جموں کی سرحدی آبادی نے امن کیلئے ووٹ کیا

 
جموں//سانبہ اور جموں اضلاع کے سرحدی علاقوں میں ووٹروںنے بھاری پولنگ درج کی ،جہاں پر بیشتر ووٹروں نے خطہ میں امن و ترقی کے لئے ای وی ایم کا بٹن دبایا ۔سرحدوں پر خاموشی اور امن کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے سرحدی لوگوں نے وجے پور، سانبہ، بشناہ میں بھاری تعداد میں حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ضلع جموں کے بشناہ خطہ میں تقریباً78 فیصدی پولنگ ہوئی جبکہ سانبہ  اور وجے پور میں بالترتیب 76.62 اور  74.91 پولنگ ہوئی ہے۔ بشناہ اسمبلی حلقہ میںبین الاقوامی سرحد کے قریب قصبہ ارنیا میں بھی لوگوں نے اپنے روزمرہ مشکلات کا ازالہ کرنے اور بنیادی سہولیات فراہم ہونے کے لئے پولنگ میں شرکت کی۔لوگوں نے صُبح سویرے ہی پولنگ بوتھوں کا رُخ کیا  اور حق رائے دہی میں شرکت کی۔ایک ریٹائرڈ فوجی اہلکار روہت کھجوریہ نے کہا کہ گذشتہ چند برسوں میں بہت کام ہوا ہے ،بی آر او نے سرحد تک ایک اچھے روڈ کی تعمیر کی ہے۔تاہم ،اور بھی کُچھ کرنا باقی ہے۔اُ س نے کہا کہ سرحدوں علاقوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔انہوںنے کہا کہ جب بھی سئیز فائر خلاف ورزیاں ہوتی ہیں ،تو ہم ایک جگہ سے دوسری جگہ تک ایمبولنس اور طبی سہولیات کے تلاش میں گھومتے ہیں۔اُس نے کہا کہ اب کی بار سرکار انہیں بنیادی سہولیات فراہم کرے گی۔وجے پور کے رام گڑھ سیکٹر میںسئیز فائر خلاف ورزی کی وجہ سے بین الاقوامی سرحد کے قریب لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایک خاتوں شکنتلا دیوی نے کہا کہ جب بھی پاکستانی فوج ایل او سی پر شیلنگ کرتی ہے تو ہم اپنا سامان پیک کرتے ہیںاور بھاگنے کی تیاری کرتے ہیں لیکن خوش قسمتی سے گُذشتہ کئی دنوں سے ہمیں شیلنگ کا مقابلہ نہیں کرنا پڑ رہا ہے۔ہم نے اُس سرکار کے لئے ووٹ کیا ہے ،جو طویل مدت تک امن اور لوگوں کی سلامتی کو یقینی بنائے گی۔ضلع سانبہ کے رکھ آب ٹالی کے ایک 70سالہ بزرگ چمن لعل شرما نے کہا کہ ہماری پہلی ترجیح اپنے اپنے گھروں میں امن اور دوسرا ہنگامی صورتحال کے دوران تحفُظ اور بنیادی سہولیات کی فراہمی اہم ہے۔اُس نے مزید کہا کہ یہ وقت ایسے نمائندے کا انتخاب کرنا ہے جو سرحدی عوام کی آواز پارلیمنٹ میں اُٹھائے گا۔