جموں کیلئے200اور سرینگر کیلئے محض 100کروڑ مختص

 سرینگر//موجودہ سرکار پر سرینگر شہر کے ساتھ امتیازی سلوک برتنے کا الزام لگاتے ہوئے نیشنل کانفرنس نے کہا ہے کہ حکومت کوجواب دینا ہوگاکہ آیا سیلاب کی مار اوربدامنی کے دور کا سامنا کررہے سرینگر کے لوگوںکیلئے موجودہ حکومت کیوں علاقائی دشمنی اور تعصب کے بیج بو رہی ہے۔ایس کے آئی سی سی میں سرینگرضلع ترقیاتی بورڈ میٹنگ کے دوران نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکرٹری اور ممبر اسمبلی خانیار علی محمد ساگر نے کہا کہ موجودہ حکومت شہر سرینگر کی ترقی کے حوالے سے جو بلند بانگ دعوے کررہی ہے وہ صرف بیانات تک ہی محدود ہے ۔انہوں نے کہا کہ عمر عبداللہ کے دور میں شہر سرینگر میں شروع کئے گئے ترقیاتی پروجیکٹوں اور منصوبوںکے حوالے سے توجہ کی کمی اورناکافی فنڈز سرینگر شہر کیلئے موجودہ حکومت کے امتیاز ی سلوک کی بدترین شکل ہے ۔انہوں نے کہا کہ ناانصافی اور شہر سرینگر کے ساتھ امتیازبے مثال ہے اورگرمائی دارالحکومت کیلئے ریاست کے دیگر اضلاع کے مقابلے میں مختص فنڈز حیران کن ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموں ضلع کیلئے سالانہ منصوبہ 200کروڑ روپے رکھا گیا ہے جبکہ سرینگر کیلئے صرف 100کروڑ روپے ہے ۔ترقیاتی بورڈ میٹنگ  میں وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی طرف مخاطب ہوکر ساگر نے کہا ’’کیا یہ آپ کی حکومت کا سرینگر کیلئے واضح امتیازی سلوک کا اشارہ نہیںہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ سید میرک شاہ روڈ پروجیکٹ کو چھوڑ دینا بھی سرینگر کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک برتنے کی مثال ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈل ڈیولپمنٹ پروجیکٹ ،آنچار جھیل اور خوشحال سر کے حوالے سے کوئی بھی پیش رفت نہیں ہے ۔ساگرنے کہا کہ سرینگر کے لئے مختص فنڈز بہت کم آبادی اور اسمبلی حلقوں کے دیگر اضلاع کے لیے مختص فنڈز کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ساگر نے کہا ’ہم  ریاست کے تینوں خطوں کی برابر ترقی چاہتے ہیں اور کسی بھی علاقے یا کسی بھی خطے کو نظراندازنہیں کرنا چاہتے تاہم یہ افسوس کی بات ہے کہ 2014 میں آئے سیلاب کی مار اور 2016کی بدامنی کے دور کا سامنا کررہے سرینگر کے لوگوںکیلئے موجودہ حکومت علاقائی دشمنی اور تعصب کے بیج بو رہی ہے‘۔انہوں نے کہا کہ 2014 کی تباہی اور 2016 کے اقتصادی جمود کے بعد سرینگرپر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے حکومت کھل کر سرینگر کے خلاف تعصب دکھا رہی ہے ،جو ناقابل قبول ہے ۔انہوں نے کہا ’’ہماری اولین مانگ ہے کہ سرینگر کیلئے ترقیاتی منصوبہ جموں ضلع کے برابر رکھا جائے‘‘ ۔ساگر نے کہا ’’ ریاسی اور کٹھوعہ اضلاع کی آبادی 9 لاکھ کے قریب ہے اور دونوں اضلاع کیلئے 300 کروڑ روپے کا منصوبہ رکھا گیا ہے جبکہ سرینگر ضلع کی آبادی 11لاکھ سے زیادہ ہے اور اس کیلئے سالانہ منصوبہ صرف ایک سو کروڑ رپے کا ہے جبکہ یہ ضلع 8اسمبلی حلقوں پر مشتمل ہے ‘‘۔میٹنگ کے دوران ساگر نے کہا کہ اعداد وشمار میں سب واضح ہے لہٰذا حکومت کو اس امیتازی سلوک کا جواب دینا ہوگا ۔انہوں نے کہا ’’ہم سرینگر کے ساتھ اانصاف کا مطالبہ کرتے ہیںاور ناانصافی کے خلاف حکومت کا احتساب کریں گے۔اس موقعہ پر ساگر نے وزیر اعلیٰ کو ایک میمورنڈم پیش کیا جس میں ضلع سرینگر کے لئے منصوبوں کے حوالے سے غفلت برتنے اور امتیازی سلوک کو اجاگرکیا گیا ۔