا ہے۔ پچھلے چار برسوں کے دوران اگر کوئی ایف ایم ریڈیو اسٹیشن منظور ہوا تو ادھم پور کے لئے منظور ہوا ۔ کشمیر کے لئے ایسا ریڈیو اسٹیشن منظور نہیں ہوا ہے۔ این ڈی اے سرکار کی سکیم ’’روسا‘‘ کے تحت انجینئرنگ کالج کٹھوعہ کے لئے منظور ہوا، کشمیر کے لئے منظور نہیں ہوا۔ اعداد وشمار آپ کے سامنے ہیں‘۔ یو این آئی