جموں کو کس کی نظر بد لگی؟

ریاست  جموں و کشمیر کے ضلع پلوامہ( لیتہ پورہ) میں 14  ؍ فروری 2019 کو ایک ہلاکت خیز دھماکے میں پچاس سی آر پی ایف اہل کار ہلاک ہوئے ۔اس سے نہ صرف ان کے گھروں میں بلکہ پورے ملک میں صف ماتم بچھ گئی۔ اس حملےکے حوالے سے متعدد ممالک میں رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔ کیا وجہ ہے کہ حملے کے اگلے ہی روز ریاست جموں و کشمیر کے صوبہ جموں میں فرقہ وارانہ دنگے فسادکی شروعات کی گئیں ۔ اچھنبے کی بات یہ ہے کہ جب پورا ملک سوگوار تھا، جموں کی مسلم بستیوں میں توڑ پھوڑ اور آتش زدگی کے واقعات رونما ہوئے۔ امن وقانون کی بگڑتی صورت حال پر قابو پانے کے لئے کرفیو کا نفاذ عمل میں آیا مگر بے سود۔ فرقہ واریت کے واقعات نے جہاں سرما ئی دارالحکومت جموں شہر پر گہرے اثرات مر تب کئے، وہیں ہندو مسلم بھائی چارے کے نام سے مشہور شہر پونچھ میں بھی ایسے کئی نا گفتہ بہ حالات آنا ً فاناً رونما ہوئے ۔ ان مذموم واقعات میں جموں خاص کے علاوہ صوبے کے مختلف علاقہ جات میں متعدد گاڑیوں کی توڑ پھوڑ اور آتش زدگی اورکچھ مخصوص مکانات پر پتھراؤ بھی سماج دشمن عناصر کی کارستانی رہی ۔ اس طرح کی دھماچوکڑی کے بعد اگر چہ متاثرہ علاقہ جات میں حالات کو کرفیو سے قابو میں لایا گیا مگر یہ چیز صوبے میں ہندومسلم بھائی چارے پر ایک ایسا سوالیہ نشان کھڑا کر گئی ہے ۔اس بارے میں جموں کے ہر باشعور شہری کوبلا لحاظ مذہب و ملت سنجیدہ سوچ بچار کر نا چاہیے تاکہ آئندہ ایسے شرم ناک حالات وقوع پذیرنہ ہوں۔اس کے لئے حفظ ماتقدم کے طور کیا کیا مثبت قدم اُٹھانے لازمی ہیں جو ہمارے بھائی چارے کو ہر حال میں بر قرار رکھ لیں، اس مدعے پر ہمیںاپنا سخت محاسبہ کرناہوگا ۔ پلوامہ دھماکے کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات بھی غور طلب ہے کہ اس کو لے کر جہاں ہندوؤںکو درد وغم اور تکلیف دہ تھی، وہیں مسلمانوں کے دل بھی اس سانحہ کے بارے میں چھلنی ہوئے ،انہیں بھی دُکھ اور افسوس ہوا۔ کون ایسا انسان ہوگا جو کسی کی موت پر خوش ہو ؟ چنانچہ متعدد مسلم رہنماؤں نے اپنی اولین فرصت میں حملے کے متاثرین سے تعزیت بھی کی اور ہمدردی بھی جتائی ۔اس کے باوجود فرقہ پرستی کا لاوا خصوصاً صوبہ جموں میں پھوٹ جانا یہاں کے ہندو مسلم اتحاد پر ایک ایسا سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اگر جموںمیں ہندو مسلم بھائی چارہ صرف خوش نما نعرہ بازیوں تک محدود ہے تو اس نعرے کی کیاکوئی قدروقیمت بھی ہے؟ اگر بات یہ نہیں تو ہر وہ معاملہ جو ہندو مسلم معاملات سے بالکل پرے ہوتا ہے، کھینچا تانی کر کے اسے یکایک ہندو مسلم تصادم میں کیوں بدل دیا جاتا ہے ؟ سوال یہ بھی ہے کہ اگر بالفرض صوبہ جموں کے یہ صرف وہ چند لوگ شر پسند ہیں جو فساد کرواکے اپنی سیاسی مٹھیاں گرماتے ہیں اور اگر لوگوں کی اکثریت ذات پات ، چھوت چھات ، بھید بھاؤ سے بالاتر ہوکر انسانی ر شتوں، بھائی چارے، اتحاد واتفاق ،امن وآشتی کے حق میں ہے تو یہ چند شر پسند اور پاپی عناصر ہمیشہ اس دماغ دار اکثریت پر بازی کیوں لیتے ہیں ؟ اس بارے میں دو ہی ممکنہ باتیں ہوسکتی ہیں: اول یہ کہ ہمیں اسے حقیقت مان کر چلنا ہوگا کہ ہندو مسلم اتحاد یا بھائی چارہ ایک ڈھکوسلہ ہے جو مختلف تقریبات میں دکھاوے تک مخصوص ہے، اللہ اللہ خیر صلا۔ دوم اگر ہندومسلم ایکتا ایک ابدی حقیقت ہے تو اسے زک پہنچانے والا جو کوئی بھی ہو ،اس کے خلاف ہمیں مشترکہ طور آگے کچھ کرنا ہوگا۔جموں میں مسلم بستیوں کے ساتھ گزشتہ دنوں پیش آئے اس معاملے کایہ پہلوبھی چشم کشا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جموں میں ہندو مسلم بھائی چارہ کسی زمانے میں رہا ہوگا لیکن اب لوگوں کی سوچ، ان کی ترجیحات، خیالات اور نظریات یکسرتبدیل ہو گئے ہیں۔ ہمیںاس سو ال کا بھی جواب تلاش کر نا چاہیے کہ حساس مواقع پر آخر ذات برادری اور دین دھرم کی تقسیم سے اوپر اُٹھ کر قومی ایکتا ماننے والی اکثریت  فرقہ پرستوں کی اقلیتپر غالب کیوں آتی ہے ؟ وقت کا تقاضا ہے کہ جموں میں ہر فرقے اور طبقے کے وسیع الخیال لوگوں کو ان حالیہ فسادات پر سنجیدہ غور وفکر کر کے ایک امن پسندانہ حکمت عملی وضع کر نی چاہیے اور وہ تمام ممکنہ مثبت اقدامات کرنے چاہیے جو ہندو مسلم بھائی چارے کو نعرہ نہیں بلکہ ایک ٹھوس حقیقت بنائیں اور جو اس صحت مند سوچ کی رگ رگ میں عمل کا خون دوڑا ئیں تاکہ یہ نعرہ دکھاوا اور تماشہ نہ ہو بلکہ اس کا حقیقت کے ساتھ عملی سروکار ہو اور یہ وسیع الخیالی لوگ ہر آزمائش پر پوار اترتے ہوئے اپنا سر فخر کے ساتھ بلند کر کے دنیا کو دکھائیں کہ انسانیت سب چیزوں پر مقدم ہے ۔انہیں ببانگ دہل کہنا ہوگا کہ جموں نے نومبر سنتالیس میں بہت جھیلا اور سہاہے ،اب یہاں ہندو مسلم بھائی چارے کو کسی بھی نام سے زک پہنچانے والوں کا قلع قمع کر نا ریاست کی وحدت اور سالمیت قائم رکھنے کا بنیادی تقاضا ہے۔
  صوبہ جموں کےمشہور شہر پونچھ کی اگر بات کی جائے تو آج تک بڑی بڑی عوامی تقریبات اور سبھاؤں میں ہندو مسلم بھائی چارے کا بہت دم بھرا جاتا رہاہے اور دونوں مذاہب کے پیروکار انسانیت کی ایک  ہی چھری تلے جمع ہوتے رہےہیں کہ ضلع پونچھ سے باہر سے آنے والے مہمان اس ظاہر داری کو سچ مان کر اس سر زمین کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی قسمیںکھاتے ہیں لیکن پلوامہ ہلاکتوں کے دوسرے روز اس ظاہرداری کابھانڈا دفعتاً پھوٹ گیا اور حقیقت ِحال کا پردہ فاش ہوا۔  اس رنج دہ واقعہ کو جس کا ہندو مسلم دھرم یا مذہب سے کوئی سروکار نہیں، اُسے پونچھ میں ہندو مسلم فساد کا چولہ کیوں پہنا دیا گیا ؟ اس سے   پونچھ میں ہندو مسلم بھائی چارے کا نعرہ لگانے والی اکثریت ایک دفعہ پھر شرمسار ہوئی ۔ وقت کی پکار ہے کہ پونچھ کا ہر ذمہ دار اور حساس ہندو ہویا مسلمان ،اس کو چاہیے کہ ضلع میں بھائی چارے کو بنا ئے رکھے اور فرقہ وارانہ ا خوت کو نعرہ بازی کے بجائے ایک ناقابل تردید سماجی اور سیاسی حقیقت ثابت کرنے کے لئے  فرقہ پرستانہ دنگے فساد بر پا کر نے کے درپے عناصر کو عملی طور لگام دیں ۔ ایسے بدقماشوں کی کڑے الفاظ میں مذمت کر یں اور ضلع میں بھائی چارے کے مخالفین کو سماج کے ساتھ ساتھ قانون کے سامنے ننگا کریں ۔ اب ایکتا اور وحدت کی محض نعرہ بازی سے زیادہ عرصہ کام نہیں چلنے والا ہے ۔ اس لئے زمینی حالات اور عوامی یکجہتی کاتقاضا ہے کہ پونچھ میں ہندو مسلم بھائی چارے کو تقویت دینے کی نیت سے یہ بھی پتہ لگایا جائے کہ وہ کون سے فسادی عناصر ہیں جنہوں نے اعلیٰ پیر پونچھ میں پتھر بازی اور گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کے علاوہ چند ایک گھرانوں کو بھی نقصان پہنچایا ۔اگر آج پونچھ کی شریف و نفیس اور محب وطن اکثریت اس روگردان اقلیت کے منفی رویوں پر روک نہیں لگا تی جو یہاں ہندومسلم اتحاد میںدراڑیں ڈال کر اپنا الو سیدھا کر نا چاہتی ہے تو پونچھ کے ذی شعور لوگوں کے قلب و ذہن میںیہ سوال ہمیشہ کلبلا تا رہے گا کہ کہیں ہندو مسلم بھائی چارے کی بات کرنے والی اکثریت صرف ظاہر میں ہی وسیع القلب تو نہیںہے جب کہ اندرونی طوروہ بھی اسی فسادی اقلیت کا حصہ ہے جو فرقہ وارانہ لڑائی کے لئے ہمیشہ کمر کسے تیار رہتی ہے ؟ اس غلط فہمی کا ازالہ کرنا اسی انصاف پسند اورامن پرور طبقےکی ذمہ داری ہے جو جموں کو انسانی وحدت، بھائی چارے ، حُب الوطنی اور ایکتا کا پھلتا پھولتا چمن بنانااور دیکھنا چاہتا ہے ۔ 
رابطہ 9419669786