جموں کے ساتھ امتیاز ی سلوک

 جموں// جموں وکشمیر نیشنل پنتھرس پارٹی کے 25 کارکنوں نے پیر کے روز پی ڈی پی بی جے پی مخلوط حکومت کی مبینہ نالائقی کے خلاف بطور احتجاج اپنے سرمنڈائے۔ پارٹی کے چیئرمین ہرش دیو سنگھ کی قیادت میں درجنوں کارکنوں نے یہاں جمع ہوکر ریاستی حکومت بالخصوص جموں سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کے 25 ممبران اسمبلی کے خلاف احتجاج کیا۔ احتجاجی کارکنوں میں سے 25 کارکنوں نے احتجاج کے طور پر اپنے سر منڈائے۔ احتجاجی کارکنوں نے ’لوگوں کے ساتھ کئے ہوئے وعدے پورا کرو پورا کرو۔ جموں کے نوجوان کے ساتھ امتیازی سلوک بند کرو بند کرو۔ جموں کے نوجوانوں کو نوکریوں میں برابری دو برابری دو۔ پی ڈی پی بی جے پی حکومت گو گو۔ جموں کے نوجوان کے ساتھ انصاف کرو انصاف کرو‘ کے نعرے بلند کئے۔ ہرش دیو سنگھ نے اس موقعہ پر موجود نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا ’پنتھرس پارٹی کے 25 کارکنوں نے اپنے سر منڈواکر اس سرکار کی نالائقی اور اس سرکار کی دھوکہ دہی پر ماتم منایا ہے۔ بی جے پی کے 25 ممبران اسمبلی نے اس صوبہ کے لوگوں کے جذبات کا قتل کیا ہے۔ ان ممبران اسمبلی نے جموں کے لوگوں کے ساتھ بڑے بڑے وعدے کئے تھے۔ سرحدی آبادی اور یہاں کے نوجوانوں کے ساتھ وعدے کئے تھے۔ لیکن اقتدار میں آکر کشمیری سیاسی جماعتوں کے سامنے خودسپردگی اختیار کی‘۔ انہوں نے کہا کہ اہلیان جموں بی جے پی سے ناراض ہیں۔ ان کا کہنا تھا’ ان سے جموں اور سرحدوں کے نذدیک رہائش پذیر لوگ ناراض ہیں۔ نریندر مودی جی آپ کی حکومت کے 25 نمونے یہاں سے جیت کر گئے۔ انہوں نے اپنے منڈیٹ کا قتل کیا ہے۔ اس کی مذمت نہیں بلکہ اس کا ماتم منایا جانا چاہیے۔ اس سے لئے ہم یہاں ماتم منارہے ہیں۔ ان ممبران اسمبلی کا رویہ ناقابل برداشت ہے۔ پنتھرس پارٹی اس کا ماتم منارہی ہے‘۔ یو اےن آئی