جموں کیساتھ مبینہ نا انصافی

جموں//تاجروں کی انجمن جموں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز نے جموں خطہ کے ساتھ گورنر راج میں بھی امتیاز برتنے کا الزام لگاتے ہوئے یاترا کے بعد ایجی  ٹیشن شروع کرنیکا اعلان کیا ہے۔چیمبرس کا کہنا ہے ایجی ٹیشن کی رہنمائی مذہبی لیڈر کریں گے لیکن اسکے لئے کمیٹی میں تمام سیاسی، سماجی ، مذہبی اور دیگر طبقوں کے نمائندے شامل ہونگے۔چیمبر کے صدر راکیش گپتا نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ایجی ٹیشن کو غیر سیاسی بنیادوں پر چلایا جائے گاجس کی قیادت ہندو، مسلمان اور سکھ مذہبی رہنما کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کٹھوعہ قتل و عصمت دری معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اس لئے اس پرچیمبر کوئی سٹینڈ نہیں لے گی ۔ روہنگیائی مہاجرین کو جموں سے کسی دوسری جگہ منتقل کئے جانے کی مانگ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ بھی عدالت عظمیٰ میں ہے اور جب تک وہاں سے فیصلہ نہیں آجاتا ان مہاجرین کو جموں سے نکال کر کسی دوسری جگہ بسایا جائے۔ گپتا نے بتایا کہ انہوں نے تمام مذہبی، سماجی تنظیموں اور مختلف یونینوں کے ساتھ رابطہ کیا ہے ، عنقریب ہی گورنر انتظامیہ کے ساتھ بھی اس سلسلہ میں بات کریں گے اور اگر کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلتا ہے تو امرناتھ یاترا کے اختتام کے بعد فیصلہ کن تحریک چلائی جائے گی جس کے لئے جموں کے لوگوں کو ہر طرح سے تیار رہنا چاہئے۔ جموں کے مسائل کے بارے میں پوچھے جانے پر گپتا نے کہا کہ آل انڈیا انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسزکا کام شروع نہ ہونے کے علاوہ دریائے توی پر تعمیر کی جانے والی مصنوعی جھیل، مبارک منڈی ہیری ٹیج، طبی سہولیات کا فقدان  اور دیگر مسائل شامل ہیں۔ بی جے پی ، پی ڈی پی سرکار کے دوران جموں کے ساتھ ناانصافیوں کے لئے اسمبلی سپیکر اور سابق نائب وزیر اعلیٰ نرمل سنگھ کو بلا واسطہ طور پر ذمہ دار قرار دیتے ہوئے چیمبر صدر نے کہا کہ وہ جموں کے مفادات کی نگہبانی کرنے میں پوری طرح ناکام رہے ۔ گپتا نے کہا کہ جموں کیلئے چلائی جانے والی تحریک میں کسی بھی سیاسی جماعت کو ملوث نہیں کیا جائے گابلکہ سکھ گورو مہنت منجیت سنگھ ، پرانی منڈی مندرکے مہنت کے علاوہ مسلم مذہبی لیڈروں کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔اس کے علاوہ چیمبر سیاسی مقاصد کی آبیاری کیلئے چلائی جانے والی کسی بھی ایجی ٹیشن یا تحریک کا ساتھ نہیں دے گی۔ کٹھوعہ معاملہ پر چند سیاسی لیڈروں اور بار ایسو سی ایشن کی طرف سے چلائی گئی تحریک کی نکتہ چینی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بارکے انتخابات کو موخر کروانے کے لئے شور و غوغا کیا گیا تھا اور بار قیادت اس میں کامیاب ہو گئی ہے ۔