جموں کیلئے کٹوتی شیڈول مشتہر

سید امجد شاہ
  روزانہ 5سے6گھنٹے بجلی بند رہے گی ،پانی کی سپلائی بھی بدستور متاثر

  جموں//جاری بجلی بحران پر قابو پانے میں بدیہی طور ناکام ہونے کے بعد جموں شہر اور مضافات کیلئے بجلی کا نیا کٹوتی شیڈول مشتہر کردیا ہے جس کے تحت اعلانیہ طورشہری اور دیہی علاقوں میں روزانہ 5سے6گھنٹے بجلی غائب رہے گی۔محکمہ بجلی نے جموں کے شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں بجلی کی کٹوتی کے شیڈول کو دو گروپوں میں تقسیم کرکے نوٹیفائی کیا ہے۔جموں شہر کے لیے کٹوتی کے شیڈول میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جموں شہر اور اس کے اطراف کے علاقوں میں شہری اور دیہی علاقوں کے لیے گردشی بنیادوں پر پانچ سے چھ گھنٹے کی بجلی کٹ جائے گی۔متعلقہ محکمے نے شہری علاقوں اور اس کے مضافاتی رہائشی علاقوں اور جموں ضلع کی دیہی پٹی کے لیے دو گروپس قائم کیے ہیں جنہیں “گروپ-A اور گروپ-B” کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ریذیڈنسی، نیو سیکرٹریٹ، روپ نگر، کینال روڈ، جگتی، ترلوک پور، دھونتھلے، مٹھی، میڈیکل، کمپنی باغ، بن تلاب اور اُدھے والا علاقوں کے رسیونگ سٹیشنوں پر پانچ گھنٹے کی بجلی کٹ جائے گی جوصبح 9 بجے سے صبح 11 بجے تک دو گھنٹے، دوپہر 2 بجے سے 3 بجے تک مزید دو گھنٹے، شام 5 بجے سے شام 6 بجے تک ایک گھنٹے اور پھر رات 10 بجے سے رات 11 بجے تک مزیدایک گھنٹے کے لیے بند رہے گی۔اسی طرح گروپ بی زمرے میں پریڈ، منڈا، نیو سباش نگر،توف، نگروٹا، تالاب تلو، وزارت، جانی پور، ایس ایس ایچ شکتی نگر، بھوڑی اور سباش نگر کے رسیونگ سٹیشنوں کے تحت آنیو الے علاقوں میں دن میں چھ گھنٹے تک بجلی کی کٹوتی ہوگی۔ جموں کے شہری علاقوں سے متعلق ایک اور شیڈول ،جن میں جے ڈی اے کمپلیکس، گرین بیلٹ، ریلوے کمپلیکس، تریکوٹہ نگر، تریکوٹہ نگر، گنگیال نیو، باہو فورٹ، گڈی گڑھ، اشوک نگر، شاستری نگر، گریٹر کیلاش اور سیورا کے رسیونگ سٹیشن شامل ہیںا ور جنہیں ‘گروپA‘’ کے طور پر بیان کیا گیا ہے،ان میں چھ گھنٹے کی کٹوتی کا سامنا کرنا پڑے گا۔اسی طرح گروپ بی میں آنے والے رسیونگ سٹیشن ایریاز یعنی نانک نگر، چھنی ہمت، بھٹنڈی، گنگیال اولڈ، بابلیانہ، انڈسٹریل اسٹیٹ ڈگیانہ، سدھرا، چٹھہ، ہکل، ستواری اور سینک کالونی کو دن میںمتبادل دن کی بنیاد پر چھ گھنٹے تک کٹوتی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ محکمہ بجلی نے یہ نوٹیفکیشن جموں بھر سے غیراعلانیہ کٹوتیوں کے خلاف احتجاج کے ایک سلسلے کا سامنا کرنے کے بعد جاری کیا ہے اور سی سی آئی جموں نے بھی بجلی کی کٹوتیوں کی مخالفت کی ہے جس سے ان کے مطابق ان کا کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے۔اسی طرح ویئر ہاؤس کے تاجروں نے بھی کٹوتی کے خلاف حال ہی میں احتجاج کیا جس کے نتیجے میں محکمہ پر دباؤ پڑا جس نے بالآخر بجلی کی کٹوتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا تاکہ تاجر اور صنعتی شعبے اس کے مطابق اپنے کام کی منصوبہ بندی کر سکیں۔دریں اثناء مختلف علاقوں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ جموں میں گزشتہ تین ہفتوں سے پینے کے پانی کی فراہمی میں بھی رکاوٹ ہے اور حالات نے انہیں نجی واٹر ٹینکروں سے پینے کا پانی خریدنے پر مجبور کیا ہے۔