جموں کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کے بھیانک نتائج ہوسکتے ہیں: پنن کشمیر

جموں//پنن کشمیرنے کہاہے کہ جموں کی ڈیموگرافی کوتبدیل کرنے کی کوشش کرکے جموں کولبنان بنانے کی کوشش ہورہی ہیں جس کے سبب نتائج ہوسکتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق کشمیری مہاجر پنڈتوں کی ایک تنظیم ’پنن کشمیر‘ نے الزام لگایا ہے کہ صوبہ جموں کی ڈیموگرافی تبدیل کرکے اسے دوسرا لبنان بنانے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ تنظیم نے جموں میں مقیم چند ہزار روہنگیا پناہ گزینوں کا نام لئے بغیر کہا کہ ایک مخصوص مذہب اور دوسرے ملکوں کے شہریوں کو یہاں بسایا جارہا ہے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ وادی کشمیر کو تقسیم کرکے وہاں ایک الگ ’پنن کشمیر‘ کا قیام عمل میں لایا جائے۔ پنن کشمیر کے چیئرمین ڈاکٹر اجے چرنگو نے پیر کے روز یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’گذشتہ مہینے ہم نے پورے صوبہ جموںکا دورہ کیا۔ اس دوران ہمیں معلوم ہوا کہ واقعی صوبے کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس نے ایک بھیانک شکل اختیار کرلی ہے‘۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ صوبہ جموں کی ڈیموگرافی تبدیل کرکے اسے دوسرا لبنان بنانے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا ’جموں کو لبنان بنانے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ اس کے لئے اندر اور باہر سے قوتیں کام کررہی ہیں۔ لبنان ایک وقت مڈل ایسٹ میں ایک عیسائی اکثریتی، جمہوری اور سیکولر اسٹیٹ تھالیکن ڈیموگرافی تبدیل کرکے اسے ایک اسلامک اسٹیٹ میں تبدیل کیا گیا۔ لبنان میں پیسہ دیکر لوگوں کو بسایا گیا۔ بعد میں فلسطینی رفوجیوں کو بساکر پورے لبنان کی ڈیموگرافی تبدیل کی گئی۔ صوبہ جموں میں بھی یہی ہورہا ہے۔ بھارتی سرکار کو اسے جنگ جیسی صورتحال سمجھ کر اس سے نمٹنا چاہیے۔ کبھی کبھی ہمیں لگتا ہے کہ بھارتی سرکار جان بوجھ کر خاموش تماشائی بیٹھی ہے‘۔ ڈاکٹر چرنگو نے الزام لگایا کہ جموں میں ایک مخصوص مذہب کے ماننے والے لوگوں کی حوصلہ افزائی اور دوسرے ملکوں کے شہریوں کو بساکر ڈیموگرافی کو تبدیل کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا ’ہم آپ کو یہ بتانا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں کہ جموں کو لبنان بنانے کی منصوبہ بند سازشیں رچی جارہی ہیں۔ قومی مفاد میں ان سازشوں کا توڑ کیا جانا چاہیے۔ ہم یہ بھی کہنا چاہتے ہیں کہ جہادی فورسز اندر اور باہر سے ہمارے جمہوری نظام کو کھوکھلا کرکے یہاں ایک اسلامک اسٹیٹ کا قیام عمل میں لانا چاہتے ہیں۔ اگر اس مسئلے پر کان نہ دھرا گیاتو لوگ ڈیموگرافک تبدیلی کے لئے مرکزی سرکار کو ذمہ دار ٹھہرائیں گے‘۔ پنن کشمیر کے چیئرمین نے وادی میں ایک الگ ’پنن کشمیر‘ کا قیام عمل میں لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ’جموں وکشمیر میں تب تک امن بحال نہیں ہوگا جب تک وادی کشمیر کو تقسیم کرکے وہاں پنن کشمیر کا قیام عمل میں نہیں لایا جاتا ہے‘۔